مال بنانے کا “اچانک” فارمولا ۔۔۔

کراچی(ویب ڈیسک )منافع خور گروہوں نے صوبے بھر میں طالبات کا یونیفارم تبدیل کرادیا،پی ای سی ایچ ایس گرلز کالج کراچی سمیت سندھ بھر کے خواتین کالجز میں اچانک یونیفارم کا رنگ بدل کر والدین پر مالی بوجھ ڈال دیا گیا۔ میڈیا کو پی ای سی ایچ ایس کالج برائے خواتین کی پرنسپل پروفیسر رخسانہ نے بتایا کہ

صرف انٹر سال اوّل کی طالبات کا یونیفارم تبدیل کیا گیا ہے، سال دوئم کی طالبات کا پرانا یونیفارم برقرار رکھا گیا ہے۔ میڈیا نے جب ان سے اس حوالے سے نوٹیفکیشن کا پوچھا تو کالج پرنسپل نے کہا کہ کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔لیکن یونیفارم کی تبدیلی کی ہدایت سیکرٹری کالج ایجوکیشن خالد حیدر شاہ نے دی تھی۔ جب سیکرٹری کالج ایجوکیشن خالد حیدر شاہ سے اس حوالے سے پوچھا گیا کہ اچانک یونیفارم کی تبدیلی کی ضرورت کیوں پیش آئی اور کیا یونیفارم تبدیلی سے کالج میں تعلیم بہتر ہوگی تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ یاد رہے کہ خالد حیدر شاہ وفاقی ملازم ہیں اور ان کا تبادلہ وفاق نے خیبر پختونخوا کردیا ہے مگر وہ کالج ایجوکیشن کا محکمہ چھوڑ کر دوسرے صوبے جانے کو تیار نہیں ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ انٹر سال اوّل میں نئے داخلوں کے فوری بعد طالبات کو یونیفارم خریدنے کیلئے دکانوں کی نشاندہی کی گئی اور جب طالبات نے نیا یونیفارم خرید لیا اور اسے پہن کر کالج پہنچیں لیکن کلاس شروع ہونے کے ایک ہفتے بعد اچانک کالج انتظامیہ اور اساتذہ نے طالبات سے کہا کہ پورے یونیفارم کا رنگ تبدیل کردیا گیا ہے اور یکم جنوری 2022 سے پورے سندھ کے کالجز میں یکساں یونیفارم ہو گا اور یہ حکم نامہ بذریعہ واٹس ایپ میسیج پرنسپلز کو بھیجا گیا آخری خبریں آنے تک متعلقہ حکام کی جانب سے یونیفارم تبدیلی کا کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا ، جب کچھ اساتذہ نے اچانک یونیفارم تبدیل کرنے اور مہنگائی کے باعث طالبات کی حمایت میں نظر ثانی کی درخواست کی تو کہا گیا کہ سیکرٹری کالجز کا سختی سے حکم ہے کہ یکم جنوری سے کوئی بھی پرانا یونیفارم پہن کر نہیں آئے گا۔ طالبات کے والدین کا کہنا ہے کہ ہوناتو یہ چاہئے تھا کہ اگر یونیفارم کی تبدیلی انتہائی ناگزیر تھی تو کم از کم 6 ماہ پیشتر یونیفارم کی تبدیلی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن کیا جاتا تاکہ مارکیٹ میں نیا یونیفارم اسٹاک میں آ جاتا، اب والدین نے تقریباً دو سے ڈھائی ہزارروپے کا ایک یونیفارم خرید لیا ہے اور اب اتنی ہی رقم یا کچھ زیادہ خرچ کرکے پورا نیا یونیفارم دوبارہ لینا پڑے گا کیونکہ چالاکی سے رنگ ایسے تبدیل کئے گئے ہیں کہ پچھلی کوئی چیز قابل استعمال نہ رہے۔ والدین کا کہنا ہے کہ داخلے کے وقت یا کلاسز شروع ہونے سے ایک ہفتے پہلے یونیفارم تبدیلی کا کیوں نہیں بتایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس میں بھی یونیفارم گروہوں کو خوش کرنا مقصود ہے کیونکہ ان کا پرانا اسٹاک بھی فروخت کرکے ختم کرانا تھا اور پھر دوبارہ نیا یونیفارم فروخت کرکے مزید مال کمانا تھا۔

Comments are closed.