محمد علی درانی نے حیران کن بات کہہ دی

لاہور (ویب ڈیسک) دو روز قبل قید میں شہباز شریف سے ملاقات کرنے والے مسلم لیگ (ف) کے رہنما محمد علی درانی کا کہنا ہے کہ مذاکرات نوشتہ دیوار ہیں، لیکن کہیں ایسا نہ ہو کچھ عرصہ بعد وزیراعظم عمران خان کو کہنا پڑ جائے کہ مذاکرات نہ کرکے انہوں نے بڑی غلطی کی ۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے محمد علی درانی نے کہا کہ (ن) لیگ، پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کی بھی یہی سوچ ہے کہ سیاسی درجہ حرارت بڑھانے کا فائدہ نہیں ہے۔ ٹریک ٹو مذاکرات کا آؤٹ کم رزلٹ کی صورت میں آتا ہے، ٹریک ٹو سے متعلق معمولی تفصیل پر بھی کسی سے کوئی بات نہیں کی، تجویز میں کوئی خفیہ پہلو نہیں تھا، اپوزیشن کی طرح حکومت بھی راضی نہیں کہ بات کرے۔ اپوزیشن اور حکومت دونوں راضی نہیں تو اس وقت مذاکرات کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے، ہم بات نہیں کریں گے، ٹکراؤ کی طرف جائیں گے تو اس کے بعد بھی مذاکرات تو کرنے پڑیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ استعفے موصول ہو رہے ہوں لیکن ابھی استعفے دینے کے عمل میں تاخیر نظر آ رہی ہے۔ تحریک کے تمام پروسس میں بھی لگتا ہے کہ وقت کچھ آگے بڑھے گا۔ شہباز شریف قید میں ہوں تب بھی وہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ہیں۔ میں پیرپگارا کا پیغام لے کر آیا تھا، پیرپگاڑا سے درخواست کروں گا کہ وزیراعظم کو کہیں کہ مذاکرات کی جانب آئیں کیونکہ یہ وقت کی ضرورت ہیں اور مذاکرات سے بھاگنے والی غلطی پر ہیں ۔

Comments are closed.