ماہ رمضان اور کورونا کا فائدہ اٹھا کر کیا گیم ڈالی جانیوالی ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) ملک میں آکسیجن گیس اور سیلنڈر کی قیمت میں اضافے کی کیا وجوہات ہے اس پر بات کرتے ہوئے پاکستان میں آکسیجن بنانے والی کمپنی ’غنی گیس‘ کے کنٹری ہیڈ بلال بٹ کا کہنا تھا کہ اس کی ایک اہم وجہ تو عالمی سطح پر کورونا کی وبا کے باعث آکسیجن

کی کھپت میں بے پناہ اضافہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر بھی آکسیجن تیار کرنے سے متعلقہ خام مال کی قیمتوں میں نہ صرف اضافہ ہوا ہے بلکہ اس کی قلت بھی دیکھی جا رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ درحقیقت پاکستان میں آکسیجن گیس کی قیمت میں تو معمولی اضافہ ہوا ہے مگر اصل قلت اور قیمت میں اضافہ آکسیجن سیلنڈرز کی قیمتوں میں ہوا ہے۔‘بلال بٹ کہتے ہیں کہ ملک میں آکسیجن سلنڈرز کی قلت اور اس کے مہنگے ہونے کی ایک اور وجہ سرکاری اور نجی ہسپتالوں کی جانب سے آکسیجن سلنڈرز کی اضافی مانگ اور کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال کے باعث انھیں ذخیرہ کرنا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ’اس کو اس طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ اگر آکسیجن بنانے والی کسی کمپنی نے پاس 100 سلنڈرز موجود تھے اور اس نے اپنے کسی کلائنٹ کے لیے 30 سلنڈرز مختص کر رکھے تھے، لیکن اب ملک میں وبا کی شدت میں اضافے کے بعد ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے اور پریشانی سے بچنے کے لیے کلائنٹ 70 آکسیجن سلنڈرز کی ڈیمانڈ کرتا ہے، اگرچہ فی الحال شاید ان کو اس کی ضرورت بھی نہ ہو، اور کمپنیوں کو اس ڈیمانڈ کو پورا کرنا پڑتا ہے۔‘’لیکن ایسے میں اگر کوئی اور ہسپتال بھی اس سے پچاس سیلنڈرز طلب کرے گا تو کمپنی کو عالمی منڈی سے یہ مال خرید کر اسے فراہم کرے گا۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت عالمی منڈی میں آکسیجن سیلنڈر کی قیمت پاکستانی روپے میں 40 سے 45 ہزار تک ہے جو کچھ عرصہ پہلے تک 30 ہزار تھی۔

ایسے میں کوئی بھی درآمد کرے گا تو اپنا کاروبار چلانے کے لیے منافع رکھ کر ہی آگے بیچے گا۔‘وہ کہتے ہیں ایک اور اہم بات یہ ہے کہ عام حالات میں سیلنڈرز نہیں خریدے جاتے بلکہ گیس خریدی جاتی ہے لیکن اب انڈیا میں کورونا کی صورتحال اور وہاں آکسیجن کی قلت کے بعد پاکستان میں بھی سیلنڈرز خریدے جا رہے ہیں۔انھوں نے بتایا کہ آکسیجن سیلنڈرز پاکستان میں تیار نہیں ہوتے بلکہ انھیں باہر سے درآمد کیا جاتا ہے۔ اس وقت عالمی سطح پر بھی ان کی قیمت میں اضافہ ہو چکا ہے جس کے باعث ملک میں ان کی قیمت بڑھی ہے۔بلال بٹ کا کہنا ہے کہ انڈیا کے حالات کے پیش نظر عام صارفین اور پاکستانی عوام کی جانب سے بھی آکسیجن سیلنڈرز خرید کر گھروں میں رکھنے کے باعث مارکیٹ میں اِن کی قلت پیدا ہوئی ہے۔’اب عام آدمی بھی خوف کے مارے ممکنہ صورتحال کے پیش نظر گھر میں دو، تین سیلنڈر خرید کر رکھ رہا ہے۔ پہلے سیلنڈرز نہیں، گیس بکتی تھی اب گیس کے سیلنڈرز بھی بک رہے ہیں۔‘وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہسپتالوں، فارمیسیز اور چھوٹی صنعتوں کو آکسیجن سیلنڈرز فراہم کرنے والی ایک نجی کمپنی کے مالک نوید بن شمس، جو گذشتہ 41 برس سے اس کاروبار سے منسلک ہیں، کا کہنا ہے کہ انڈیا کی صورتحال دیکھ دیکھ عوام بھی خوف و ہراس کا شکار ہیں اور آکسیجن سیلنڈرز خرید کر گھروں میں رکھ رہے ہیں۔وہ کہتے ہیں ’جس کو آکسیجن کی ضرورت نہیں بھی تھی وہ دو، دو تین، تین سیلنڈرز خرید کر گھر میں رکھ رہا ہے۔

جس کے باعث اس کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔‘نوید بن شمس کا دعویٰ ہے کہ موجودہ صورتحال میں چھوٹے ڈسٹریبیوٹرز سلنڈرز کی ذخیرہ اندوزی کر کے ناجائز منافع خوری کے ذریعے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ اس وقت مارکیٹ میں آکسیجن سیلنڈرز کی مصنوعی قلت پیدا کرنے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔غنی گیس کمپنی نے بلال بٹ کا کہنا ہے کہ آکسیجن سیلنڈرز کی قیمتوں میں اضافے کی ایک وجہ مقامی شہروں میں نجی سپلائرز اور ڈسٹریبیوٹرز کی جانب سے ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری ہے۔نوید بن شمس نے بتایا کہ دو ماہ قبل مریضوں کے استعمال میں آنے والا چھ لیٹر کا سیلنڈر ساڑھے پانچ ہزار روپے تک بازار میں دستیاب تھا جو اب مہنگا ہو کر سات ہزار روپے تک پہنچ گیا ہے۔جبکہ دس سے گیارہ لیٹر آکسیجن کا سیلنڈر پہلے دس ہزار روپے میں فروخت ہو رہا تھا جس کی قیمت اب بڑھ کر 14 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے۔ان کا کہنا ہے بازار میں آکسیجن سیلنڈرز اس وقت لاہور اور کراچی سے آ رہے ہیں۔انھوں نے بتایا کہ جہاں تک آکسیجن گیس کی سیلینڈرز میں بھروائی کی قیمت کی بات ہے تو پہلے چھ لیٹر آکسیجن سلنڈر میں گیس کی بھروائی چار سو روپے کی تھی جو اب بڑھ کر ساڑھے چار سو روپے ہو گئی ہے جبکہ دس سے گیارہ لیٹر والے سیلنڈر میں گیس بھروائی جو پہلے پانچ سو روپے تھی وہ اب بڑھ کر چھ سو روپے ہو گئی ہے۔نوید شمس کا کہنا ہے کہ آکسیجن گیس کی قیمت میں اضافہ حکومت کی جانب سے آکسیجن بنانے والی کمپنیوں سے 90 فیصد آکسیجن ہسپتالوں کو فراہم کرنے کے باعث ہے کیونکہ باقی ماندہ دس فیصد وہ کمرشل بنیادوں پر نجی مارکیٹ میں مہنگی بیچ رہے ہیں۔(بشکریہ : بی بی سی )

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *