مذاکراتی کمیٹی میں شامل اوریا مقبول جان کے تہلکہ خیز انکشافات ،

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار اوریا مقبول جان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔پاکستان میں سیاستدانوں، دانشوروں، اینکر پرسنز اور کالم نگاروں کا ایک گروہ ہے جو مذہبی طبقات کیخلاف جائز و ناجائز ریاستی اقدام پر حکومت کو اپنی پرزور حمایت سے اُکساتا ہے، جب حکومت اس دلدل میں پھنس جاتی ہے

تو پھر اس پر چڑھ دوڑتا ہے۔ یہ گروہ پاکستان کے وجود میں آتے ہی پاکستان کی نظریاتی اساس اور اسکے اسلامی تشخص کیخلاف قائم ہو گیا تھا، اور آج تک اس گروہ کی ’’ذُریّت‘‘ پھل پھول رہی ہے۔ انکی نجی محفلوں میں جن موضوعات پر اتفاقِ رائے پایا جاتا ہے، ان میں اوّل یہ کہ پاکستان ایک ناجائز ریاست ہے جو اسلام کے نام پر بنی تھی اور ایسی ریاست کو قائم نہیں رہنا چاہئے۔ دوّم یہ کہ اس ریاست کے تحفظ کی واحد مضبوط علامت پاکستان کی فوج ہے، اسلئے فوج کو عام آدمی میں بدنام کیا جائے، اسکے افراد کی کردار کشی کی جائے اور لوگوں کو یقین دلایا جائے کہ پاکستان کے سارے مسائل کی جڑ دراصل فوج ہے، سوئم یہ کہ مذہبی طبقے کی جتنی ممکن ہو کردار کشی کی جائے، انکے آپس کے اختلافات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جائے، کوشش کی جائے کہ انکے اور ریاست کے درمیان ہمیشہ اختلافات کی خلیج قائم رہے۔ اگر کبھی ریاستی اداروں اور مذہبی طبقوں میں میدانِ سج جائے، لڑائی تیز ہو جائے تو پھر یہ گروہ ایک دَم پینترا بدل کر یہ الزام لگائے گا کہ ان گروہوں کو تو بنایا، پالا اور پروان ہی ریاستی اداروں نے چڑھایا ہے اور اب یہ بوتل کے جن باہر آ گئے ہیں، اسلئے لڑائی شروع ہے۔ پاکستان میں یہ طبقہ عرفِ عام میں سیکولر، لبرل اور روشن خیال کہلاتا ہے، لیکن بنیادی طور پر یہ اسلام دُشمن ہے اور یہ دُشمنی تحریروں اور گفتگو میں دکھائی دیتی ہے۔

یہی طبقہ تھا جنہوں نے 2007ء میں پرویز مشرف کو پہلے لال مسجد کے معاملے میں ’’ریاست کے اندر ریاست‘‘ کا پروپیگنڈے کر کے ایکشن پر اُکسایا، پھر جب مشرف نے ان دانشوروں اور کالم نگاروں کی موجودگی میں کہا کہ ہم ’’ایکشن‘‘ لیں گے، مگر پھر آپ ہی شور مچائو گے، تو بڑے بڑے ’’جیّد‘‘ اور ’’جغا دری‘‘ کالم نگاروں، صحافیوں اور دانشوروں نے بیک زبان کہا، ’’آپ ایکشن لیں، ہم کچھ نہیں کہیں گے‘‘۔ یوں لال مسجد کا ’’المناک سانحہ‘‘ ہوا اور اسکے بعد پاکستان ایک ایسی خوفناک سُرنگ میں داخل ہو گیا جس سے آج تک نہیں نکل سکا۔ شرپسند ی سے ناآشنا یہ ملک اسقدر ان کی گرفت میں آیا کہ ستر ہزار انسانی جانوں کا نذرانہ لے گیا۔ ’’کالعدم تحریکِ ‘‘ بھی اس گروہ کو شروع دن سے ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ یہ انکے دل پر اسلئے مزید چھریاں چلاتی ہے، کیونکہ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلی مذہبی جماعت ہے جس نے 2018ء کے الیکشنوں میں قومی سطح پر بائیس لاکھ چونتیس ہزار تین سو سولہ ووٹ لیکر پانچویں بڑی پارٹی کی حیثیت اختیار کی، جبکہ پنجاب میں یہ تیسری بڑی سیاسی پارٹی بن کر اُبھری، اور سندھ اسمبلی میں اس وقت انکے تین اراکین ہیں۔ تحریکِ لبیک کی مقبولیت کی وجہ سے ہی اس پارٹی کو کچلنے کی کوششیں شروع کی گئیں۔ انکے خلاف کوئی مواد موجود نہ تھا۔ نہ انکے ہتھیار بند جتھے اور گروہ تھے اور نہ ہی وہ تخریبی کارروائیوں میں کبھی ملوث ہوئے تھے۔ جو کچھ ہوا وہ جلوسوں اور دھرنوں میں ہی ہوا تھا اور ایسی

کارروائیوں سے تو کسی سیاسی پارٹی کا دامن پاک نہیں ہے۔ مگر یہ پاکستان کی پہلی سیاسی پارٹی ہے جس پر صرف سیاسی جلوسوں کے دوران ہنگاموں کو وجہ بنا کر اس پر پابندی لگائی گئی۔ اسی وجہ کی بنیاد پر تو بینظیر کے جاں بحق ہونے کے بعد ہونیوالے ہنگاموں پر پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کے دھرنوں میں ہونے والے پولیس کو زدوکوب کی بنیاد پر پی ٹی آئی بھی پابندی کی سزا وار تھی۔ پابندی لگی، ہائیکورٹ نے سعد رضوی کی نظر بندی غیر قانونی قرار دی، سپریم کورٹ نے بھی ہائیکورٹ کے فیصلے کی توثیق کی، لیکن حکومت اس اعلیٰ عدالت کے فیصلے کیساتھ دائو پیچ کھیلنے لگی جس سے معاملہ تلخی کی طرف چل پڑا، اور ’’مسجدِ رحمتہ اللعالمین‘‘ میں دھرنے کا آغاز ہو گیا۔ مجھے عمران خان صاحب وزیر اعظم پاکستان نے گورنر ہائوس میں اعجاز چوہدری صاحب کے سامنے ایک ملاقات میں معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کروانے کیلئے کہا تھا، دوسری جانب تحریک لبیک کی قیادت نے بھی ’’ثالث‘‘ کا کردار ادا کرنے کیلئے مجھ پر بھروسہ کیا۔ میں 21 اکتوبر 2021ء کو رات نو بجے کے بعد ’’مسجد رحمتہ اللعالمین‘‘ میں انکی شوریٰ کے اراکین سے ملا۔ انکے بنیادی طور پر تین مطالبے تھے۔ (1) سعد رضوی اور تمام اسیران کو رہا کیا جائے اور ساتھ شیڈول فور ختم کیا جائے۔ (2) تحریکِ لبیک پر جو حکومتی پابندی عائد ہے اسے ختم کیا جائے اور (3) تمام مقدمات واپس لئے جائیں۔ میں نے انہیں کہا کہ پہلے دو مطالبات ایسے نہیں کہ نہ مانے جائیں۔ کیونکہ سعد رضوی کی رہائی

پر سپریم کورٹ کی مہر لگ چکی ہے۔ پابندی کے حوالے سے حکومت کے پاس اگر کوئی مواد ہوتا تو وہ الیکشن کمیشن یا عدالت ضرور چلی گئی ہوتی۔ البتہ مقدمات واپس لینا آسان نہ ہو گا۔ شیڈول فور بھی انتظامی معاملہ ہے جسے ایک دستخط سے ختم کیا جا سکتا ہے۔ تحریکِ لبیک نے اس دوران اپنی جانب سے مذاکرات کیلئے (1) مفتی وزیر احمد رضوی، (2) علامہ غلام عباس فیضی اور (3) مفتی محمد عمیر الازہری کے نام بھی دے دیئے۔ اسکے بعد میں یہ پیغام لیکر اعجاز چوہدری صاحب کے پاس انکے دفتر میں آیا۔ انہوں نے میری گاڑی میں بیٹھے ہوئے عمران خان صاحب کو اس پیغام کا میسج کیا۔ اگلے دن جمعہ 22 اکتوبر 2021ء کیلئے انکے لانگ مارچ کا اعلان ہو چکا تھا۔ صبح سے جمعہ کی نماز تک تحریکِ لبیک والوں نے مجھے بے شمار فون کئے کہ آپ حکومت سے مذاکراتی ٹیم کا اعلان کروائیں اور ملاقات شیڈول کا بتائیں تاکہ ہم اپنا ’’مارچ‘‘ ملتوی کر دیں۔ جمعہ کی نماز تک وہ رابطے میں رہے، لیکن اس دوران عمران خان صاحب کو انتظامیہ اور بدامنی کرنے پر آمادہ کرنے والے اس ’’گروہ‘‘ نے قائل کر لیا کہ تحریکِ کو طاقت سے کچلا جائے۔ امن کی جانب بڑھتے ہوئے مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ اس گروہ کے ایک سرخیل کالم نگار وجاہت مسعود نے ٹویٹ کیا، ’’حکومت نے کالعدم تحریکِ سے مذاکرات کیلئے قائم کمیٹی میں اوریا مقبول جان کو شامل کیا۔ اوریا مقبول جان نے اپنے کالم میں کالعدم تحریکِ اور دوسرے گروہوں کو مملکتِ پاکستان

کیخلاف دعوتِ بغاوت دی تھی‘‘۔ میری تحریکِ لبیک اور حکومت سے گفتگو انتہائی صیغہ راز میں تھی جسے اعجاز چوہدری کے سوا کوئی نہ جانتا تھا۔ لیکن یقیناً حکومت کے اندر سیکولر، لبرل لابی نے اسے وہاں تک پہنچا دیا جہاں ان کا مقصد پورا ہوتا تھا کہ پروپیگنڈے کی مہم کے ذریعے معاملے کو بدامنی کی طرف ڈالا جائے۔ اسکے لئے شیخ رشید سے غلط بیانی کروائی گئی کہ ’’فرانس کے سفیر کا معاملہ ہم نہیں مانتے ‘‘ حالانکہ تحریکِ لبیک کے مطالبات میں یہ مطالبہ شامل نہیں تھا کیونکہ وہ کہتے تھے اس پر ہم حکومت سے اسمبلی میں قرارداد لانے والا معاہدہ کر چکے ہیں۔ یوں شیخ رشید نے جھوٹ بول کر ایک خودساختہ جذباتی مذہبی کارڈ کھیلنے کی کوشش کی۔ ادھر ایک وزیر محترم نے انہیں ’’قاعدہ‘‘ سے تشبیہ دی۔ کوئی پوچھے کیا القاعدہ تیس لاکھ ووٹ لیتی تھی، سندھ اسمبلی میں تین سیٹیں رکھتی تھی، سیالکوٹ کے ضمنی الیکشن اور کنٹونمنٹ بورڈ کے الیکشنوں میں حصہ لیتی تھی۔ عمران خان صاحب کے اردگرد یہ ’’سیاسی بونے‘‘ اور انکے ساتھ ملے ہوئے وہ سیکولر، لبرل دانشور، اینکر پرسن اور صحافی ویسا ہی کھیل حکومت سے کھلوانا چاہتے ہیں جیسا لال مسجد میں کھیلا گیا تھا۔ لیکن یاد رکھیں اور ذہن نشین کر لیں، اس وقت امریکہ اس کھیل کی پشت پر تھا اور وہاں معاملہ صرف ایک ہی مسجد تک محدود تھا۔ مگر یہاں معاملہ بگڑا تو پھر وہ گلی گلی اور کوچے کوچے میں پھیل جائے گا۔ تھوڑی سی غلطی ایک ایسی کیفیت پیدا کر دے گی کہ اگلے الیکشنوں میں عمران خان کی پارٹی کے اُمیدوار شاید آزادانہ طور پر اپنی الیکشن مہم بھی نہ چلا سکیں۔عمران خان کو اندازہ نہیں کہ جو حشر انہوں نے تحریکِ کی ہمنوائی سے مسلم لیگی وزیروں کا کروایا تھا، مکافاتِ عمل انہیں بھی کل اسی حالت میں لا سکتی ہے۔

Comments are closed.