مردوں کے پیروں کے سائز اور انکے بیوفا یا باوفا ہونے میں کیا تعلق ہے ؟ ایک دلچسپ معنی خیز اور شرارتی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار علی عمران جونیئر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔دوستو، ماہرین نے نئی تحقیق کے نتائج میں مردوں کے پیروں کے سائز اوران کے بے وفا ہونے کے درمیان دلچسپ تعلق کا انکشاف کر دیا ہے۔ایک ڈیٹنگ ویب سائیٹ کی طرف سے کرائے گئے اس تحقیقاتی سروے کے نتائج

میں ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ جس مرد کے پاؤں جتنے بڑے ہوں، اس کے بے وفا ہونے کا امکان بھی اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے۔ماہرین نے اس تحقیقاتی سروے میں ویب سائٹ پر موجود 2ہزار مردوں سے ان کے پاؤں کا سائز پوچھا اور ان کے اپنے شریک حیات سے بے وفا ہونے کے متعلق سوالات کیے۔ نتائج میں انہوں نے بتایا کہ جن مردوں کے پیروں کا سائز 10سے 13تک ہو، وہ سب سے زیادہ بے وفا ہوتے ہیں۔ جس کا سائز 11ہو، اس کے اپنی شریک حیات سے بے وفائی کرنے کا امکان 29فیصد، جس کا سائز 10ہو، اس کا 25فیصد، جس کا سائز 12ہو اس کا 22فیصد اور جس کے پاؤں کا سائز 13یا اس سے زائد ہو اس کا اپنی بیوی سے بے وفائی کرنے کا امکان 21فیصد ہوتا ہے۔ ویب سائٹ کے مطابق۔۔جن مردوں کے پیروں کا سائز بڑا ہوتا ہے، ان کا قد بھی بڑا ہوتا ہے لہٰذا ممکنہ طور پروہ زیادہ توجہ حاصل کرتے ہیں اور خواتین ان میں زیادہ دلچسپی لیتی ہیں جس کی وجہ سے ان کے بے وفا ہونے کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے۔۔
یہ تو ہوگیا بڑے سائز کے پاؤں والوں کی بے وفائی کا قصہ۔۔ اب یہ انوکھی بے وفائی بھی دیکھ لیجئے۔۔بھارت کی شہر علی گڑھ میں انتہائی حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے جہاں شوہر نے نہ نہانے پر بیوی کو طلاق دیدی۔۔۔ ”ویمن پروٹیکشن سیل“(شادی شدہ جوڑوں کو تعلقات بچانے کیلئے کاونسلنگ سیشن فراہم کرتا ہے) کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ ہمیں حال ہی میں خاتون کی جانب سے ایک تحریری شکایت موصول ہوئی ہے جس میں لکھا تھا کہ انھیں شوہر نے روزانہ نہ نہانے کے باعث ایک ساتھ تین طلاقیں دے دی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امان نامی شخص نے دو سال قبل خاتون سے شادی کی تھی جب کہ دونوں کا ایک بچہ بھی ہے۔پروٹیکشن سیل کے مطابق ہم خاتون کے رشتے کو بچانے کے لیے فریقین سمیت ان کے والدین سے مشاورت کررہے ہیں تاہم خاتون شوہر کی جانب سے طلاق کے باوجود اپنے رشتے کو خوشی سے نبھانے کی خواہشمند ہے۔عہدیدار نے بتایا کہ خاتون کی درخواست پر جب ان کے شوہر سے رابطہ کیا گیا تو شوہرکا کہنا تھا کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہتا ہے کیوں کہ وہ روزانہ نہیں نہاتی اور جب بھی اسے نہانے کا کہا جائے تو وہ ان سے لڑنا شروع کردیتی ہے۔پروٹیکشن سیل کے مطابق۔۔عہدیداوں کی جانب سے شوہر کو یہ سمجھانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ یہ معمولی نوعیت کا مسئلہ ہے جو کہ بغیر طلاق دیے بھی حل کیاجاسکتا ہے تاہم اس کے باوجود اگر ان کی علیحدگی ہو گئی تو یہ عمل بچے کی پرورش کو متاثر کرسکتا ہے۔ہمارے معاشرے میں بے وفائی کوٹ کوٹ کربھری ہوئی ہے۔۔ زندہ انسانوں کی کوئی قدر نہیں کرتا، انتقال کے بعدسب کو مرحوم کی اچھائیاں یاد آجاتی ہیں۔۔ ہمارے یہاں تو پچاس برس کی خاتون اور ساٹھ برس کا مرد ”ویلا نکما“ سمجھا جاتا ہے۔۔انہیں دیوار سے لگادیاجاتا ہے،نئی نسل کو بوڑھوں پر اعتماد اور اعتبار نہیں۔۔نوجوان نسل بوڑھوں کے تجربات سے فائدہ اٹھانے سے کتراتی ہے۔۔ کتنے مشورے ہم خاندان کے بزرگوں سے کرتے ہیں؟کب ہم فیصلوں کا اختیار ان لوگوں کو دیتے ہیں جو ستر پچھتر کی عمر عبور کر چکے ہوں؟

ہم برائے برکت انھیں برداشت کر بھی لیں مگر اپنے فیصلوں کا اختیار انھیں نہیں دیتے۔اپنے جیون ساتھی کے انتخاب میں بھی اب بزرگوں کی رائے کو بالکل اہمیت نہیں دی جاتی کیوں کہ پرانے لوگ کہاں موجودہ نسل کے ”ٹیسٹ“ کو سمجھ سکتے ہیں؟؟ہم نے خاندان کے ادارے سے دانستہ نانی نانا اور دادی دادا کے کردار کو کمزور کیا۔بچوں کو بوڑھوں سے اس لئے دور رکھاجاتا ہے کہ یہ تو چلتا پھرتا وائرس کی دکان ہے، مختلف بیماریوں کی آماجگاہ ہے،کہیں بچہ بھی بیمار نہ ہوجائے۔۔ہمارا سماج بوڑھوں کو اب شاید بوجھ سمجھنے لگا ہے، ہم نے وقت سے پہلے ہی انہیں محدود کردیا ہے۔۔انھیں محفلوں اور بازاروں میں لے جانا بند کردیاہے اور بہانہ ”آرام“ کا بنالیا ہے۔۔آپ کسی بیٹے سے پوچھیں کہ والد صاحب اب تقریبات میں نظر نہیں آتے؟ جواب ملے گا ان کی صحت اچھی نہیں رہتی۔۔خاندان کے بزرگوں کو ہسپتال کے سوا کہیں لے جانا بوجھل سا لگتا ہے۔ خاندان کی تقریبات صرف نوجوانوں کا حق سمجھی جانے لگی ہیں کیوں کہ جن کے پیر قبر میں لٹکے ہوں انہیں تفریح سے کیا لینا دینا؟؟۔۔ہم اپنے بوڑھوں کو مصلے پر دیکھ کر خوش ہوتے ہیں کہ بس وہ تسبیح پڑھتے رہیں اور ہمارے گھروں سے آفات و بلیات ٹلتی رہیں۔۔ کیا یہ سب بے وفائی کے زمرے میں نہیں آتا۔۔اپنے آرام و سکون کے لئے بوڑھوں کونظرانداز کرناہماری نظر میں ناقابل معافی جرم ہے۔ یہی وہ بوڑھے ہوتے ہیں جنہوں نے ہمارے لئے اپنا آرام و چین برباد کیا ہوتا ہے لیکن جب انہیں ہماری ضرورت ہوتی ہے تو ہم ”صنم بے وفا“ نکلتے ہیں۔

ذہنی امراض کے اسپتال سے ایک مریض کو رخصت کرتے وقت ڈاکٹر نے کہا۔۔آپ ہمارے علاج سے صحت یاب ہو گئے۔ امید ہے اب تو آپ ہمارا بل ادا کردیں گے؟۔۔مریض نے شاہانہ لہجے میں کہا۔۔کیوں نہیں۔اگر ہم نے تمہارا یہ چند لاکھ کا حقیر بل ادا نہیں کیا تو ہمیں اکبر بادشاہ کون کہے گا۔۔۔اسی طرح ایک صاحب بتا رہے تھے کہ وہ اپنا موبائل گاڑی میں بھول گئے تو اپنے پیچھے ڈرائیور کو آتا دیکھ کر کہا۔۔ تم جاؤ اور گاڑی میں سے میرا موبائل ڈھونڈھ کر لے آؤ۔۔۔تھوڑی دیر کے بعد ان کے ہینڈ بیگ سے موبائل بجنے کی آواز آئی تو اپنی غلطی پر شرمندہ ہوئے۔ موبائل نکال کر دیکھا تو ڈرائیور کی ہی کال تھی۔۔پوچھ رہا تھا، صاحب، گاڑی میں ہرجگہ تلاش کر لیا ہے موبائل نہیں ملا، آپ یاد کیجئے کہیں اور تونہیں رکھ دیا۔۔؟؟سنا ہے کراچی میں بادام سستے اور چھالیہ مہنگی ہے۔۔ اسی لئے تو کہاجاتا ہے کراچی والوں کا دماغ چھالیہ کھانے سے چلتا ہے۔۔ہمارے پیارے دوست نے جب سنا کہ فیس بک کے مالکان نے واٹس ایپ انیس ارب ڈالر میں خریدلیا تو فرمانے لگے، کتنے عجیب لوگ ہیں یہ، اتنا مہنگا واٹس ایپ خریدنے کی کیا ضرورت تھی، پلے اسٹور سے بالکل فری مل جاتا ہے۔۔ایک محترمہ کی شادی کے فوری بعد دورپرے کی خالہ سے ملاقات ہوئی،خالہ نے پوچھا،شادی ہوگئی تمہاری۔۔محترمہ نے جواب دیا،جی۔۔خالہ نے پھر پوچھا، لڑکا کیا کرتا ہے؟۔۔محترمہ نے جواب دیا۔۔ افسوس۔۔اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔اپنوں کے ساتھ وقت کا پتہ نہیں چلتا، لیکن وقت کے ساتھ اپنوں کا پتہ ضرور چل جاتا ہے۔ خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔

Comments are closed.