لاہور کے پرانے ائیرپورٹ کی اراضی کو پلاٹ بنا کر کتنے میں نیلام کردیا گیا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار واصف ناگی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔جس طرح لاہور کینٹ بورڈ نے میاں میر چھائونی (لاہور کینٹ) کی تمام سڑکوں کے پرانے نام بھی لکھ دیے ہیں، اسی طرح کارپوریشن/ ایل ڈی اے کو بھی چاہئے کہ زمان پارک کے ساتھ اس کے دو قدیم نام سندر داس پارک اور

پی ایل ایچ پریڈ گرائونڈ بھی لکھ دیں۔ اس علاقے کی ایک اور خوبصورتی یہ ہے کہ یہاں جو قدیم کوٹھیاں موجود ہیں۔ ان کا فن تعمیر دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ لاہور میں اب صرف دو تین علاقے ہی ایسے رہ گئے ہیں جہاںپرانی کوٹھیاں اپنے اصل تعمیراتی حسن کے ساتھ موجود ہیں۔ ایک ماڈل ٹائون، دوسرا سندر داس پارک (زمان پارک)، میو گارڈن اور جی او آر ون، ڈیوس روڈ وغیرہ۔ کبھی فیروز پور روڈ اور ایمپریس روڈ پر بھی کئی قدیم کوٹھیاں تھیں۔ اگر کسی کو لاہور کے پرانے اصل مکان دیکھنے ہیں تو لاہور کے تیرہ دروازوں، کرشن نگر، نہرو پارک، سنت نگر، دیوسماج روڈ اور شاہی محلہ میں اب بھی موجود ہیں۔1934ء میں یہاں کئی گھروں کے مرکزی دروازوں پر سندرداس پارک / روڈ لکھا ہوا تھا۔ 1857ء میں اسے پنجاب لائٹ ہائوس پریڈ گرائونڈ کہا جاتا تھا اور یہ کبھی ایچی سن کالج کا حصہ بھی رہا۔ 1947ء میں ایم ای رجمنٹ جس کا یہاں قیام تھا، اس کو ختم کر دیا گیا۔ کہتے ہیں کہ لاہور کے 1935ء کےنقشے میں ایچی سن کالج کے بیک سائیڈ اور میو گارڈن کے جنوب کے علاقے کو پی ایل ایچ گرائونڈ میں دکھایا گیا ہے۔ یہ بڑا پرسکون علاقہ ہے جہاں صبح کے وقت بھی خاموشی ہوتی ہے۔ یہ شہر کا مہنگا ترین علاقہ ہے۔ شہر میں ہوتے ہوئے بھی کسی کائونٹی کا علاقہ لگتا ہے۔ ایک معروف کرکٹر کا گھر ایچی سن کالج کے بالکل ساتھ تھا، انہوں نے اپنے گھر سے ایچی سن کالج کی گرائونڈ کی طرف ایک چھوٹا سا دروازہ نکالا ہوا تھاوہ اس دروازے سے اکثر وہاں سیر کرنے جاتے تھے جو ایچی سن کالج کے ایک سابق پرنسپل شمیم خاں (ولی خاں کے بھتیجے) نے بند کرا دیا تھا۔ اس پر بڑا جھگڑا ہوا تھا۔ یہ واقعہ شمیم خاں نے ہمیں خود سنایا تھا۔ ایک اہم خبر یہ ہے کہ لاہور کے پہلے اور تاریخی ایئرپورٹ کو اب ختم کرنے کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں۔ اس کے پانچ پلاٹ 21ارب روپے میں نیلام ہو چکے ہیں۔قائداعظمؒ اس ایئرپورٹ پر 1945ء سے 18دسمبر 1947ء تک گیارہ مرتبہ تشریف لائے تھے۔ وہ ہندوستان کے مختلف شہروں کے ہوائی اڈوں سے یہاں آتے رہے، ہم نے اس ایئرپورٹ کے کبھی تین رن وے بھی دیکھے ہیں۔ آج صرف ایک رن وے رہ گیا، دو رن وے پر کوٹھیاں اور کالونیاں بن چکی ہیں ہمیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ ہم نے اس تاریخی ایئرپورٹ پرموٹرسائیکل اور پھر موٹرکار بھی چلائی ہے بلکہ کار تو ہم نے 160کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلائی ہے۔

Comments are closed.