ماں کا خرچہ اٹھاؤں یا بیوی بچوں کو پالوں ۔۔۔؟؟؟

اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے بہاولپور کے رہائشی غلام دستگیر کی بچوں کی کفالت کی رقم کم کرنے کی درخواست خارج کر دی۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ بچوں کی کفالت باپ کی ذمہ داری ہے چاہے باپ کا کوئی روزگار نہ ہو۔ کیس کی سماعت جسٹس عمر عطا بندیال

کی سربراہی میں قائم تین رکنی بنچ نے کی اور ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے غلام دستگیر کو دونوں بیٹیوں کو 15 ہزار روپے ماہانہ دینے کا حکم دے دیا۔ دوران سماعت غلام دستگیر نے کہا نہ میں تعلیم یافتہ ہوں اور نہ ہی کوئی کام کرتا ہوں، فی بچہ 15 ہزار ادا نہیں کر سکتا، میری سابقہ اہلیہ میری بوڑھی ماں سے مجھے الگ کرنا چاہتی تھی اور میں اپنی ماں کی خدمت کرنا چاہتا تھا۔ عدالت نے اس موقع پر قرار دیا ماں کی خدمت کرنا آپکی ذمہ داری تھی آپکی سابقہ اہلیہ کی نہیں، اگر بیوی الگ رہنے کا مطالبہ کرے تو بیوی کو الگ رکھنا شوہر کی ذمہ داری ہے، آپ جوان اور صحت مند ہیں آپ کام کیوں نہیں کرتے، دونوں بچیاں سکول میں پڑھتی ہیں جنکی کفالت آپ ہی نے کرنی ہے۔ بعدازاں عدالت نے والد کو بچیوں کی کفالت کا خرچ ادا کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس نمٹا دیا۔

Comments are closed.