ماہرین نے انوکھی وارننگ جاری کردی

واشنگٹن(ویب ڈیسک) کورونا ویکسینیشن کا آغاز برطانیہ، امریکا اور سعودی عرب سمیت درجن بھر ممالک میں ہوچکا ہے تاہم ایک تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا کی لگ بھگ ایک چوتھائی آبادی کو یہ ویکسین 2022 تک ملنے کی امید نہیںطبی تحقیقی جریدے ’بی ایم جے‘ میں شائع ہونے والی امریکا کی جونز ہوپکنز بلومبرگ اسکول آف پبلک ہیلتھ

  کی ایک تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کورونا وائرس کی ویکسین زیادہ تر امیر ممالک میں پہلے دستیاب ہوں گی اور پھر غریب ممالک کو میسر آسکیں گی اس طرح خدشہ ہے کہ ایک چوتھائی آبادی کو کورونا ویکسین تک رسائی 2022 تک بھی ممکن نہ ہواس تحقیق میں کووڈ 19 ویکسینز کے پری آرڈرز، تیاری کے مراحل، ترسیل کی مشکلات اور طبی ماہرین کی استعداد کا تجزیہ کیا گیا اور بد قسمتی میں غریب ممالک کو ان تمام ہی مشکلات کا سامنا ہے جب کہ نومبر کے وسط ہی میں خوشحال ممالک نے 13 مختلف کمپنیوں کی ویکسینز کے 7 ارب 48 کروڑ خوراکیں اپنے لیے مختص کرالیے تھےاب اگر یہ تمام ویکسینز کامیاب سے لگ جاتی ہیں تو اگلا بیچ 2021 کے اختتام تک تیار ہوسکے گا جس کے لیے کمپنیاں فی ویکسین 6 ڈالر سے 96 ڈالر تک کی مالیت کی  5 ارب 96 کروڑ ڈوز تیار کرسکیں گی۔ 51 فیصد خوراکوں کو دنیا کی آبادی کے محض 14 فیصد نمائندگی کرنے والے امیر ممالک نے پہلے ہی خرید لی ہیں اس طرح 85 فیصد آبادی والے غریب طبقے کے پاس امید کے سوا کچھ نہیں بچتا۔ 2022 سے قبل انہیں ویکسین ملنا مشکل نظر آتا ہے۔ اس حوالے سے اقوام متحدہ کی کورونا ویکسین کی ترسیل کی نگرانی کرنے والے والے ادارے ’ کوویکسین‘ کا کردار اہم ہوجاتا ہے جسے بہر حال عالمی دباؤ کا سامنا بھی ہوگا۔

Comments are closed.