لڑکی کا چکر : چند روز قبل کیمپس پل کے قریب لینڈ روور کو آگ لگنے کے واقعہ میں مزید انکشافات ۔۔۔۔ ساری کہانی سامنے آگئی

لاہور (ویب ڈیسک)کینال روڈ پر چند دن قبل لگژری گاڑی ”رینج روور “کے ڈرائیور کی جانب سے پولیس کانسٹیبل منور خان کو کچلنے اور پھر اس میں آگ بھڑک اٹھنے کا معاملہ شروع ہوا جس میں اب اہم پیشرفت ہوئی ہے اور تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ رہی ہیں ۔بتایا جارہا ہے کہ ہوٹل میں اداکارہ کو

ملنے کے لیے آیا تھا جہاں اس کے پاس کمرہ لینے کے پیسے بھی موجود نہیں تھے ملزم حمزہ نے اپنے اپ کو حساس ادارے کا افسر ظاہر کیا جس کے بعد ہوٹل انتظامیہ نے پولیس کو اطلاع دی، پولیس اہلکار حمزہ کو گاڑی میں لے کر تھانے بھی پہنچے تھے تاہم حمزہ نے گاڑی میں پیسے ہونے کا ڈرامہ کیا اور گاڑی تھانے کے اندر لگانے کی اجازت لی تھانے میں گاڑی لگانے کے بہانے سے حمزہ گاڑی کو دوڑا کر لے گیا گاڑی میں اہلکار کے ساتھ ملزم حمزہ کی ہاتھا پائی بھی ہوئی تھی، ملزم کے خلاف دو درخواستیں دھوکہ دہی کی پولیس کو مزید موصول ہو گئی ایک درخواست پٹرول کے پیسے نہ دینے اور ایک فراڈ کی درخواست دی گئی ۔پولیس ذرائع کے مطابق گاڑی میں موجود شخص درحقیقت ” حمزہ ٹیکسٹائل ملز “ کا مالک ہے ، حمزہ جاوید کو پولیس نے اس الزام میں حراست میں لیا کہ وہ اپنے آپ کو حساس ادارے کا افسر ظاہر کرکہ ہوٹل انتظامیہ کو وارننگز دے رہا تھا۔ ہوٹل سے تھانے جاتے حمزہ جاوید نے مبینہ طور پر منور نامی پولیس اہلکار کو دو لاکھ روپے رشوت کا لالچ دیا تو مہربان کانسٹیبل منور نے انکل کی مشکل آسان کردی اور انکل کو تھانے لیجانے کے بجائے گاڑی میں ڈیل شروع کردی مگر پولیس اہلکار جسے انکل سمجھ رہے تھے وہ انتہائی شاطر نکلا پولیس اہلکار کو کینال روڈ پر گاڑی سے دھکا دیکر پھینکا تو کانسٹیبل گاڑی کے نیچے آگیا شہریوں نے انکل کو پکڑا مگر پھر سے گاڑی میں بٹھا دیا کیونکہ آٹومیٹک گاڑی کسی کو چلانی نہیں آتی تھی جونہی کانسٹیبل گاڑی کے نیچے سے نکلا انکل اپنی رینج روور موٹرسائیکلوں کو گھسیٹتے آگے لے گئے جہاں انکی گاڑی میں آگ بھڑک ہوئی اور وہ پکڑے گئے ،کہانی ختم نہیں ہوئی انکل سے تفتیش کی گئی تو انہوں نے بتایا کہ میری گاڑی میں اڑھائی کروڑ روپے تھے جو میں گاڑی کی پیمنٹ کرنے فیصل آباد سے لاہور آیا تھا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *