محمد علی سد پارہ کے ٹو سر کرنے نہیں گئے تھے بلکہ ۔۔۔۔۔۔۔۔

اسلام آباد (ویب ڈیسک) نامور صحافی محمد زبیر خان بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔جہاں ایک جانب پاکستانی کوہ پیما محمد علی سد پارہ اور ان کے ساتھیوں کے متعلق اب تک کوئی اطلاعات سامنے نہیں آ سکی وہیں پاکستان کے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث سے جنم لے لیا ہے

کہ کیا محمد علی سد پارہ دنیا کے دوسرے بلند ترین پہاڑ کےٹو کو سردیوں میں سر کرنے کی مہم پر بطور کوہ پیما شامل تھے یا وہ اس مہم میں ایک ہائی ایلٹیچیوٹ پورٹر بن کر گئے تھے؟اس بحث کا آغاز پاکستان کے مایہ ناز کوہ پیما نذیر صابر، جنھیں پاکستان کی جانب سے سب سے پہلے دنیا کی بلند ترین چوٹی ماوئنٹ ایورسٹ کو فتح کرنے کے علاوہ کے ٹو سمیت آٹھ ہزار میٹر سے بلند چار چوٹیاں فتح کرنے کا اعزاز حاصل ہے کی گذشتہ دونوں سوشل میڈیا پر آنے والی ایک ویڈیو کے بعد ہوا۔جس میں انھوں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ محمد علی سدپارہ اس مہم میں بطور کوہ پیما نہیں بلکہ جان سنوری کے لیے ایک ہائی ایلٹیچیوٹ پورٹر کے حیثیت سے شامل تھے۔ملک کے مایہ ناز کوہ پیما نذیر صابر نے ایک ویڈیو میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ ’سردیوں میں کے ٹو پر جانے کا فیصلہ محمد علی سدپارہ کا نہیں تھا۔ جان سنوری نے محمد علی سدپارہ کو ملازمت دی تھی۔ اس مرتبہ کے ٹو سر کرنے کی مہم میں محمد علی سدپارہ کی منصوبہ بندی شامل نہیں تھی۔ جان سنوری ان کا دوست تھا۔ اس نے ان کی خدمات بطور ہائی ایلٹیچیوٹ پورٹر حاصل کیں تھیں۔‘نذیر صابر کا اپنی ویڈیو میں یہ بھی کہنا تھا کہ ’محمد علی سدپارہ کو اس مہم کے لیے جان سنوری نے رقم کی ادائیگی کی تھی۔ نذیر صابر کا کہنا تھا کہ محمد علی سدپارہ بین الاقوامی معیار کے بلند پایہ کوہ پیما ہیں۔‘اس حوالے سے کوہ پیما نذیر صابر کے اس دعوے کی حقیقت جاننے کے لیے بی بی سی نے محمد علی سدپارہ کے مینیجر راؤ احمد اور ایک ٹور کمپنی جیسمین ٹور آپریٹر کے مالک علی اصغر سے بات کی ہے۔محمد علی سدپارہ کے مینجر راؤ احمد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی

کہ ’جان سنوری نے محمد علی سدپارہ کی خدمات حاصل کی تھیں۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’یہ کوئی ایسی انہونی بات نہیں ہے۔ یہ پیشہ ہے۔ جان سنوری نے پاکستان اور دنیا بھر میں دستیاب سب سے باصلاحیت اور تجربہ کار ٹیلنٹ کا انتخاب کیا تھا۔‘جیسمین ٹور آپریٹر کے علی اصغر کا کہنا تھا کہ ’جان سنوری نے محمد علی سدپارہ کو دس ہزار ڈالرز کی ادائیگی کی تھی۔ یہ معاوضہ اس عام معاوضے سے دگنا تھا جو عموماً غیر ملکی کوہ پیما محمد علی سدپارہ کی موسم گرما میں خدمات حاصل کرتے ہوئے ادا کرتے تھے۔‘انھوں نے مزید بتایا کہ نیپال کے شرپا بھی موسم گرما میں چار سے پانچ ہزار ڈالرز معاوضہ وصول کرتے ہیں۔محمد علی سدپارہ نے سنہ 2016 میں ایک انٹرویو میں اپنی دیرینہ خواہشات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ان کی زندگی کے دو ہی مقصد ہیں، ایک وہ اپنی اہلیہ کو ایک سلائی مشین خرید کر دیں اور دوسرا دیرینہ خواب کہ وہ سردیوں میں کے ٹو کو سر کریں۔تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کے اس عظیم کوہ پیما کو اپنا دیرینہ خواب پورا کرنے کے لیے بطور ہائی ایلٹیچیوٹ پورٹر کیوں جانا پڑا؟اس کا جواب دیتے ہوئے ان کے منیجر راؤ احمد کا کہنا تھا کہ ایک حقیقت سب کو مد نظر رکھنی چاہیے کہ محمد علی سد پارہ انتہائی مشکل حالات میں پاکستان کا پرچم بلند کیے ہوئے تھے۔’ان کے پاس کبھی بھی ایسے وسائل نہیں تھے۔ ان کو پاکستان میں کبھی بھی کوئی ایسی سپانسر شپ نہیں ملی کہ وہ خود ہی آگے بڑھ کر کوئی چوٹی فتح کرتے۔ اس لیے جب غیر ملکی کوہ پیما آتے تو وہ ان کی مدد کرتے تھے۔‘انھوں نے مزید بتایا کہ ’ہاں، نیپال میں دو چوٹیوں کے لیے پاکستان کی فوج نے ان کو سپانسر کیا تھا۔ جس میں انھوں نے فتح حاصل کی تھی۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’کچھ سال پہلے تک تو وہ پورٹر اور ہائی ایلٹیچیوٹ پورٹر کا کام کرتے تھے یعنی ہزاروں فٹ کی بلندی پر کوہ پیماؤں کا سامان اٹھاتے تھے۔ جس کے بعد وہ تجربہ کار ہوئے اور چند برسوں سے وہ غیر ملکی کوہ پیماؤں کی مختلف اور بہتر طریقے سے مدد کرتے تھے۔‘انھوں نے وضاحت کی کہ ’چند برسوں اور حالیہ مہم جوئی کے دوران عموماً محمد علی سدپارہ آگے ہوتے، کوہ پیماؤں کے لیے راستے بناتے اور رسیاں لگاتے تھے۔ اپنی جان کو ہتھیلی پر رکھتے تھے۔ اس مدد کے عوض وہ معاوضہ وصول کرتے تھے۔‘

One response to “محمد علی سد پارہ کے ٹو سر کرنے نہیں گئے تھے بلکہ ۔۔۔۔۔۔۔۔”

  1. Ali Jan says:

    یہ اپنی حسد کی وجہ سے کہہ رہا ہے
    ورنہ علی سدپارہ نے تو دنیا کی 14 بلند ترین چوٹیوں میں سے 8 سر کر رکھا تھا
    یہ انتہائی بدنیت اور کم طرف شخص ہے