ماہرین کا زبردست مشورہ

لندن (ویب ڈیسک) سائنسدانوں نے ماں بننے والی خواتین کو یہ مشورہ دیا ہے کہ وہ بچے کی پیدائش سے تین مہینہ قبل سے کروٹ سوئیں تاکہ پیدائش سے قبل بچے کے انتقال کی صورتحال سے بچا جا سکے۔ایک ہزار خواتین پر کی جانے والی ایک تحقیق میں پتہ چلا ہے کہ

اگر خواتین پریگننسی کی آخری سہ ماہی میں پیٹھ کے بل سوتی ہیں تو بچے کی موت کا خطرہ دگنا ہو جاتا ہے۔اس تحقیق میں 291 ایسی خواتین کے معاملے کی جانچ کی گئی ہے جن کے ہاں فوت شدہ بچے پیدا ہوئے تھے جبکہ تحقیق میں 735 ان خواتین کے معاملے کی بھی جانچ کی گئی تھی جنھیں زندہ بچے پیدا ہوئے۔محققین کا کہنا ہے کہ خواتین جس انداز میں سوتی ہیں وہ بہت اہم ہے اور جب وہ بیدار ہوتی ہیں اور یہ دیکھتی ہیں کہ وہ اپنی پیٹھ کے بل سو رہی تھیں تو انھیں اس بات سے پریشان نہیں ہونا چاہیے۔خیال رہے کہ برطانیہ میں ہر سوا دو سو بچے کی ولادت میں ایک فوت ہو چکا بچہ پیدا ہوتا ہے جبکہ اس تحقیق کے مصنفوں کا کہنا ہے کہ اگر خواتین کروٹ سوئیں تو سال میں کم از کم 130 بچوں کی زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں۔ برٹش جرنل آف آبسٹیٹرکس اینڈ گائیناکلوجی (بیجوگ) میں شائع تحقیق اپنے قسم کی اب تک کی سب سے وسیع تحقیق ہے اور یہ نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا میں کی جانے والی تحقیق کے نتائج کی تصدیق کرتی ہے۔اس تحقیق کے سربراہ اور سینٹ میری ہسپتال میں ٹومی سٹل برتھ ریسرچ سینٹر کے ڈائریکٹر پروفیسر الیگزینڈر ہیزیل خواتین کو یہ مشورہ دیتے ہیں کہ پریگننسی کی تیسری سہ ماہی میں وہ کبھی بھی سوئیں تو کروٹ ہی سوئیں۔انھوں نے کہا: ‘میں یہ نہیں چاہتا کہ جب پریگننٹ خواتین بیدار ہوں اور دیکھیں کہ وہ پیٹھ کے بل سو رہی ہیں تو کہیں وہ ڈر نہ جائیں

کہ انھوں نے اپنے بچے کو نقصان تو نہیں پہنچا دیا۔’ ان کے مطابق جس پوزیشن میں آپ سونے جاتے ہیں وہ زیادہ اہم ہے نہ کہ جس پوزیشن میں آپ بیدار ہوتے ہیں۔ انھوں نے کہا: ‘آپ جس پوزیشن میں بیدار ہوئے ہیں اس کے متعلق آپ کچھ نہیں کرسکتے لیکن جس پوزیشن میں آپ سونے جا رہے ہیں اس کے بارے میں آپ کچھ کر سکتے ہیں۔’اپنے پیچھے تکیہ یا تکیے لے لیں تاکہ کروٹ سونے میں مدد ملے۔جب رات میں بیدار ہوں تو سونے کی اپنی پوزیشن کی جانچ کریں اور پھر کروٹ سونے کی کوشش کریں۔رات کی طرح دن میں بھی اس پوزیشن پر ہی آرام کرنے کی کوشش کریں۔اگر رات میں پیٹھ کے بل سوتے ہوئے بیدار ہوں تو پریشان نہ ہوں بلکہ کروٹ لے کر سو جائيں۔اس تحقیق میں دائیں اور بائیں کروٹ سونے کی وجہ سے کوئی فرق نظر نہیں آیا ہے۔ مردہ بچے کی پیدائش کے خطرے کے اضافے کے بارے میں وثوق کے ساتھ تو کچھ نہیں کہا جاسکتا لیکن بہت سے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ جب کوئی حاملہ خاتون پیٹھ کے بل سوتی ہے تو بچہ اور بچہ دانی دونوں کا وزن لہو کی بڑی شریان پراثر ڈالتا ہے جس سے بچے میں آکسیجن کی کمی ہو سکتی ہے۔بہرحال بیجوگ کے ایڈوارڈ مورس نے اس تحقیق کے نتائج کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا: ‘یہ ایک اہم مطالعہ ہے جو مزید شواہد فراہم کرتا ہے کہ پریگننٹ خواتین کے سونے کی پوزیش بچے کی پیدائش پر اثر انداز ہوتی ہے جسے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔’

Sharing is caring!

Comments are closed.