مجھے پہلے ہی پتہ تھا عمران خان اقتدار میں آکر یہی کچھ کرے گا ،

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار توفیق بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔وزیراعظم عمران خان نے ا قتدار میں آنے سے پہلے اور اقتدار میں آنے کے بعد کئی دعوے کئے ان کے ان وعدوں اور دعوؤں پر ان کے یوٹرنوں پر بات کرنے کی ضرورت مجھے اس لئے محسوس نہیں ہوئی

لوگ اس سے بخوبی آگاہ ہیں‘ البتہ وزیراعظم ہاؤس اور گورنر ہاؤسز کو یونیورسٹیزیا کسی اور حیثیت میں تبدیل کرنے کے حوالے سے وہ اپنے وعدے یا دعوے پر قائم نہیں رہ سکے۔ میرے خیال میں یہ اچھی بات اس لئے ہے کہ ان مقامات کی ایک تاریخی حیثیت ہے جو بہرحال قائم رہنی چاہئیے‘ یہ مقامات کسی کی ذاتی جاگیر نہیں ہوتے‘ کوئی وزیراعظم یا گورنر رخصت ہونے کے بعد انہیں اپنے سر پر اٹھا کر گھر نہیں لے جاتا‘ ہر ملک میں ایسے مقامات ہوتے ہیں‘ حکمران اگر نئی یونیورسٹیاں نئے پارک بنانا چاہیں اس مقصد کے لئے بے شمار زمینیں بے کار پڑی ہیں‘ جو تاریخی عمارات کسی ملک یا شہر کی شناخت ہوتی ہیں ان کی حیثیت تبدیل کرنا عقل مندی نہیں کہلاتی‘ اس لئے میں نے کبھی وزیراعظم کے اس موقف کی حمایت نہیں کی کہ وزیراعظم ہاؤس یا گورنر ہاؤسز کو یونیورسٹیوں میں تبدیل کر دیا جائے‘ میں تو یہ بھی مناسب نہیں سمجھتا کہ وزیراعظم صاحب وزیراعظم ہاؤس میں نہ رہیں‘ انہیں وہیں رہنا چاہیئے روزانہ وزیراعظم ہاؤس سے بنی گالہ آنے جانے سے وقت اور پیسے دونوں کا ضیاع ہوتا ہے‘ وزیراعظم کا ایک ایک پل قیمتی ہے‘ ا گر بنی گالہ سے وزیراعظم ہاؤس کا فاصلہ ہیلی کاپٹر پر پندرہ منٹ میں بھی طے ہوتا ہے تو یہ پندرہ منٹ کسی اچھے کام کے لئے بھی وقف کئے جا سکتے ہیں‘ نئی یونیورسٹیاں‘ نئے پارک بھی ضرور بنائیں‘ مگر جو پرانی یونیورسٹیاں ہیں یا جو پرانے پارک‘ کوڑے دانوں میں تبدیل ہو چکے ہیں‘

پہلے ان کی حالت درست کریں‘ ہمارے محترم وزیراعظم نے اقتدار میں آنے کے بعد کچھ ایسے دعوے جن کی تکمیل مجھے پتہ تھا‘ پوری کوشش کے باوجود ان سے نہیں ہو سکے گی۔مثلاً اقتدار میں آنے کے بعد انہوں نے فرمایا ”ہم افسروں سے بڑے بڑے گھر چھین لیں گے‘ ہم ان سے بڑی بڑی گاڑیاں چھین لیں گے‘ وغیرہ وغیرہ …… مجھے ان کی ان باتوں پر ہنسی آتی تھی‘ گوکہ مجھے ان کی نیت پر کوئی شک نہیں تھا مگر مجھے پتہ تھا یہ کام وہ نہیں کر سکیں گے‘ اس ملک میں اصل بادشاہت بھی بیورو کریسی کی ہے‘ اب تین سال گزر گئے بیورو کریسی ان سے اگر اس طرح تعاون نہیں کر رہی جس طرح سابق حکمرانوں سے وہ کرتی رہی ہے تو میرے خیال میں بیورو کریسی کو اس بات کا غصہ ہے خان صاحب نے ان سے بڑے بڑے سرکاری بنگلے اور گاڑیاں چھیننے کی بات کیوں کی تھی؟ ابھی توخان صاحب نے صرف بات کی تھی تو یہ عالم ہے اگر اس پر عملدرآمد کرنے کی ہلکی سے کوشش بھی وہ کرتے اب تک فارغ ہو چکے ہوتے۔ میرے خیال میں افسروں سے بڑے بڑے سرکاری گھر چھین لینے کی بات بھی مناسب نہیں تھی افسروں نے بھی فارغ ہونے کے بعد یہ بنگلے اپنے ناموں پر الاٹ نہیں کروا لینے تھے۔ ان کی ملکیت حاصل نہیں کر لینی تھی اصل معاملہ جس پر توجہ دینے کی ضرورت تھی وہ یہ دیکھنا تھا کوئی افسر جب سروس میں آیا تب اس کے اثاثے کتنے تھے‘

اس کا بینک بیلنس کتنا تھا اور اب کتنا ہے؟ اس حوالے سے کوئی پالیسی بنائی جاتی کوئی طریق کار طے کیا جاتا‘ کوئی کمیشن بنایا جاتا یقیناً وزیراعظم کایہ ایک بڑا کارنامہ ہوتا۔ ہم اب بھی ان کے لئے دعا گو ہیں اللہ انہیں کسی ایک ایسے معاملے میں ضرور سرخرو کردے جسے اگلے الیکشن میں وہ عوام کے سامنے رکھ سکیں‘ فی الحال میرے نزدیک ان کا یہی ایک کارنامہ ہے کہ کچھ اہم مقامات کی تاریخی حیثیت انہوں نے تبدیل نہیں کی جن میں گورنر ہاؤسز بھی شامل ہیں‘ البتہ گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے گورنر ہاؤس لاہور کو ایک ”شارع عام“ بنا کر اس کی ایک روایتی حیثیت پر جو زد لگائی اس پر وہ خراج تحسین کے مستحق ہیں‘ گورنر ہاؤس کے دروازے اس سے قبل کبھی عام لوگوں کے لئے اتنے کھلے نہیں تھے جتنے اب کھلے ہیں‘ چوہدری سرور کو یہ اعزاز حاصل ہے گورنر بننے کے بعد اللہ نے انہیں پہلے سے زیادہ عاجزی عطا کر دی ہے‘ میں صرف کہتا نہیں ہوں یہ میرا ذاتی مشاہدہ ہے۔ اعلیٰ مقام پر فائز کوئی شخص عاجزی اختیار کرے‘ تکبر سے بچتا رہے‘ شکر ادا کرتا رہے‘ اس کے سارے عیبوں ساری خرابیوں ساری زندگی کے لئے قدرت پردہ ڈالے رکھتی ہے‘ لوگ اس راز کو سمجھنے سے قاصر ہیں‘ چوہدری سرور اس راز کو پا چکے ہیں‘ سو ان کے راستے کھلے ہیں‘ اور منزلیں ان کے قدم چومتی رہیں گی‘ یہاں کسی کو چھوٹا سا کوئی عہدہ ملتا ہے وہ فوراً ”تکبرا“ جاتا ہے

پھر اس کے نتائج بھی وہ بھگتتا ہے‘ چوہدری سرور کو سچ بولنے کی جو ”بیماری“ ہے‘ سچ پوچھیں اس کے نتیجے میں ہمارے موجودہ ”سسٹم“ میں وہ کسی عہدے کے اہل نہیں‘ مگر یہ ان کی عاجزی کا انعام ہے کہ قدرت کسی نہ کسی عہدے کسی نہ کسی منصب سے انہیں نوازے رکھتی ہے‘ چاہے وہ منصب پاکستان میں ہو یا برطانیہ میں …… اور سب سے بڑا ”منصب“ تو قدرت نے انہیں اس صورت میں عطا کر رکھا ہے وہ کسی سرکاری یا دنیاوی عہدے پر فائز ہوں نہ ہوں لوگوں کی ان کے ساتھ محبت کم نہیں ہوتی‘ یہ ”منصب“ اللہ نے ہمارے سابق نگران وزیراعظم ملک معراج خالد کو بھی عطا کر رکھا تھا‘ بلکہ وہ جب کسی سرکاری و حکومتی عہدے پر نہیں ہوتے تھے لوگ ان سے زیادہ محبت کرتے تھے‘ ان کی زیادہ عزت کرتے تھے‘ ملک معراج خالد بے اولاد تھے‘ مگر چوہدری سرور کی جو اولاد ہے‘ خوش اخلاقی میں ان سے بھی دو ہاتھ بلکہ ”دومنہ“ آگے ہے‘ چوہدری محمد عاطف سرور اور چوہدری محمد انس سرور برطانوی سیاست میں اہم و موثر کردار ادا کر رہے ہیں‘ ادھر پاکستان میں ان کے والد محترم نے اپنے خلاف ہونے والی بے شمار سازشوں کے باوجود اپنی صلاحیتوں کا لوہا کچھ اس انداز میں منوائے ہوئے ہیں کہ سرکار جب بھی کسی مصیبت میں پھنستی ہے کسی مسئلے کا شکار ہوتی ہے اور اس سے نمٹنے کے تمام راستے بند پاتی ہے چوہدری سرور اسے یاد آتے ہیں اور ٹھیک یاد آتے ہیں کہ اپنی ذہانت سے کوئی نہ کوئی حل اس مصیبت یا مسئلے کا وہ نکال ہی لیتے ہیں‘ ان کے مقابلے میں پنجاب میں ہی کچھ ایسے ”عاقبت نااندیش“ ہیں جنہیں کسی مسئلے کا کوئی حل نکالنے کے لئے کہا جائے‘ اس کا ”حل“ وہ یہ نکالتے ہیں اس مسئلے کو مزید بڑھا دیتے ہیں‘ بہر حال وزیراعظم عمران خان گورنر ہاؤس لاہور کو یونیورسٹی تو نہیں بنا سکے پر یہ طے ہے کہ گورنر چوہدری سرور نے خود کو ایک ایسی ”یونیورسٹی“ ضرور ثابت کیا ہے جہاں خوش اخلاقی و عاجزی انکساری کے ایسے کورسز پڑھائے جاتے ہیں جن سے معاشرے میں تکبر و عدم برداشت جیسی لعنتیں ختم ہونے کے اچھے خاطے چانسز ہیں!!