محسن پاکستان کی پنشن کتنی تھی ۔۔؟؟؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور خاتون مضمون نگار عامرہ احسان اپنی ایک تحریر میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔2008ء میں AFP کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے کہا:میں نے دو مرتبہ ملک بچایا ایٹمی قوت بناکر اور دوسری مرتبہ سارا الزام اپنے کندھوں پر لے کر۔’جس پر احسان کرو اس کے شر سے بچو‘

والا سیدنا علی ؓ کا قول حرف بہ حرف سچ ثابت ہوا۔ جھوٹے پروپیگنڈوں کے طور مار اس پر مستزاد رہے۔ پیسہ بنانے، جائیدادیں خریدنے کے سبھی الزامات چھوڑے گئے تاکہ انہیں متنازع رکھا جا سکے اور حکمرانوں کے غلط فیصلے جواز پا سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی پنشن پہلے 4,466 روپے تھی، پھر 19 ہزار کرکے حاتم طائی کی قبر پر لات رسید کی گئی۔ بعد ازاں سپیشل پنشن کا آغاز ہوا جب دیکھا کہ بینک اکاؤنٹ خالی اور بہن بھائیوں سے لے کر کھانے کی نوبت آگئی ہے۔قوم اور سیاسی جماعتیں اس تغافل کے جرم پر سبھی قابل گرفت ہیں۔ یہ قوم محسن کش ہے۔ بانیپاکستان خراب ایمبولینس میں کراچی کے حبس دم والی گرمی میں راستے میں نقل مکانی فرما گئے۔ جب بہن بے بسی سے قائد اور بانی کے منہ پر سے ہاتھ کے پنکھے سے مکھیاں ہٹا رہی تھی! اور اب ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے جنازے پر پوری ملکی قیادت، سیاسی قیادت غائب تھی کلیتاً۔ دو قدم پر بیٹھے صدر،وزیراعظم، کابینہ کے ارکان،مقتدرین اعلیٰ سبھی زبانی جمع خرچ کے سوا شامل نہ ہوئے بس ٹوئٹس اور پھول چڑھانے پر اکتفا کیا جس کے وہ محتاج نہ تھے۔ پوری مقتدرہ چند قدم پر بیٹھی رہی!قبل ازیں شدید بیماری میں کسی نے مزاج پرسی تک نہ کی جس کا انہوں نے شکوہ بھی کیا۔ تحفظات کیا تھے؟ ایٹمی ہتھیار پر دنیا کے سامنے شرمساری کا اظہار؟ IMF, FATF کے لالے پڑنے کا خوف؟ امریکی نائب وزیر خارجہ جو ابھی تکبر و نخوت میں ڈوبی بھارت میں ہماری تحقیر کرتی پاکستان سے ہوگزری اس کی پرچھائیں سے ڈر کر؟ اس سے پہلے پاکستان نے قائداعظم کی وفات پر یہ منظر دیکھا تھا

کہ ملک کے قادیانی وزیر خارجہ نے بانیئ پاکستان کی نماز جنازہ میں (علیٰ الاعلان) شرکت نہیں کی تھی۔ چلئے ان سب کی موجودگی سے ڈاکٹر صاحب محفوظ رہے اور عامۃ الناس جن کی محبت، عقیدت بھری دعائے مغفرت کے اخلاص بھرے سائے میں وہ رخصت ہوئے، اللہ کے حضور ان کے لیے گواہیاں اپنے عوام کی جائیں گی جن کی خاطر کلفت کاٹی،آزمائشوں سے گزرے،جو ایٹمی قوت بنا دینے کی پاداش میں کتنا عرصہ چند قدم پر رہنے والی بیٹی اور نواسیوں کی دید سے بھی محروم رکھے گئے۔ جب ان سے شہاب الدین غوری کے مزار پر سوال کیا گیا کہ اس کی تعمیر میں دلچسپی کی وجہ کیا تھی تو کہنے لگے: آپ کا ہیرو رنجیت سنگھ ہے اور ہمارا شہاب الدین غوری ہے! سورنجیت سنگھیئے جنازے پر نہ آئے تو مضائقہ ہی کیا ہے! اللہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی مغفرت فرمائے، ان کی محنت قبول فرمائے (آمین)۔ مسلم مملکت کے دفاع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت ان کا مقدر ہو: اللہ ایک تیر کی بدولت تین افراد کو جنت میں داخل کرتا ہے۔ تیر بنانے والا جو نیکی کے ارادے سے بنائے۔ مجاہد کو تیر فراہم کرنے والا اور تیر چلانے والا۔ سو بقدر ایٹمی ہتھیار اجر اللہ تعالیٰ اس حدیث پاک کی روشنی میں انہیں عطا فرمائے (آمین)۔ اللہ نے حکماً ارشاد فرمایا ”اور تم لوگ جہاں تک تمہارا بس چلے زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے ان کے مقابلے کیلئے مہیا رکھو تاکہ اس کے ذریعے اللہ کے اور اپنے دشمنوں اور دوسرے اعداء کو خوفزدہ کردو۔ جنہیں تم نہیں جانتے مگر اللہ جانتا ہے۔ اللہ کی راہ میں جو کچھ خرچ کرو گے اس کا پورا پورا بدل تمہاری طرف پلٹا یاجائے گا اور تمہارے ساتھ ظلم ہر گز نہ ہو گا“۔ (الانفال۔60)اللہ نے اپنا وعدہ پورا کیا۔ ہم نے گھاس کھائے بغیر ایٹمی قوت حاصل کرلی۔ تاہم حکمرانوں نے ایٹمی ہتھیار کے خالق کو گھاس کھلانے کی کوشش کر ڈالی۔ بعد ازاں ہماری معاشی بد حالی ساری حکمرانوں کی اشرف غنی و افغان کٹھ پتلی حکومت والی بدعنوانیوں کی بنا پر ہے۔ ان کی آف شوریوں،بیرون ملک جائیدادوں، فارم ہاؤسوں نے ملک کھوکھلا کر ڈالا۔ قوم کے نوجوانوں سے رول ماڈل،نمونہ ہائے عمل الگ چھین لئے گئے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا نام میلاکرکے کھلاڑی شوبز کے نچئیے گویے بھانڈلا سجائے۔ سو 20 سال میں پلنے بڑھنے والی نسل ٹک ٹاکر ریمبونما ہے۔ اعلیٰ اخلاق و کردار،محنت، اولوالعزمی،پامردی عنقا ہے!اپنے اطراف میں دیکھوں تو مجھے لگتا ہے!قبل بعثت کا زما نہ ہے،ز مانہ میرا!

Comments are closed.