مبشر لقمان نے ایک سچی کہانی بیان کرکے پورے معاشرے کو جھنجوڑ کر رکھ دیا

لاہور (ویب ڈیسک) گزشتہ دنوں ہم نے ایک بہت ہی اہم پروگرام کیا۔ کچھ پروگرام ایسے ہوتے ہیں جو آپ کو اندر سے توڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ آپکو اپنی بے بسی کا احساس ہوتا، آپ کو احساس ہوتا کہ آپ کی نوکری، آپ کے عزیزواقارب، آپ کے دوست آپ کے لیے

نامور کالم نگار مبشر لقمان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ کس قدر اہم ہوتے ہیں جبکہ ہم ان کو فارگرانٹڈ لیتے ہیں ۔ہم نے ایک بچی کا انٹرویو کیا۔ جھوٹی سی بچی تھی۔ اس کو اس کی ماں نے دھندے میں ڈال دیا ۔پہلے تو یہ محض ایک انٹرویو تھا۔ مگر جب ہم نے حقائق جاننے کے لئے تحقیقات کیں تو یہ انکشاف ہوا کہ بچی کو اس کی ماں نے اس مکروہ دھندے پر لگایا تھا۔ وہ بچی ایک بڑے نیک نام صاحب کی صاحبزادی ہے۔ جب ہم معاملہ کی تحقیق کے لئے گہرائی میں گئے تو ہم پر یہ حقیقت آشکار ہو ئی کہ یہ دھندہ پاکستان میں بہت تیزی سے پھیل رہا ہے ۔حالات‘ غربت اور تنگدستی سے عاجز آ کر بہت تیزی سے غریب گھرانوں کی خواتین اس دھندے میں شامل ہونے پر مجبور ہیں۔ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ اس قسم کے غیر اخلاقی دھندے میں دور افتادہ علاقوں کی غریب خواتین شامل ہوتی ہوں گی تو آپ غلط ہیں۔ اگر آپ کا یہ خیال ہے کہ چھوٹے شہروں کی خواتین بھوک افلاس سے عاجز آ کر یہ دھندہ اختیار کرنے پر مجبور ہوتی ہیں تو ایک بار پھر آپ غلط ہیں ۔تحقیقات کے بعد ہم پر یہ راز کھلا کہ بڑے شہروں کے پوش ایریاز میں سفید پوش گھرانوں نے بھی اپنی ضروریات اس قدر بڑھا لی ہیں کہ اچھے اچھے گھرانوں کی خواتین اس کاروبار میں ملوث ہونا شروع ہو گئی ہیں ۔اس کی مختلف وجوہات ہیں ۔ایک تو شوق‘دوسرے سماجی تنزل کہ اب معاشرے کا ایک مغرب زدہ حصہ عورت‘ مرد کے آزادانہ ریلیشنز میں کوئی برائی ہی نہیں سمجھتا۔ تیسرے ہمارے کالجز کا ماحول بھی اس رجحان کے فروغ کا سبب بن رہا ہے۔ہم نے جب اس مکروہ دھندے میں ملوث بچی سے بات کی تو اس نے بتایا کہ میں پڑھ کر ڈاکٹر بننا چاہتی تھی۔ غربت کے باعث اس پیشہ میں آنے پر مجبور ہوئی۔ اس کے مطابق جب وہ اپنے گاہکوں کو یہ بتاتی ہے کہ وہ پڑھنا چاہتی ہے تو اکثر دولت مند اس کا مذاق اڑاتے ہیں ۔ بچی نے بتایا کہ شہر میں دھندہ کروانے والی متعدد آنٹیاں ہیں جن کی اکثریت بیوٹی پارلر کی آڑ میں لڑکیوں سے پیشہ کرواتی ہیں۔ دن کو بیوٹی پارلر پر لڑکیاں کام کرتی ہیں اوررات کو پوش علاقوں میں دھندے کے لئے بھجوا دی جاتی ہیں۔ بچی کی ماں سے بات ہوئی تو اس نے بتایا کہ اکثر بچیوں کے والدین مجبورہو کر اپنی لڑکیوں کو اس دھندے میں ڈالتے ہیں۔ اس کے اپنے عزیز رشتہ دار کھاتے پیتے ہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.