مادھوری ڈکشٹ کے کیرئیر کا ناقابل یقین واقعہ

ممبئی (ویب ڈیسک) 1984میں 17 سالہ مادھوری نے بھی کئی بھارتی لڑکیوں کی طرح فلم نگری کی راہ کا انتخاب کیا تھا۔ فلمیں دیکھ دیکھ کر وہ جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ چکی تھیں اور خواہش تھی کسی اچھے موقعے کی۔مادھوری کو جب فلموں میں کوئی امید نظر نہ آئی تو انہوں نے چھوٹی

اسکرین پر ہی قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا۔ راج شری پروڈکشن جو ان دنوں فلمیں اور ٹی وی ڈرامے بھی تخلیق کرتا تھا، اسے دور درشن کے لیے ایک ڈراما سیریل ’بمبئی میری ہے‘ تیار کرنے کی پیش کش ملی۔ جس کی پائلٹ قسط کے لیے آخر کار مادھوری ڈکشٹ کا چناؤ ہو گیا۔مادھوری کو کہانی ہی نہیں اپنا کردار بھی پسند آیا تھا۔ انہیں یقین تھا کہ بینجمن گیلانی، مظہر خان اور شوبھا کھوٹے جیسے فنکاروں کی موجودگی میں ان کو پذیرائی مل جائے گی۔توقع کے برخلاف دور درشن حکام نے ’بمبئی میری ہے‘ کو مسترد کر دیا۔ اسے یہ کہہ کر رد کر دیا گیا کہ ’کاسٹ اتنی اچھی نہیں ہے۔مادھوری کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ جس قسط میں انہوں نے اس قدر محنت سے فنکاری دکھائی، اسے مسترد کر دیا گیا ہے۔ ہدایت کار انیل تیجانی بھی مادھوری کی کیفیت سے واقف تھے، انہوں نے راج شری پروڈکشن کے ذمے داروں سے کہا کہ جب بھی کوئی اور تخلیق بنائیں تو اس لڑکی کو ضرور موقع دیا جائے۔مادھوری کی محنت کا پھل انہیں اسی سال یعنی 1984میں مل گیا۔ جب راج شری پروڈکشن نے ’ابودھ‘ کی عکس بندی شروع کی تو مادھوری ڈکشٹ کو اس فلم میں بطور مرکزی اداکارہ بنا کر پیش کیا۔یہ اور بات ہے کہ یہ فلم ناکامی سے دوچار ہوئی۔مادھوری نے ’ابودھ‘ کے بعد آوارہ باپ، اتردکھشن، سواتی، حفاظت اور خطروں کے کھلاڑی میں بھی کام کیا لیکن کامیابی کی منزل ان سے کوسوں دور نظر آئی۔اور پھر 1988کا سورج طلوع ہوا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.