مجھے کہتا تھا بے بی :

سیول (ویب ڈیسک) سعودی عرب کی ایک خاتون جو سعودی عرب میں کوریا کے سفارت خانے میں کام کرتی تھی نے کوریا کے قومی انسانی حقوق کمیشن میں ایک شکایت درج کروائی ہے جس میں کوریا کے سفیر “جو بیانگ گوک” پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ اُسے حجاب اتارنے پر مجبور کرتا تھا۔

یہ سعودی خاتون کوریا کے سفارتخانے میں مترجم کی حیثیت سے کام کرتی تھی لیکن کوریا کا سفیر اسے اپنی نجی معاون کی حیثیت سے کام کرنے کا بھی کہتا تھا۔سعودی خاتون نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ سفیر اسے کہا کرتا تھا کہ جب بھی میرے سامنے آو تو مسکرایا کرو۔ خاتون نے اپنی درخواست میں لکھا کہ مجھے ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے مجھے چھیڑا جا رہا ہے۔ خاتون نے دعویٰ کیا ہے کہ سفارت خانے میں متعدد بار اس مسئلے کو اٹھایا لیکن ہر بار نظر انداز کر دیا گیا۔ سفیر نےوارننگ دی تھی کہ اگر اس کی بات نہ مانی تو وہ میرے گھر والوں کو بتائے گا کہ سفارت خانے میں ایک مرد کے ساتھ میرے نازیبا روابط ہیں۔سفیر “جو بیانگ گوک” نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ کوریا کے قومی انسانی حقوق کمیشن نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کر رہا ہے۔ کوریا کی وزارت برائے امور خارجہ نے کہا ہے کہ ہم اس چیز کا جائزہ لے رہے ہیں کہ یہ شکایت حقائق پر مبنی ہے یا صرف مفروضوں کی بنا پر درج کرائی گئی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *