مداحوں کے کام کا انکشاف

کراچی (ویب ڈیسک) پاکستان ڈراما انڈسٹری کے باصلاحیت اداکار عمران اشرف نے کامیابی کے سفر میں پیش آنے والی مشکلات اور اپنی جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ کامیابی ملنے سے پہلے آدھی سے زیادہ انڈسٹری کو ان کی شکل تک یاد نہیں تھی۔آج پاکستانی ڈراموں کی ضرورت سمجھے جانے والے باصلاحیت

اداکار عمران اشرف کو کیر یئر میں یہ مقام حاصل کرنے کے لیے بہت زیادہ جدوجہد کرنی پڑی ہے۔ عمران اشرف کی اداکاری کا آج ہر کوئی معترف ہے۔ تاہم انہیں یہ کامیابی اتنی آسانی سے نہیں ملی۔ حال ہی میں برطانوی نشریاتی ادارے کو دئیے گئے انٹرویو میں عمران اشرف نے ڈرامے میں چھوٹا سا رول حاصل کرنے سے لے کر ڈرامے کا مرکزی کردار نبھانے تک کی داستان بیان کی ہے۔اداکار عمران اشرف گزشتہ کئی برسوں سے ٹی وی انڈسٹری کا حصہ ہیں لیکن انہیں اصل کامیابی 2018 میں ریلیز ہونے والے ڈرامے ’’رانجھا رانجھا کردی‘‘ سے ملی جس میں انہوں نے ’’بھولا‘‘ کا یادگار کردار نبھایا تھا۔ اور اس کردار کو نبھانے کے بعد عمران اشرف کو پہچانا جانے لگا۔’’بھولا‘‘ کے کردار سے قبل انہوں نے انڈسٹری میں جگہ بنانے کے لیے کیا جدوجہد کی اس بارے میں بتاتے ہوئے عمران اشرف نے کہا کہ ٹی وی پر پہچان ملنے سے قبل صرف میں ہی نہیں ہر اداکار کو جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ اپنی جدوجہد کے دوران میں نے بھی بھوک دیکھی ہے۔ آدھی سے زیادہ انڈسٹری نے میرے ہاتھ کی چائے پی ہوئی ہے، انہیں میری شکل تک یاد نہیں ہوتی تھی بس ایک لڑکا تھا جو اُن کے لیے چائے لاتا تھا۔ لیکن میں کوئی گلہ نہیں کررہا کیونکہ یہ اسٹرگل سب کرتے ہیں میں نے بھی کی۔عمران اشرف نے مزید کہا کہ انہوں نے کئی سال ڈراموں میں معمولی کردار اس امید میں نبھائے ہیں کہ ایک دن انہیں مرکزی کردار ادا کرنے کا موقع ملےگا۔ لیکن بہت سے ڈراموں میں مرکزی کردار ادا کرنے کے باوجود انہیں معمولی رول آفر ہوتے رہے کیونکہ لوگ مجھے ’’ہیرو‘‘ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔آج عمران اشرف اپنی صلاحیتوں سے خود کو منواچکے ہیں۔ ان کا ڈراما ’’رقص بسمل‘‘ شائقین میں بے حد پسند کیا جارہا ہے اور ڈرامے میں ان کی اداکاری اور ان کے چہرے کے تاثرات کی بے حد تعریف کی جارہی ہے۔ ’’رقص بسمل‘‘ میں عمران اشرف نے ایک مذہبی گھرانے کے لڑکے کا کردار ادا کیا ہے جسے ایک طوائف سے محبت ہوجاتی ہے۔اس ڈرامے میں اپنے کردار کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عمران اشرف نے کہا کہ موسیٰ عورتوں کی عزت نہیں کرتا اور پھر اس نے عورتوں کی عزت کرنا اور عورت کی اجازت کو اہمیت دینا سیکھا۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *