لاہور ہائیکورٹ کی وارننگ

لاہور (ویب ڈیسک )چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس قاسم خان نے سوشل میڈیا پر توہین مذہب کیخلاف درخواستوں پر سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی،عدالت نے ریمارکس دئیے کہ ریاست مدنیہ کانعرہ کافی نہیں عمل بھی ضروری ، یاد رکھیں اگر سرکار نے اپنی ذمہ داری پوری نہ کی تو نتائج کیلئے تیار رہے،

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کروائی کہ عدالت کو مکمل معاونت فراہم کی جائے گی، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ عدالت کو بتایا جائے کہ بیرون ملک سے توہین آمیز مواد سوشل میڈیا پر ڈالا جاتاہے تو اس کی کیا حیثیت ہے؟سینئر وکلاء اس نقطے پر عدالت کی معاونت کریں، کریمنل کیس میں ریاست مدعی ہوتی ہے اگر ریاست کارروائی نہ کرے تو کیا کیا جاسکتا ہے، عدالت اس اہم نقطے پر تفصیلی فیصلہ جاری کرے گی، ریاست مدعی ہونے کے باوجود کارروائی نہ کرے تو عدالت اس پر فیصلہ دے سکتی ہے؟ بتایا جائے کہ بیرون ملک سے توہین آمیز مواد ڈالنے والے شخص کیخلاف کارروائی کس قانون کے تحت کی جاسکتی ہے، ہمیں اس معاملے کو بڑی سنجیدگی سے دیکھنا ہوگا، سوشل میڈیا پر چل گیا کورونا ویکسین لگوانے والے دو سال بعد جان بحق ہوجائینگے، اس طرح کی چیزیں لوگوں کو تباہ کردیتی ہیں۔ مزید برآں گستاخانہ خاکوں کے خلاف درخواست پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیا کہ ریاست مدنیہ کانعرہ کافی نہیں عمل بھی ضروری ہے ،چیف جسٹس نے قرار دیا کہ وفاقی حکومت آئین کا سہارا لے کر تو بچ جائے مگر آخرت میں شاید نہ بچ سکے عدالت نے ریمارکس دئیے کہ حکومت سائبر کرائم کیسوں میں اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہی ہے، ایسے لوگوں معاشرے کو تباہ کر رہے ہیں، عدالت ذمہ داران کا تعین کرے گی اور کسی کو نہیں چھوڑے گی ، اگر کسی کیس میں سرکار مدعی ہونے کے باوجود نوٹس نہیں لیتی تو عدالت کو آگاہ کریں عدالت اس ایشو پر فیصلہ دے گیاگر کسی ایسی چیز کو نیٹ پر اپ لوڈ کر دیا جائے جو پاکستان میں جرم ہو تو اس جرم کی ذمہ داری کس پر عائد ہو گی؟ یا تو اس ویب سائیٹ کو بلاک کر دیا جائے یا ذمہ داران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جانی چا ہیے، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس قاسم خان نے کیس کی سماعت 2 جون تک ملتوی کر دی، عدالت نے عدالتی معاونین کو عدالتی فیصلوں کے حوالوں سے معاونت کرنیکی ہدایت کردی،عدالتی معاون نے کہا کہ پاکستانی قوانین کی روشنی میں ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی ہو سکتی ہے،عدالت نے ایف آئی اے سمیت دیگر فریقین کو ریکارڈ سمیت طلب کر رکھا ہے،چیف جسٹس نے قرار دیا کہ وفاقی حکومت پب جی پر پابندی لگا سکتی ہے تو ایسے خاکوں پر کیوں نہیں لگا سکتی؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *