لوگ اولمپئین نوید عالم کی زندگی میں ہمیشہ انکی راہ میں رکاوٹ بنے رہے ، وہ بھی آنسو بہاتے اسکے جنازے میں پہنچ گئے ۔۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار محمد اکرم چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔لاہور سے شیخوپورہ بہت سفر کیا ہے لیکن ایسا سفر کبھی نہیں کیا کہ نہ جاتے ہوئے کچھ سمجھ آئے نہ واپسی پر قدم ساتھ دیں، ایسی جگہ، وہ گلیاں، وہ بازار یا وہ میدان جہاں نوید عالم ساری زندگی گھومتا پھرتا رہا،

ہنستا مسکراتا، قہقہے لگاتا، لوگوں سے الجھتا اور ہاکی کھیلتا رہا ہو، انہی گلیوں بازاروں اور میدانوں سے وہ اپنا آخری سفر کرتے ہوئے منوں مٹی تلے سو گیا ہے۔ اس کے جنازے پر بہت لوگ تھے، دعا کرنے والے، ورلڈ چیمپیئن کو الوداع کرنے والے، اسے دعاؤں میں رخصت کرنے والوں کی کمی نہ تھی، شیخوپورہ والوں نے اپنے عالمی چیمپیئن کو پورے اعزاز اور دعاؤں کے ساتھ رخصت کیا ہے۔ میں نے اس کے جنازے میں ان لوگوں کو بھی دیکھا ہے جنہوں نے گذشتہ بیس سال میں نوید عالم کو سب سے زیادہ اذیت دی ہے۔ ان لوگوں کی وجہ سے نوید عالم کی زندگی مشکل ہوئی، وہ ساتھی کھلاڑی جو اقتدار میں آنے کے بعد سب سے پہلے نوید عالم پر پابندی لگاتے رہے۔ وہ سب چہرے وہاں موجود تھے۔ ایسے لوگ جن سے ایک اختلافی آواز برداشت نہیں ہوتی تھی اور وہ ہر وقت اس کا راستہ روکنے میں مصروف رہتے تھے۔ وہ سب شیخوپورہ میں نوید عالم کے جنازے پر نظر آئے۔ جب وہ زندہ تھا تو اس وقت خیال نہ کیا، جب وہ گراؤنڈ میں بھاگنے کے قابل تھا اس وقت راستہ روکتے رہے، جب وہ قومی کھیل کی خدمت کر سکتا تھا اس وقت راستے بند کرتے رہے اور جب وہ کچھ نہیں کر سکتا تو سب اس کے پاس پہنچ گئے۔ ہم ایسے ہی قبر پرست ہیں، زندہ لوگوں کی ناقدری اور آنکھیں بند کر لینے والوں کے لیے آنسو بہانے سب سے پہلے پہنچتے ہیں۔ آج ان لوگوں کو نیند نہیں آئے گی جو یہ جانتے ہیں کہ وہ نوید عالم کے ساتھ کیا ظلم کرتے رہے ہیں۔ وہ بیماری کی حالت میں دنیا سے گیا ہے اللہ اس کے درجات بلند کرے لیکن اس کی بیماری کی وجہ کوئی اور نہیں اس کے ساتھی کھلاڑی ہیں،

یہ صدر پاکستان ہاکی فیڈریشن بریگیڈیئر خالد سجاد کھوکھر، یہ سیکرٹری پاکستان ہاکی فیڈریشن اولمپیئن آصف باجوہ، اولمپیئن رانا مجاہد علی خان اور اس قبیلے کے تمام افراد جو ہر وقت پاکستان ہاکی فیڈریشن میں بیٹھ کر یہی منصوبے بناتے رہتے تھے کہ نوید عالم کا راستہ کیسے روکنا ہے۔ کیا کسی میں ضمیر نام کی کوئی چیز ہے۔ ایک ہنستے مسکراتے چہرے کی زندگی میں آگ لگانے والے میت پر پھول برسانے کے لیے حاضر ہو گئے۔ نوید عالم کا انتقال ہاکی کھیلنے والوں کے لیے بھی سبق ہے، اس کھیل کی سیاست کرنے والوں کے لیے بھی سبق ہے اور اس کھیل سے جڑے ہر فرد کے لیے بھی سبق ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ساتھی کھلاڑیوں کی زندگی میں آسانیاں پیدا کریں۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکرٹری اولمپیئن آصف باجوہ اور ان کے ساتھیوں کو مبارک ہو کہ اب انہیں نوید عالم پر پابندی نہیں لگانا پڑے گی، اب انہیں کسی اپوزیشن کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، اب کوئی انہیں للکارنے کے لیے موجود نہیں ہے۔ دفن ہوئی ہاکی کا نوحہ کرنے والے نوید عالم پر پابندی لگانے والوں نے بھی اپنے دورِ اقتدار اللہ کو جواب دینا ہے۔ بہرحال قومی کھیل کا مزاحمتی کردار شیخوپورہ میں اپنے والد کے ساتھ دفن ہو گیا ہے۔ نہ اس نے ہاکی کے علاوہ کوئی کام کیا اور ہاکی والوں نے اسے ہاکی کا کام کرنے نہیں دیا۔ یہاں تعزیتی بیان جاری کرنے سے بہتر ہے کہ نوید عالم کے خواب کو تعبیر دینے کے لیے کام کریں۔ ہاکی کے کھوئے ہوئے مقام اور وقار کے لیے عملی اقدامات کریں۔ کاش کہ قومی کھیل سے تعلق رکھنے والا کوئی کھلاڑی کبھی کسی مشکل میں نہ آئے، کبھی وہ بیمار نہ ہو، کبھی اسے کسی کی مدد کی ضرورت پیش نہ آئے۔ ہمارے لیے اس سے بڑی شرمندگی کوئی نہیں ہے کہ دنیا میں سبز ہلالی پرچم بلند کرنے والوں کو کسی مشکل وقت میں حکمرانوں کی طرف دیکھنا پڑتا ہے۔ وہ نامور کھلاڑی جن سے آٹو گراف لینے کے لیے لوگ گھنٹوں انتظار کرتے ہیں ایک وقت ایسا آتا ہے کہ ان کے اہلخانہ حکمرانوں کے دفتروں کے بہت انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔ اولمپیئن منصور احمد کی موت کا دکھ کم نہیں ہوا تھا کہ نوید عالم بھی چل بسا۔ دونوں کی زندگی کے آخری ایام ہمارے کھیل دشمن رویوں اور ہیروز کو نظر انداز کرنے کی روایت کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں۔قارئینِ سے نوید عالم کی مغفرت کے لیے دعا کی درخواست ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *