لہجے میں شوہریت دیکھ کر خاتون نے بے ساختہ کیا کہہ دیا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار علی عمران جونیئر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔اخبار پڑھو تو خبریں بھی عجیب عجیب سی لگتی ہیں۔۔شوہرنے اپنی بیوی سے کہا۔۔ کیا تم نے اخبار پڑھا ؟ ایک نئی تحقیق کے مطابق یہ معلوم ہوا ہے کہ 15 فیصد خواتین دماغی امراض کی دوائیں استعمال کرتی ہیں۔۔

بیوی نے حیران ہوکے پوچھا تو پھر اس میں کون سی خاص بات ہے۔۔شوہرنے کہا،یہ ایک خطرناک خبر ہے، بیوی نے پوچھا وہ کیسے؟، شوہر بولا۔۔ اس کا مطلب ہے، باقی پچاسی فیصد خواتین بغیردواؤں کے گھوم رہی ہیں۔۔بازار میں شاپنگ کے دوران بیوی نے شوہر سے پوچھا، چار کلو مٹر لے لوں۔۔شوہر نے کہا،ہاں لے لو۔۔بیوی نے کہا، تمہاری رائے نہیں پوچھ رہی، میرا مطلب تھا، چھیل لوگے اتنے، یا پھر کم لوں۔۔؟؟ہمارے پیارے دوست کا کہنا ہے کہ ، ظالم بیوی کا شوہر مظلوم جب کہ مظلوم بیوی کا شوہر ظالم ہوتا ہے۔۔لیکن ہمارا کہنا ہے کہ شوہر چاہے کسی بھی رنگ و نسل کا ہو، کسی بھی ذات کا ہو بیچارہ مظلوم ہی ہوتا ہے، جس طرح سیاست دانوں کا پتہ نہیں ہوتا کہ وہ کس وقت کہاں پائے جاتے ہیں اسی طرح شوہروں کے متعلق بھی نہیں کہاجاسکتا کہ وہ کس وقت کدھر ہوںگے، لیکن بیوہ عورتوں کو سوفیصد یقین ہوتا ہے کہ ان کے شوہر اس وقت کہاں ہوں گے۔بیڈشیٹ کو پرانے زمانے میں ’’چادر‘‘ کہاجاتا تھا۔۔ چارپائی اور صوفوں پر ’’بیڈشیٹ‘‘ کی جگہ چادر ہی ڈالی جاتی تھیں، لیکن اب چادریں صرف مزارات تک محدود ہوکر رہ گئی ہیں۔۔ یا پھر چادر اب اس کہاوت تک محدود ہوگئی۔۔چادر دیکھ کر پیر پھیلائیں۔۔ کہتے ہیں، اکبر بادشاہ نے سردیوں میں غریب عوام کے لئے لحاف بنوانے کا شاہی حکم جاری کیا تاکہ وہ لحاف غریبوں میں تقسیم کئے جاسکیں، بیربل کو نگراں بنایاگیا، ہزاروں کی تعداد میں لحاف تیارکرلئے گئے، اکبر نے لحاف کی ’’ٹرائی‘‘ لی۔۔ اکبربادشاہ کا قد چونکہ لمباتھا اس لئے جب اس نے لحاف اوڑھاتو اس کے پیر باہر نکلنے لگے۔۔اس نے بیربل سے کہا، لحاف چھوٹے بنے ہیں،میرے پیر باہر نکل رہے ہیں۔۔بیربل نے برجستہ کہا۔۔ جتنی چادر دیکھیں اتنے پیر پھیلائیں۔۔ تب سے یہ کہاوت زیرگردش ہے اور مڈل کلاسیوں کے زیراستعمال رہتی ہے۔۔بات ہورہی تھی، بیڈشیٹ کی۔۔بیڈشیٹ ہمیں اس لئے یاد آئی تھی کہ ان دنوں میڈیا میں براڈ شیٹ کے چرچے ہیں۔۔ ویسے چرچے تو مفتی قوی اور حریم شاہ کی وڈیولیکس کے بھی ہیں۔۔ باباجی فرماتے ہیں، ہر بندہ تنہائی میں مفتی قوی اور محفل میں طارق جمیل ہوتا ہے۔۔وہ مزید فرماتے ہیں کہ ۔۔ عجیب لوگ ہیں ہم بھی حکومت سے ڈرتے ہیں نہ قانون سے اور نہ ہی کورونا سے۔۔کہتے ہیں کہ بچپن کی عادتیں جوانی میں بھی ساتھ ہی رہتی ہیں، جو بچپن میں تھوک سے سلیٹ صاف کیا کرتے تھے اب اپنے موبائل فون کی اسکرین اور عینک کے شیشے تھوک سے صاف کرتے ہیں۔۔۔ سردی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔۔باباجی کہتے ہیں۔۔سردی سے تن بدن کانپتا ہے لوگ یہ سمجھتے ہیں بیوی کے خوف سے کانپ رہا ہے۔۔اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔آج کل یہ چلن عام ہوگیا ہے کہ ۔۔آپ کی بات کو توجہ آپ کی حیثیت دیکھ کر ملتی ہے۔۔ خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔

Comments are closed.