مالدار اور آسودہ حال ہونے کے باوجود عمر شریف بیرون ملک علاج کے لیے حکومتی امداد کے منتظر کیوں رہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور خاتون کالم نگار آمنہ مفتی بی بی سی کے لیے اپنے ایک کالم میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔جب بھی فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو ہمارے یہاں ایک عجیب سی بے چینی پھیل جاتی ہے۔ایک بڑے طبقے کو اس شخص کی عاقبت کی

فکر سوار ہو جاتی ہے اور باقی ماندہ ایک خوف اور احساس جرم میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔انھیں لگتا ہے کہ رنگ و روشنیوں اور محبتوں کو بے مول بانٹنے والے ان نابغوں کے ساتھ ان کے ہاتھوں کچھ ایسی نا انصافی ہوئی ہے کہ اگر اس کا ذمہ دار انھوں نے فوری طور پہ کسی دوسرے کو نہ ٹھہرایا تو یہ رنگ اور روشنیاں ان سے روٹھ جائیں گی۔اس اجتماعی خوف کے تحت ہم جانے والے کا غم بھی اس کی شان کے شایان نہیں منا سکتے۔ لڑتے جھگڑتے، ایک دوسرے پر نام دھرتے، پہلی برسی تک ہم جانے والے کو فراموش کر چکے ہوتے ہیں۔عمر شریف طویل علالت کاٹ کے رخصت ہوئے۔ ان کے چاہنے والوں کا ایک وسیع حلقہ ہے جو ان کی موت سے دکھی ہوا اور یہ سوال اٹھا کہ آخر ان کا علاج بر وقت ملک سے باہر جا کے کیوں نہ ہو پایا۔بہت سے فنکار تو علاج کی سہولت سے محروم ہی اس دنیا سے چلے جاتے ہیں۔ بہت سے دو وقت کی روٹی اور سر پر چھت کے لیے ادھر ادھر دیکھتے رہتے ہیں۔پچھلے دنوں ہماری ایک بہت پیاری اداکارہ نائلہ جعفری بھی یہ ہی کہتے کہتے رخصت ہوئیں کہ اداکاروں کو کم سے کم ان کے کام کی رائلٹی تو دی جائے تاکہ جب وہ کام کرنے کے قابل نہ رہیں تب بھی ان کی آمدن لگی رہے۔فنکاروں کا کام ہی ان کی جاگیر ہوتا ہے اور یہ جاگیر ایک ایسے معاہدے کے ذریعے ان سے ہتھیا لی جاتی ہے جسے شاید آنے والے وقت کے انسان حیران ہو کر دیکھا کریں گے اور اس کی کاپیاں انسانی حقوق کے عجائب خانوں میں ملیں گی۔نائلہ جعفری کے اس نعرہ مستانہ پر کئی لوگ اٹھے اور بہت سی اچھی باتیں سنائی دیں۔ مگر وقت کے ساتھ سب کہیں دب دبا گئیں۔وہ لوگ جو سیانے ہوتے ہیں عروج کے زمانے میں جائیداد بنا لیتے ہیں یا کوئی کاروبار کھول لیتے ہیں۔جونیئر آرٹسٹ یا وہ لوگ جو اپنے اخراجات اور آمدن کے تناسب کو برقرار نہیں رکھ سکتے، اکثر تنگ دستی کا شکار ہوتے ہیں۔کچھ ایسا ہی حال ادیبوں کا ہے۔ وہاں تو یہ ہے کہ اب لوگ کان پکڑتے جا رہے ہیں۔ کل وقتی ادیب کم ہی نظر آتے ہیں۔ رائلٹی کا عنقا جب تک ہاتھ نہیں لگتا یہ پہیلی ایسے ہی رہے گی۔عمر شریف صاحب مالی طور پر آسودہ تھے لیکن چند وجوہات کے باعث ان کے ملک سے باہر جا کے علاج کرانے میں تاخیر ہوئی۔پھر بھی وہ ان معدودے چند فنکاروں میں سے تھے جنھیں ان کی محنت کا پھل، محبت اور مالی آسودگی دونوں صورتوں میں ملا۔ہماری یادوں میں، ہماری محفلوں میں، ہمارے درمیان ان سب جانے والوں کا ذکر موجود رہے گا اور یہ امید بھی رہے گی کہ نائلہ اور ان کی طرح کتنے ہی فنکاروں، ادیبوں اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والوں کا رائلٹی کا خواب بھی جلد ہی پورا ہو گا۔

Comments are closed.