لندن بیٹھے نواز شریف کی تقریر کو شہباز شریف بھگتے گا یا مریم نواز ؟ حالات کیا پیشگوئی کر رہے ہیں ؟

لاہور (ویب ڈیسک) آل پارٹیز کانفرنس سے اپوزیشن کو کچھ حاصل حصول ہو نہ ہو مگر یہ ماننا پڑے گا کہ جانِ محفل میاں نواز شریف کی تقریر ہی تھی۔ یہ گفتگو کوئی مصلحت پسند نہیں کرسکتا۔ اس خطاب سے ایک بات واضح ہو گئی کہ ان کا لندن جانا کسی این آر او

کا نتیجہ نہ تھا بلکہ حالات نے پانی کی طرح اپنا راستہ خود بنایا تھا۔نامور صحافی انجم فاروق اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ میاں صاحب کانفرنس میں بولے اور خوب بولے۔ اتنا بولے کہ شہباز شریف کی ساری محنت کوگدلا کر دیا۔ صرف یہی نہیں، پوری پارٹی کو وہاں لے گئے جہاں یہ ایک سال پہلے کھڑی تھی۔ وہی بے یقینی، وہی بے قراری، وہی بے بسی۔ نواز شریف نے اُن سارے موضوعات پر بات کی جن کو چھیڑنا قدرے ہمت و حوصلے کا کام ہے، اس کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ میاں صاحب کے پاس گنوانے کے لیے ہے کیا؟ وہ تو پہلے ہی ساری قیمت ادا کر چکے۔ مجھے ذاتی طور پر کوئی حیرانی نہیں ہوئی کہ میاں صاحب نے اتنی بے باک تقریر کرنے کا خطرہ کیوں مول لیا؟ میری ذاتی معلومات کے مطابق مسلم لیگ ن کے قائد گزرے چار ماہ سے یہ تقریر کرنا چاہ رہے تھے مگر کوئی مناسب موقع دستیاب تھا نہ خاندان کی سپورٹ۔ جس دن انہیں یقین ہو ا تھا کہ حکومت کسی طور مریم نواز کو لندن بھیجنے پر رضامند نہیں تو انہوں نے حالات سے بغاوت کرنے کا ارادہ اپنی فیملی کے سامنے رکھا جسے بہت کوششوں کے بعد ملتوی کروایا گیا۔ یہ بات طے ہے کہ شاید اب بھی میاں نواز شریف یہ تقریر نہ کرتے‘ اگر مریم نواز پاکستان میں نہ ہوتیں۔ میاں صاحب کشتیاں جلانے کو تیار ہیں مگر مسئلہ یہ ہے کہ ان کی پارٹی اور خاندان انہیں ایسا کرنے سے مسلسل روک رہے ہیں مگر کب تک؟

دوسری طرف حکومت نے بھی نواز شریف کو اس نہج پر پہنچانے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ خطاب کچھ دن اور لیٹ ہو سکتا تھا مگر حکومت نے ایسا دانستہ طور پر نہ ہونے دیا۔ اس کی وجہ میں آپ کو بتاتا ہوں مگر اس سے پہلے سلمان خان کی فلم ”Wanted‘‘ کا ایک ڈائیلاگ یاد آ رہا ہے: ”غنی بھائی آپ انڈیا آئے نہیں بلکہ آپ کو ٹریپ کرکے لایا گیا ہے۔ پولیس نے آپ کے لیے حالات ایسے بنا دیے تھے کہ آپ کے پاس واپسی کے سوا کوئی راستہ نہ تھا‘‘۔ جس جس نے یہ فلم دیکھی ہے اسے میری بات زیادہ آسانی سے سمجھ آ جائے گی۔ واقفانِ حال نے خبر دی ہے کہ حکومت چند ماہ سے بہت پریشان تھی کہ شہباز شریف کی گرفتاری کیوں نہیں ہو رہی؟ میاں نواز شریف اور مریم نواز خاموش کیوں ہیں؟ مسلم لیگ ن کے سارے رہنما ایک ایک کرکے ضمانت پر کیوں رہا ہو رہے ہیں؟ کہیں کوئی ”گیم چینجر‘‘ سارے پلان تبدیل تو نہیں کروا رہا؟ کہیں اسلام آباد کا موسم بدلنے والا تو نہیں؟ یہ وہ خدشات تھے جو حکومت کی نیندیں اڑائے ہوئے تھے۔ حکومت اس کوشش میں تھی کہ میاں نواز شریف کچھ بولیں تاکہ اندازہ ہو سکے کہ آگ ابھی تک برابر لگی ہوئی ہے یا دلِ بے چین کو قرار آ چکا۔ دوسرا عوام کو پتا چل جائے کہ وہ کتنے بیمار ہیں اور کتنے نہیں؟ یہی وجہ تھی کہ گزشتہ دو ماہ سے کبھی مریم نواز اور کبھی نواز شریف کو ”پکارا‘‘ جاتا تھا، کبھی کہیں سے‘ کبھی کہیں سے۔ حکومت کامیاب ہوئی اور نواز شریف بول پڑے۔ اب حکومت شاد ہے بہت شاد۔ پتھر بولیں تو لہو نکلتا ہے‘ جذبات بولیں تو آنسو۔ میاں نواز شریف نے جو کہنا تھا کہہ دیا اب دیکھنا یہ ہے کہ ان کی پارٹی کا لہو نکلتا ہے یا آنسو؟ایک بات نوشتۂ دیوار ہے کہ اس خطاب کا ردعمل آئے گا جس کو بھگتنا شہباز شریف کو ہے یا ان کی پارٹی کو۔میاں صاحب تو لندن میں ہیں اور ان کا فی الفور واپسی کا ارادہ بھی نہیں۔ شہباز شریف، رانا ثنا اللہ، شاہد خاقان، احسن اقبال اور خواجہ آصف تیاری کریں‘ اس تقریر کا لگان انہوں نے بھرنا ہے۔نواز شریف تو لیڈر ہیں‘ وہ اب کبھی قید میں نہیں جائیں گے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *