لیفٹینٹ جنرل ندیم انجم کو نیا ڈی جی آئی ایس آئی لگانے کی پیشگوئی انڈین میڈیا نے 4 روز پہلے کیسے کر لی اور پاکستان کا اگلا آرمی چیف کون ہو گا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) پاک فوج کے سابق افسر اور نامور کالم نگار لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔میں کل میڈیا پر نئے اور پرانے DGs آئی ایس آئی کی تصاویر کے ساتھ ان کی تازہ تقرریوں و تبادلوں کے جلوے دیکھ رہا تھا۔ سارا دن یہ کھیل جاری رہا۔

کیا پرنٹ میڈیا اور کیا مین سٹریم الیکٹرانک میڈیا، یہی خبر چلتی رہی کہ جنرل فیض حمید کو کور کمانڈر پشاور اور جنرل ندیم انجم کو ڈی جی آئی ایس آئی تعینات کر دیا گیا ہے۔ لیکن یہ خبر کوئی ایسی بریکنگ نیوز نہیں تھی۔ ہمارے ’دوست‘ اور ہمسایہ ملک انڈیا میں تو یہ خبر تین روز سے دی جا رہی تھی کہ پاکستان کا DG آئی ایس آئی تبدیل کیا جا رہا ہے۔ میں بھی ان خبروں کو دیکھ رہا تھا۔ ان میں جنرل ندیم انجم کی وہی تصویر تھی جو ISPR نے اپنے پاکستانی میڈیا کو جاری کی تھی۔ میں یہ خبر دیکھ اور پڑھ کر دل ہی دل میں انڈین میڈیا کے ”جھوٹ“ پر ”تین چار“ حروف بھیج رہا تھا۔ سوچتا تھا کہ انڈیا کی انٹیلی جنس کے ذرائع اتنے قابلِ اعتماد کہاں کہ وہ اتنی بڑی خبر میں تصویر بھی لگائیں اور تفصیل بھی جاری کر دیں …… لیکن کل جب عین مین یہی خبر اپنے میڈیا پر دیکھی اور سنی تو اندیشہ ہائے دور و دراز کے حصار میں گھر گیا…… درج ذیل سوال رہ رہ کر تنگ کرنے لگے۔1۔ کیا انڈین انڈین انٹیلی جنس کی رسائی پاکستانی GHQ کی ملٹری سیکرٹری برانچ تک ہو چکی ہے؟2۔ کیا ایوانِ وزیراعظم کی دیواریں ایسا ”پورس“ بارڈر بن چکی ہیں کہ ان میں جگہ جگہ ”آمد و رفت“ کے بڑے بڑے شگاف پیدا ہو چکے ہیں؟3۔ کیا انڈیا کی ”را“ اور دوسری انٹیلی جنس ایجنسیوں کو CIA یا موساد کی وہ فیڈ بیک حاصل ہو چکی ہے جو انتہائی حساس تصور کی جاتی ہے

اور امریکہ یا سرائیل یہ تفصیلات یوں کھلے بندوں انڈیا کو نہیں دے سکتے؟انڈیا کا میڈیا (ٹائمز آف انڈیا اور انڈیا ٹو ڈے وغیرہ) نہ صرف جنرل ندیم انجم کی تقرری کی خبر دے رہا تھا بلکہ یہ انکشاف بھی کر رہا تھا کہ جنرل فیض حمید نے چونکہ اب تک کوئی کور کمانڈ نہیں کی اور اگلے آرمی چیف کی سلیکشن کے لئے جو تین نام وزیراعظم کو جانے والے آرمی چیف کی طرف سے دیئے جاتے ہیں ان میں جنرل فیض حمید کا نام شامل کرنے کے لئے ان کو کسی کور کی کمانڈ دینی ناگزیر ہے۔ یہ خبر عسکری حلقوں کے لئے کوئی ایسی خفیہ خبر نہ تھی کہ یہ ایک روٹین کی کارروائی ہے۔سنیارٹی کے حساب سے جنرل فیض حمیدکا نام بھی اگلے آرمی چیف کے امیدواروں میں شامل کیا جانا تھا۔ فوج کے حلقوں میں یہ خبر کوئی ایسی بڑی یا سنسنی خیز خبر نہیں تھی کہ جس طرح ہمارا میڈیا اس کو Depict کر رہا تھا۔ البتہ جنرل ندیم انجم کو نیا آئی ایس آئی چیف مقرر کرنا واقعی ایک خبر تھی۔ سینئر عسکری حلقے ایک عرصے سے اس سوال پر غور کر رہے تھے کہ نیا DG آئی ایس آئی کون ہوگا۔ ”خدا کا شکر ہے“ کہ ہمارے میڈیا پر اس سوال پر کوئی بحث و تمحیص نہیں ہوئی۔ فوج کی سینئر عسکری قیادت نے نہایت دقیقہ سنجی سے ممکنہ امیدواروں کا سروس پروفائل دیکھا اور درست فیصلہ کیا۔ جس طرح جنرل فیض حمید کو آتے ہی بہت سے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا تھا

اس کی تفصیل ہم سب جانتے ہیں۔قارئین کے لئے نسبتاً جنرل ندیم انجم ایک نیا نام ہے۔ انٹیلی جنس کے خمیر میں پوشیدگی ایک جزولاینفک ہے۔ جنرل صاحب کو کوشش کرنا ہوگی کہ ان کا نام سیاسی عقابوں کی عقابی نگاہوں سے پوشیدہ رہے۔ اسی میں فوج کی بھلائی بھی ہے اور قوم و ملک کی بھی۔ مجھے بھی اس ادارے میں کچھ برس (بطور جونیئر کپتان) سروس کرنے کا موقع ملا ہے۔ یہ 1970ء کے عشرے کا وسطانی دور تھا۔ جنرل غلام جیلانی خان ہمارے DGتھے۔ ان کو میں نے کبھی میڈیا پر آتے نہیں دیکھا۔ پی ٹی وی اور پاکستان ریڈیو اس دور میں تھے لیکن نہ لوگوں میں اتنا تجسس تھا کہ وہ ان جرنیلوں کے پروفیشنل کام کاج کی کھوج لگائیں اور نہ ہی فوج ایسا کرنے کی اجازت دیتی تھی۔ پھر شاید یہ ہوا کہ جوں جوں میڈیا آزاد ہوا، لوگوں کا شعور بھی آزاد بلکہ بے لگام ہونے لگا۔ یہ بے باکی اتنی بڑھی کہ اب اس جن کو واپس بوتل میں ڈالنا ممکن نہیں۔ پوشیدگی اور اخفاء کی اس فضا میں بعض سیاستدانوں نے وہ وہ گل کھلائے کہ پورا باغ ”گل بداماں“ ہو گیا۔ اگر ملٹری انٹیلی جنس نے ان سیاستدانوں کو روکنے کی کوئی کوشش کی بھی تو بہت دیر ہو چکی تھی۔ سویلین انٹیلی جنس، ملٹری انٹیلی جنس سے بہت آگے نکل گئی تھی۔ فوج کو جمہوریت کی رکھوالی ضرور کہا گیا لیکن فوج، جمہوری اداروں کے ماتحت تھی۔ اس لئے اس کو پس منظر میں رکھا گیا۔ بعض سینئر فوجی افسروں نے بھی جمہوریت کی

اس کھلی فضا میں جی بھر کر اٹکھیلیاں کیں اور وطنِ عزیز کے تحفظ کے ترانے گائے۔ لیکن فوج اور میڈیا کا تو ازل کا بیر ہے۔فوج اپنی ہر بات چھپانا چاہتی ہے اور میڈیا اس کو ننگا کرنا چاہتا ہے۔اس 180 ڈگری معکوس صورتِ حال میں پاناما لیکس اور پنڈورا پیپرز اگر ’جنم‘ نہیں لیں گے تو اور کیا ہوگا؟ لیکن موجودہ سیاسی اور عسکری قیادت میں وہ ”بُعد“ جو عرصہ ء دراز سے چلا آ رہا تھا اب ”قُرب“ میں تبدیل ہو گیا ہے۔ ایسے میں نئے ڈی جی آئی ایس آئی کو اپنی نسبتاً گم نامی کا فائدہ اٹھانا چاہیے اور معلوم کرنا چاہیے کہ فوج کے اعلیٰ حلقوں (Tiers) میں وہ پوشیدگی کیوں غائب ہونے لگی ہے جو کبھی اس کا طرۂ امتیاز ہوا کرتی تھی۔ اس کے لئے چاہے کوئی نئی قانون سازی کرنی پڑے یا اپنی صفوں میں جبر و جور سے کام لینا پڑے، اس سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔ …… آج انڈیا اگر GHQ میں نقب لگا کر اس تفصیل کو حاصل کر سکتا ہے جو ملٹری سیکرٹری برانچ کے خفیہ شیلفوں میں مقید ہوتی ہے تو کل کلاں وہ اس GHQ کی ملٹری آپریشنز برانچ کی ٹاپ سیکرٹ فائلوں تک بھی رسائی کیوں حاصل نہیں کر سکتا؟…… اور کون جانے یہ رسائی اس نے پہلے ہی حاصل کر رکھی ہو ……اور ہاں، اس کے علاوہ پاکستان کے سٹرٹیجک پلانز ڈویژن کے لاکرز بھی معرضِ خطر میں (Vulnerable) کیوں نہیں ہوں گے؟…… چنانچہ مشتری کو ٹاپ سپیڈ سے ماضی والی ’ہوشیاری‘ کی طرف لوٹنا ہوگا!

Comments are closed.