مجیب الرحمان شامی نے پیشگوئی کر دی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار مجیب الرحمان شامی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ وزیراعظم عمران خان کی حکومت اور اس کے مخالف متحدہ محاذ پی ڈی ایم کے درمیان کھینچا تانی سے ہر شخص واقف ہے۔ پی ڈی ایم کے رہنما اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کر رہے ہیں‘

وزیراعظم سے استعفیٰ مانگ رہے ہیں، ان کے ساتھ کسی بھی طرح کے رابطے اور مکالمے سے انکار کر رہے ہیں۔ وزیراعظم اور ان کی حکومت بھی اپوزیشن کی سرکوبی کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ سیاست پارلیمنٹ سے باہر نکلنے کے لئے پرتول رہی ہے اور سڑکوں کو محور بنانے کے لیے پُرجوش ہے۔ ایسے میں پارلیمنٹ کی اہمیت کو واضح کرنا، اور فریقین کو ایک دوسرے کی بات سننے پر آمادہ کرنا آسان نہیں ہے۔ پیر صاحب پگارا نے بذریعہ درانی صاحب یہ بیڑا اٹھایا ہے۔ پیر صاحب کے صلاح کاروں کا دائرہ وسیع بھی ہو سکتا ہے اور غیبی تائید کے اشارے بھی ڈھونڈے جا سکتے ہیں، لیکن اس اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارنے کے بجائے جو کچھ اجالے میں ہو رہا ہے، اس کی طرف توجہ دی جائے، تو اسے نیک فال سمجھا جائے گا۔ اپوزیشن کی شکایات میں بھی وزن ہے، اور حکومتی مشکلات بھی ظاہر ہیں، ایسے میں مکالمے اور مصافحے کی اہمیت اُجاگر کرنا جان جوکھوں کا کام ہے۔ پیر صاحب اور ان کے سیکرٹری جنرل نے جو ذمہ داری اٹھائی ہے اس کا تقاضا ہے کہ اسے سنجیدگی سے آگے بڑھایا جائے۔ قیدی قائد حزبِ اختلاف سے کھسر پھسر کو کافی نہ سمجھا جائے، در زنداں کھولا جائے، آزاد شہریوں کو آزادانہ بات کرنے کا موقع ملے، نئے انتخابات اگر ضروری ہوں تو ان سے بھی گریز نہ کیا جائے، جو کچھ ہو، افہام و تفہیم سے بات چیت سے ایک دوسرے کو قائل کر کے ہو۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی خواہش سب کو نیچا دکھا سکتی ہے… پیر صاحب پگارا حکومتی اتحاد کا اہم حصہ ہیں، جو توجہ انہوں نے بذریعہ درانی صاحب حاصل کر لی ہے، وہ آگے بڑھنے کا تقاضا کر رہی ہے۔ سننے والے کانوں کو اگلے قدم کا انتظار ہے۔

Comments are closed.