مجھے تو نواز شریف اور عمران خان کے دور میں بس ایک ہی فرق نظر آیا ہے ۔۔۔ رؤف کلاسرا کا زبردست سیاسی تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار رؤف کلاسرا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔خواجہ آصف فرمارہے تھے: ان کے دور میں ایکسپورٹ چوبیس ارب ڈالرز تھی ۔ شاید وہ بھول رہے ہیں کہ چوبیس ارب ڈالرز سالانہ ایکسپورٹ پیپلز پارٹی 2013ء میں چھوڑ کر گئی تھی اور جب (ن) لیگ نے

2018 ء میں حکومت چھوڑی تو ایکسپورٹ بیس ارب ڈالر تک تک گر چکی تھی۔ یہ پہلی دفعہ ہورہا تھا کہ ایکسپورٹ اوپر جانے کی بجائے چار ارب ڈالرز کم ہوگئی تھی ۔ اس طرح وہ جس ترقیاتی فنڈ کی بات کررہے تھے اور سات سو ارب روپے سے زائد کا بجٹ بتایا وہ کسی دن دستاویزات اٹھا کر دیکھ لیں ‘یہ رقومات صرف کاغذات کی حد تک ہوتی ہیں ۔ صرف بجٹ والے دن خبریں بنوانے کے لیے ورنہ پی ایس ڈی پی کبھی بھی پچاس ساٹھ فیصد سے زیادہ استعمال نہیں ہوا ۔ ایک سرکاری افسر نے کہا تھا کہ پاکستان کے پاس اتنی صلاحیت ہی نہیں کہ یہ سو فیصد ترقیاتی فنڈ استعمال کر سکے۔ ہر سال وزارتیں پیسے واپس کر دیتی ہیں یا پھر بہت سی وزارتوں کا پیسہ بجٹ میں مختص تو کیا جاتا ہے لیکن بعد میں وہ شفٹ کر کے کسی اور جگہ دے دیا جاتا ہے۔اسحاق ڈاراس وقت چوراسی کمیٹیوں کے سربراہ تھے اور وہی اصل وزیراعظم تھے‘ وہ سیاہ کرتے سفید کرتے ان سے کوئی نہیں پوچھ سکتا تھا ۔ جس نواز شریف کی ترقی کے افسانے خواجہ آصف سنا رہے تھے وہ تو آٹھ آٹھ ماہ پارلیمنٹ نہیں آتے تھے۔ ایک سال وہ سینیٹ نہ گئے۔ کابینہ کا اجلاس چھ چھ ماہ تک نہیں ہوتا تھا ۔ انہوں نے ایک سو سے زائد غیرملکی دورے کیے اور چار سو دن کے قریب وہ ملک سے باہر رہے۔ صرف لندن کے چوبیس دورے الگ ۔ جو وزیراعظم پارلیمنٹ نہیں آتا تھا‘ سینیٹ نہیں جاتا تھا‘ کابینہ کے اجلاس چھ ماہ نہیں بلاتا تھا ‘

ہر دوسرے ہفتے ملک سے باہر ہوتا تھا‘اس کے بارے خواجہ آصف جیسا بندہ ہی خوش فہمی کا شکار ہوسکتا ہے کہ نواز شریف دور میں یہ ہورہا تھا اور وہ ہورہا تھا ۔ کون سی کابینہ کون سی پارلیمنٹ‘ چند خاندان کے لوگ ہی حکومت چلا رہے تھے۔ اسحاق ڈار نے پاکستانی تاریخ کے چالیس ارب ڈالرز کے مہنگے قرضے لیے۔ یورو بانڈز میں تو حد ہی کر دی ۔ خواجہ آصف کی خوش قسمتی یہ تھی کہ ان کے بعد آنے والے پی ٹی آئی حکومت کے وزیروں کو کچھ پتہ نہیں کہ حکومت کیسے چلانی ہے ‘لہٰذا آج نواز لیگ ان پر چڑھائی کیے ہوئے ہے ۔ تحریک انصاف پہلے دن سے لڑنے آئی تھی اور لڑ رہی ہے ‘ یہ طے ہے کہ حکومت چلانا ان کے بس کی بات نہیں۔ عمران خان بائیس برس کرپشن کے خلاف باتیں کرتے رہے اور اب پتہ چلا ہے کہ کرپٹ تو ان کے دائیں بائیں بیٹھے تھے‘ جن کی وہ خود تعریفیں کرتے نہیں تھکتے تھے ۔ فرق صرف اتنا رہ گیا ہے کہ نواز شریف دور میں جو کرپشن ہورہی تھی اس کا براہ راست فائدہ شریف خاندان کے کاروبار کو ہورہا تھا جبکہ عمران خان کے دور میں کرپشن کا فائدہ ان کے قریبی دوستوں‘ وزیروں اور مشیروں کو ہورہا تھا ۔ اسد عمر کی تقریر سن کر سمجھ نہیں آرہی تھی کہ ہنسا جائے یا رویا جائے ۔ ہر دوسرے فقرے میں وہ عمران خان کی عظمت‘ ذہانت اور سمجھداری کی تعریفیں کر کے پاکستانیوں سے کہہ رہے تھے کہ شکر کرو عمران خان آپ کے وزیراعظم ہیں۔ وہ موجودہ معاشی پالیسیوں کا شاندار دفاع کررہے تھے۔ اس عمران خان کا جس نے اسی اسد عمر کو صرف ایک واٹس ایپ میسج پر وزیرخزانہ کے عہدے سے یہ کہہ کر برطرف کر دیا تھا کہ آپ کی معاشی پالیسیاں ناکام ثابت ہوئی ہیں اور اس عہدے پر رہنے کے قابل نہیں ہیں ۔ لوگ ایسے ہی کہتے ہیں کہ عمران خان مردم شناس نہیں‘ مردم شناس نہ ہوتے تو اسد عمر کی جگہ حفیظ شیخ کو لاتے جس نے بقول خود اسد عمر کے ہٹتے ہی اپنے پہلے بارہ ماہ میں ہی معیشت بہتر کر دی۔ ویسے اسد عمر کی اپنے بارے میں سچ بولنے پر تعریف ہونی چاہیے کہ وہ وزیرخزانہ کے طور پر مکمل ناکام نکلے اورحفیظ شیخ کو نہ لایا جاتا تو بیڑا غرق ہوجاتا ۔(ش س م)

Sharing is caring!

Comments are closed.