مائرہ لاہور میں اپنے رشتہ داروں کے گھر کیوں نہیں رہ رہی تھی؟

لاہور (ویب ڈیسک) کچھ روز قبل ڈیفنس لاہور میں افسوسناک واقعہ کا سامنا کرنے ہونیوالی مائرہ ذوالفقار کے والد کا کہنا تھا کہ پاکستان سے کئی نوجوان لڑکے لڑکیاں جب لندن تعلیم کے لیے آئے تو ان کی مائرہ سے جان پہچان اور واقفیت ہوئی اور انہی میں سے چند کے کہنے پر مائرہ پاکستان آئیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا

کہ مائرہ کے ساتھ ہونے والے واردات کے کیس میں نامزد ملزمان بھی اسی طرح ان کی بیٹی سے ملے تھے جبکہ مائرہ کے ساتھ ان کے کرائے کے گھر میں رہنے والی سہیلی اُن کی کسی دوسری دوست کے توسط سے اُن سے ملی تھیں۔’میری بیٹی مغرب میں پلی بڑھی ہے جہاں پر لڑکے لڑکیاں آپس میں بات کر لیتے ہیں اور اسے عجیب نہیں سمجھا جاتا۔‘مائرہ کے والد نے دعویٰ کیا کہ ’میری بیٹی کے ساتھ بہت غلط ہوا مائرہ کے والد کا کہنا تھا کہ پولیس ان کے ساتھ زیادہ تعاون نہیں کر رہی۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ مائرہ کے دوستوں اور مبینہ ملزمان سے جس طرح پوچھ گچھ کی جانی چاہیے اس طرح سے نہیں ہو رہی۔انھوں نے کہا کہ جب تک ان کی بیٹی کو انصاف نہیں مل جاتا وہ اس ملک کے ہر صاحب اقتدار شخص سے اپیل کرتے رہیں گے۔مائرہ ذوالفقار کے والد کا کہنا تھا کہ ’میری بیٹی نے واقعہ سے قبل پولیس کو آگاہ کیا تھا کہ اسے وارننگز دی جا رہی ہیں لیکن انھوں نے اُس کی بات نہیں سُنی۔‘مائرہ کے والد کا کہنا تھا کہ ’اگر میری بیٹی کی بات سن لی گئی ہوتی تواس کے ساتھ افسوسناک واقعہ نہ ہوتا ‘ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ایک خاتوں پولیس افسر کو صرف وارننگ دی گئی۔ کیا اتنے بڑے کیس میں پولیس افسر کو صرف وارننگ دی جانی چاہیے؟‘مائرہ ذوالفقار کے والد کا کہنا تھا کہ ’مائرہ کورسز کے لیے اکثر دبئی آتی جاتی تھی جہاں ایک کورس کے دوران ان کی ایک نامزد ملزم سے جان پہچان ہوئی۔‘ان کا مزید کہنا تھا کہ حال ہی میں مائرہ اپنی ایک کزن کی شادی کے لیے پاکستان آئی تھیں جہاں بعد میں ان کی والدہ بھی ان کے ساتھ شریک ہوئیں تاہم وہ کچھ ضروری کاغذات تیار کروانے کے لیے رک گئیں اور کچھ دن بعد انھیں واپس برطانیہ آنا تھا۔محمد ذوالفقار کا مزید کہنا تھا کہ ’مائرہ اکثر دبئی سے پاکستان آتی تو اپنی نانی کے گھر ٹھہرتی تھیں، وہ اپنی یہاں کی مصروفیات کا ذکر گھر والوں سے کرتی رہتی تھیں لیکن انھوں نے کبھی یہ نہیں بتایا کہ وہ کسی ایسی کسی پریشانی میں پھنس گئی ہیں یا ان کے ساتھ اتنا بڑا واقعہ ہو جائے گا۔‘۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *