لندن مقیم پاکستانی خاتون صحافی کا حیران کن انکشاف

لندن (ویب ڈیسک) جب سے عمران خان نے سرعام اپنی بیگم بشریٰ بی بی کا شکریہ ادا کیا تقریر کے شروع ہونے سے پہلے، کہ ’’میں بشریٰ بیگم کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے میرے لئے بہت دعائیں کیں‘‘۔ تب سے ہمیں عمران خان کے یہ الفاظ ہضم نہیں ہو رہے ٹھیک

نامور خاتون صحافی رخسانہ رخشی اپنے ایک آرٹیکل میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ اسی طرح جس طرح اپوزیشن کو ان کی تقریر ہضم نہیں ہو رہی۔ بھلا میاں بیوی کی خوبصورت زندگی میں ہر لمحہ حسین ورومان پرور ہوتا ہے ہر تنہائی کی ساعت انہیں ایک دوسرے میں گم ہونے کا موقع دیتی ہے جس میں وہ ایک دوسرے کی تعریف سے لے کر ایک دوسرے کو خوش رکھنے پر شکریہ ادا بھی کر سکتے ہیں۔ تو سرعام اپنی بیگم کا شکریہ ادا کرنا وہ بھی ان حالات میں جب ملک میں پھیلے گہرے مسائل توجہ طلب ہوں جب کشمیر کی وادی خونی منظر پیش کر رہی ہو تو ایسے میں صرف اپنے شوہر کیلئے دعا کرنا وہ بھی سرعام شوہر کا اظہار تشکر۔ سبھی جانتے ہیں کہ یہ رشتے جذباتی وابستگی،دنیاوی رسم ورواج سے ہٹ کر ایک الگ سادہ دلوں کا روحانی ملاپ تھا جو محترمہ پیرنی صاحبہ کو الہام کے وار سے حاصل ہوا جس میں ابرو کے تیر کمان سے لے کر دوسری ادائوں کے وار کی ضرورت نہیں پڑی بس آسانی سے گہرا روحانی تعویذ وعملیات کا عمل شروع ہوا اور پھر دونوں نے اپنی اپنی منزل کو پا لیا۔ اس سلسلے میں کافی لے دے ہوئی مگر ہر قدغن سے خود کو خود ہی آزاد کرکے اپنے روحانی ملن کا اہتمام کر لیا۔یہ تمام معاملے کا موضوع کلام تو تب سے شروع ہے جب سے اس رشتے کو روحانی ملاپ کا نام دیا مگر ابھی سوشل میڈیا نے ٹی وی کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ محترمہ بشریٰ کا عکس آئینے میں

نظر نہیں آتا۔ یعنی وہ آئینے کے سامنے کھڑی ہوں تو آئینہ ششدر رہ جاتا ہے۔ آئینہ اندھا ہو جاتا ہے۔ آئینہ الٹا ہو جاتا ہے۔ آئینہ میں بال آجاتا ہے۔ آئینہ پلٹ جاتا ہے یا پھر آئینہ پاکیزہ پیکر، پاکیزہ حسن وحور کی چکا چوند سے دھندلا جاتا ہے اس میں ایسے نورانی شخصیت کو تاب لانے کی طاقت نہیں رہتی کہ سامنے آنے پر عکس دکھا سکے یا پھر دھندلا سا عکس ہی دکھا دے۔یہ تو ہم نے سنا تھاکہ بعض پاکیزہ ہستیاں جب تک حجاب کے حوالے میں خود کو اچھی طرح لپیٹ سمیٹ نہ لیں تب تک سورج نہیں نکلتا اور ایسی مقدس ہستیوں کا سایہ بھی زمین پر کسی نے پڑتے نہیں دیکھا ہوتا۔ تو کیا پھر بشریٰ صاحبہ ایسا مقدس پیکر ہیں کہ جن کی تجلی سے نور سے کوئی شے بھی اپنے مدار پر نہیں ٹھہر سکتی۔ ویسے عمران خان نے بھی ایک مرتبہ ذکر کیا تھا کہ بشریٰ بی بی کا آج تک کسی نے چہرہ نہیں دیکھا وہ بے حد باپردہ خاتون ہیں۔ وہ کافی علوم نورانی پر یقین رکھتی ہیں بلکہ ان پر عبور بھی رکھتی ہیں۔ عمران خان نے اس بات کا برملا اظہار کیا تھا کہ میں نے بہت سے غیب کا علم رکھنے والے دیکھے ہیں مگر جو علم پنکی بی بی کے پاس ہے وہ میں نے کسی اور میں نہیں دیکھا۔ عمران خان صوفیا پر اور روحانی عملیات پرخاص اعتقاد رکھتے ہیں اپنی ذاتی زندگی میں وہ روحانی اعتقاد کے قائل رہے ہیں۔ کئی پیر انہیں ان کامیابی کے بارے میں

اور اپنی والدہ کا نام روشن کرنے کے بارے میں بتاتے رہے ہیں۔ ویسے تو سبھی کچھ خدا کے ہاتھ میں ہےجو کل کائنات کا مالک ومختار ہے اور ہم سب اس کے محتاج ہیں مگر بعض ان پیروں فقیروں کے محتاج لوگ اور ان کے رحم وکرم پر رہنے والے ہیں۔یوں تو تمام سیاستدانوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ اپنی کرسیوں کے استحکام کیلئے کسی نہ کسی بزرگ سے دعا کراتے رہتے ہیں اور اس سلسلے میں سیاسی لوگ ایک دوسرے کے بزرگ سے استفادہ کرتے رہتے ہیں۔ فلمی ہیروئنوں کی طرح سیاستدان بھی ایک دوسرے کے روحانی بزرگوں سے رابطے میں اس لئے بھی رہتے ہیں کہ فلاں اداکارہ اگر عروج پر پہنچ گئی ہے تو دوسری ہیروئن اس کیلئے دعا کرنے والے بزرگ تک رسائی کیلئے ہر ممکن اور ہر حال میں کوشش کرتی ہے اور بزرگ کی دعائیں خریدنے کے لئے بڑی سے بڑی رقم ادا کرتی ہے۔ اسی طرح سیاستدان بھی ایک دوسرے کے بزرگ اور پیر چھینتے رہتے ہیں ۔ مانیکا خاندان بھی گدی نشین لگتے ہیں ان کے پاس بھی مختلف سیاستدانوں کی بھیڑ لگی رہتی ہو گی۔ یہ پیر بزرگ سیاستدانوں کو کبھی پہاڑ کی چوٹی پر رہنے کا مشورہ دیتے ہیں کبھی پانی کے قریب رہنے کا اور کبھی جنگل میں آستانہ بنانے کا۔ ایک پیر صاحب تو اتنے لاڈلے تھے کہ بے نظیر بھٹو سے ہیلی کاپٹر کی سیر کرنے کی فرمائش کر ڈالی ۔ کچھ پیر ایسے بھی گزرے کہ انہوں نے جہاں جہاں جس بھی سیاستدان کیلئے چھڑی گھمائی اور وہ وزیر یا وزیراعظم ہو کر نکلا۔مگر بشریٰ بی بی تو ان سب پیروں میں پیر کامل نکلیں اپنے آستانہ پاک پتن پر عمر ان خان کو ایسا قید کیا کہ 2015سے لے کر آج تک وہ ان کے اسیر کامل ہو کر رہ گئے۔ پھر تو واقعی بشریٰ بی بی کا وجود رابعہ بصری کی اہمیت سے کم نہیں کہ ان کا عکس واقعی آئینے میں نہیں ابھرتا ہو گا وہ کس قدر پاکیزہ ہستی ہیں کہ آج تک کسی نے انہیں دیکھا ہی نہیں وہ تصویریں جو کبھی نظر آجاتی ہیں وہ نہ جانے کس کی ہیں؟

Sharing is caring!

Comments are closed.