لڑکی کو اپنے چکر میں کیسے پھنسایا ؟

پشاور (ویب ڈیسک) پشاور میں بیٹھ کر امریکہ کی ریاست ورجینیا میں ایک کم عمر لڑکی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کو ہیک کر کے اسے چھیڑنے اور پریشرائز کرنے کے الزام میں ایک نوجوان کو گرفتار کیا گیا ہے۔یہ گرفتاری امریکی تحقیقاتی ایجنسی (ایف بی آئی) کی جانب سے پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے

کو موصول ہونے والی اطلاعات پر تحقیاوت کے بعد عمل میں آئی ہے۔حکام نے بتایا کہ وفاقی تحقیاتی ادارے کے سائبر کرائم وِنگ کے بچوں سے متعلقہ جرائم کے سیل کو شکایت موصول ہوئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ پشاور کے ایک علاقے سے ایک شخص امریکہ کی ریاست ورجینیا میں ایک کم عمر لڑکی کو چھیڑ اور پریشرائز کر رہا ہے۔ایف آئی اے کے حکام نے ریڈ کرکے مشتبہ شخص کو گرفتار اور اس کا موبائل فون قبضے میں لے لیا ہے۔ وفاقی تحقیقتاتی ادارے نے ایف آئی آر درج کرلی ہے اور مزید تحقیقات کی جا رہی ہے۔وفاقی تحقیقاتی ادارے نے ایف آئی آر درج کر لی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ملزم مقامی نجی یونیورسٹی کا طالبعلم ہے اور یہ کہ سوشل میڈیا پر اس کا رابطہ ورجینیا میں لڑکی سے ہوا اور اس نے غیر قانونی طور پر لڑکی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کر لی۔حکام کا دعویٰ ہے کہ دوران تفتیش ملزم نے تسلیم کیا ہے کہ اسے غیر قانونی طور پر لڑکی کے سنیپ چیٹ تک رسائی مل گئی جہاں اسے مبینہ طور پر لڑکی کی نامناسب تصاویر بھی نظر آئیں۔ ایف آئی اے کے مطابق تفتیش کے دوران ملزم نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ وہ ان تصاویر کی وجہ سے لڑکی کو پریشرائز کرتا رہا ہے۔حکام کا دعویٰ ہے کہ ملزم نے دوران تفتیش بتایا ہے کہ وہ لڑکی سے مزید تصویروں کا مطالبہ کرتا تھا اور اسی طرح لائیو ویڈیو چیٹ کا مطالبہ بھی کرتا تھا۔تفتیشی ماہرین کا دعویٰ ہے کہ ملزم نے دوسرے لوگوں کے موبائل فون تک رسائی حاصل کرنے کی کوششیں بھی کی ہیں۔سائبر کرائم کی دنیا میں سیکسٹارشن ایک نیا لفظ ہے اور اس بارے میں تحقیقاتی ٹیموں کا کہنا ہے کہ یہ بظاہر تو نامناسب طور پر تنگ کرنے اور چھیڑنے کے زمرے میں آتا ہے لیکن اس سے مراد کسی کو بھی شرمناک کام کے لیے مجبور کرنا ہے۔ ماہرین کے مطابق سیکسٹارشن میں بدلے میں رقم کا مطالبہ نہیں کیا جاتا بلکہ کسی کو اس کی مرضی کے بغیر غلط کام کے بارے میں بات چیت کرنے یا حرکات کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔پاکستان میں اس سے پہلے بھی سائبر کرائم وِنگ نے اس الزام میں ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔ گزشتہ سال مارچ میں کراچی کے ایک شخص کو اسی الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس پر الزام تھا کہ اس کی دوستی فیس بک پر کراچی کی ہی ایک خاتون سے ہو گئی تھی جس کے بعد وہ تین سال تک خاتون کو پریشرائز کرتا اور چھیڑتا رہا۔ خاتون کی شکایت پر ایف آئی اے نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کیا تھا۔

Comments are closed.