متاثرہ لڑکی تو بڑی پہنچی ہوئی چیز نکلی

لاہور (ویب ڈیسک) پنجاب کے علاقے گوجرہ میں دو ماہ قبل موٹروے پر پیش آنے والے غلط کاری کیس کا ڈرامائی ڈراپ سین ہوگیا۔ڈی ایس پی گوجرہ وقار احمد نے پریس کانفرنس کے دوران کیس کی پیشرفت اور ڈراپ سین سے متعلق بتاتے ہوئے تفتیش کے دوران ہونے والے کئی اہم انکشافات

بھی سامنے رکھے۔ڈی ایس پی نے کہا کہ مبینہ متاثرہ لڑکی اور مدعی مقدمہ لوگوں کو پھنساکر پیسے بٹورتے تھے، مبینہ متاثرہ لڑکی اور مدعی مقدمہ بین الاضلاعی گروہ کے رکن ہیں۔وقار احمد نے بتایا کہ گروہ کے دیگر اراکین میں عنصر، واصف، لائبہ عرف صائمہ شامل ہیں، گروہ نے منصوبہ بناکر غلط کاری کیس کا مقدمہ درج کروایا تھا۔ڈی ایس پی کا کہنا ہے کہ گروہ نے راولپنڈی میں تین مختلف مقدمات درج کروائے، مدعی مقدمہ خاتون مبینہ متاثرہ لڑکی کی رشتہ دار نہیں ہے، مبینہ متاثرہ لڑکی گوجرانوالہ کی رہائشی راولپنڈی میں کرایہ کے مکان میں رہتی ہے۔ڈی ایس پی نے کہا کہ گروہ نے ملزمان سے 50 لاکھ روپے مانگے تھے، 10اکتوبر کو ایک خاتون نے بھانجھی سے موٹروے پر غلط کاری کا مقدمہ درج کروایا تھا۔وقار احمد نے کہا کہ موٹر وے کیس کے 2 ملزمان قید میں ہیں۔