ماڈرن خاتون

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار علی عمران جونیئر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ہمارے پیارے دوست کا کہنا ہے کہ، جس دن رات کو رکھی ہوئی آئس کریم اگلے روز فریج میں محفوظ ملے گی،اس دن میں یقین کرلوں گا کہ یہ ملک بدعنوانی اور چوری سے محفوظ ہوگیا ہے۔

۔سعودی عرب میں جس تیزی سے سینما ”کیسینوز“ میں تبدیل ہورہے ہیں،وہ وقت بھی شاید جلد آجائے گا جب حاجی صاحبان واپسی پر صفائیاں پیش کیا کریں گے کہ قسم سے میں نے صرف حج ہی کیا تھا۔۔باباجی فرماتے ہیں، لڑکیوں کو آگے بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا،بس راستے میں گول گپے کی ریڑھی نہ ہو۔۔وہ مزید فرماتے ہیں کہ۔۔تاریخ گواہ ہے کپڑے دھلتے وقت شوہر کی جیب سے نکلنے والے پیسے بیویاں کبھی شوہروں کو واپس نہیں کرتیں۔۔دوسری طرف اپوزیشن جماعتیں شکوہ کررہی ہیں کہ۔۔آخرت کے سوالات دنیا میں پوچھے جا رہے ہیں کہ”مال کہاں سے کمایا اور خرچ کہاں کیا“۔۔۔ایک نوجوان اپنی گرل فرینڈ کو واٹس ایپ پر پیغام بھیج رہا تھا کہ۔۔سنوجاناں، سیمنٹ بہت مہنگاہوگیا ہے اس لئے میں تمہاری تعریفوں کے پل نہیں باندھ سکتا۔۔شنید ہے کہ دلہا کو گھونگٹ اٹھانے سے پہلے انٹرٹینمنٹ ٹیکس بھی دینا ہوگا۔۔ایک بہت ہی پرانا قصہ ہے۔۔بینک میں واردات کے دوران لٹیرےنے چیخ کر سب سے کہا۔۔کوئی بھی ہلے مت۔چپ چاپ زمین پر لیٹ جائیں۔۔رقم لوگوں کی ہے اور جان آپ کی اپنی ہے۔۔۔سب چپ چاپ زمین پر لیٹ گئے۔۔۔ کوئی اپنی جگہ سے نہیں ہلا،اسے کہتے ہیں مائند چینج کانسیپٹ (سوچ بدلنے والا تصور)۔۔۔ ایک خاتون کچھ واہیات انداز میں زمین پر لیٹی ہوئی تھی۔۔ایک لٹیرا اس سے بولا۔۔تمیز سے لیٹو یہاں واردات ہو رہی ہے سہاگ رات نہیں ۔۔۔ اسے کہتے ہیں “فوکس ” بس وہی کام کریں جس کے لیے آپ کو ٹرینڈ کیا گیا ہے۔۔ واردات کے بعد گھر واپس آئے تو نوجوان لٹیرا (جو کہ ایم بی اے پاس تھا)نے بوڑھے ساتھی (جو کہ صرف پرائمری پاس تھا) سے کہا

،چلو رقم گنتے ہیں۔۔بوڑھے لٹیرے نے جواب دیا،تم تو پاگل ہو گئے ہو اتنے زیادہ نوٹ کون گنے۔ رات کو خبروں میں سن لینا کہ ہم کتنا مال لوٹ کر لائے ہیں۔۔اسے کہتے ہیں تجربہ جو کہ آج کل ڈگریوں سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔۔جب لٹیرے بنک سے چلے گئے تو منیجر نے سپروائزر سے کہا کہ پولیس کو فون کرو۔۔سپروائز نے جواب دیا،رک جائیں سر! پہلے بنک سے ہم دونوں اپنے لیے دس لاکھ ڈالرز نکال لیتے ہیں اور ہاں وہ چالیس لاکھ ڈالرز کا گھپلا جو ہم نے حالیہ دنوں میں کیا ہے وہ بھی لٹیروں پر ڈال دیتے ہیں کہ وہ لوٹ کر لے گئے۔۔ اسے کہتے ہیں وقت کے ساتھ ایڈجسٹ کرنا۔مشکل حالات کو اپنے فائدے کے مطابق استعمال کر لینا۔۔منیجر ہنس کر بولا۔۔ہر مہینے ایک واردات ہونی چاہیے۔۔ اسے کہتے ہیں بوریت ختم کرنا۔۔۔ذاتی مفاد اور خوشی جاب سے زیادہ اہم ہوتے ہیں۔۔اگلے دن اخبارات اور ٹی وی پر خبریں تھیں کہ ڈاکو بنک سے سو ملین ڈالرز لوٹ کر فرار۔۔۔لٹیروں نے بار بار رقم گنی لیکن پچاس ملین ڈالرز سے زیادہ نہ نکلی۔۔۔بوڑھا لٹیرا غصے میں آ گیا اور چیخا۔۔ہم نے ہتھیار اٹھایا۔اپنی جانیں رسک پر لگائیں اور پچاس ملین ڈالرز لوٹ سکے اور بنک منیجر نے بیٹھے بیٹھے چند انگلیاں ہلا کر پچاس ملین ڈالرز لوٹ لیا۔۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ تعلیم کتنی ضروری ہے۔۔ ہم کو چور نہیں پڑھا لکھا ہونا چاہیے تھا۔۔اسے کہتے ہیں علم کی قیمت سونے کے برابر ہوتی ہے۔۔بنک منیجر خوش تھا کہ اسٹاک مارکیٹ میں اسے جو نقصان ہو رہا تھا وہ اب ان پیسوں سے پورا ہو گا۔۔اسے کہتے ہیں موقع پرستی۔۔آخر میں بس ایک سوال۔۔کون ہے اصل لٹیرا؟؟اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔۔کچھ برسوں بعد آنے والی نسلیں پوچھا کریں گی۔۔ داداجی وہ والی کہانی سنائیں جب آپ اسکول اور کالج سال،سال،دو،دو سال نہیں جاتے تھے لیکن پھر بھی آپ کے گیارہ سو میں سے گیارہ سو مارکس آتے تھے۔۔خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔

Comments are closed.