مریم نواز : عمران خان اور بشریٰ بی بی

لاہور (ویب ڈیسک) مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز شریف نے وزیر اعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آئینی وزیر اعظم ہیں نہ منتخب اور ملک کو ٹونے سے چلا رہے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ ’مقدمات، گرفتاری اور قید خانے جانے سے نہیں ڈرتیں،

ان کی ضمانت منسوخ کر کے انھیں گرفتار کریں تاکہ دنیا کو پتا چلے آپ کتنا ڈرتے ہیں؟‘اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کو کالعدم دینے کے مقدمے کی سماعت کے بعد انھوں نے عدالت کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نیب نے میری ضمانت کی منسوخی کی درخواست دی ہے، اس درخواست گزار کا چہرہ قوم کو دکھایا جائے، میں نیب میں اپنے اس ہمدرد کو دیکھنا چاہتی ہوں۔ درخواست دینے والے کو سلامی دینی چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ درخواست کو پڑھ کر لگا جیسے بچے ڈر رہے ہیں، درخواست دینے والا اتنا ذہین کون ہے۔ مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ گرفتاری سے ڈرتی ہوں نہ نیب سے، مجھے گرفتاری سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ انھوں نے کہا کہ مجھے ڈرانے والے کسی بھول میں ہیں۔مریم نواز نے اس موقع پر حکومت اور عسکری قیادت کے درمیان ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری پر کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان پر تنقید کی اور الزامات عائد کیے۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کا اصول اور جمہوریت سے کوئی واسطہ نہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ عمران خان آئینی وزیراعظم ہیں نہ منتخب، (بلکہ) وہ سلیکٹڈ ہیں، عمران خان کے پاس عوام کا مینڈیٹ نہیں ہے اور وہ نواز شریف کے مینڈیٹ پر قبضہ کر کے بیٹھے ہیں۔انھوں نے وزیر اعظم عمران خان پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئین و قانون کے تحت حکومت کے معاملات چلانے کے بجائے جادو و ٹونہ اور حساب کتاب سے ملک چلا رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ‘ملک کے اہم اداروں کے سربراہوں کی تقرریاں جنتر منتر، طوطا فال اور ٹونہ سے کی جاتی ہیں۔ یہ تقرریاں وہ نہیں بلکہ جنات کرتے ہیں۔’’

جو شخص ٹونے اور جھاڑ پھونک سے حکومتی معاملات چلاتا ہو اور ملک کی اہم ترین تقرریاں جن کا پاکستان کی سلامتی سے براہ راست تعلق ہے، ٹونے سے کرتا ہو، وزیر اعظم کی جگہ اہم ترین تقرریاں جنات کرتے ہوں، ان کی ٹائمنگ وہ طے کرتے ہوں تو ایسے حالات میں دنیا کے سامنے تماشا کوئی حیرت کی بات نہیں ہے۔‘انھوں نے وزیر اعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ‘اگر ان کا جنترمنتر اتنا ہی کامیاب ہے تو اسے عوام کی فلاح کے لیے استعمال کریں۔ آٹا سستا کریں، پیٹرول چینی سستی کریں۔’صحافیوں کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ اداروں اور جمہوریت کا مسئلہ نہیں بلکہ عمران خان کی جانب سے اپنی حکومت کو چند دن مزید طوالت دینے کا مسئلہ ہے۔انھوں نے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا نام لیے بغیر کہا کہ وزیر اعظم ان کو اس سے اس عہدے پر رکھنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ ان کے سیاسی مخالفین کو دبانے میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔ملک میں سول بالادستی اور جمہوریت کے متعلق ایک سوال میں ان کا کہنا تھا کہ آج وزیر اعظم عمران خان کو آئینی حق اور ووٹ کو عزت دو یاد آ گیا ہے۔ ‘آپ کو نواز شریف بننے کی کوشش بھی نہیں کرنی چاہیے۔’ان کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف ایک سیاسی پہچان کے ساتھ ایک لمبی سیاسی جدوجہد کر کے آئے تھے، وہ عوامی مینڈیٹ کے ساتھ آئے تھے، جلاوطنی اور قید برداشت کرکے آئے تھے، وہ اپنی حکومتوں کی قربانی دے کر آئے تھے۔عمران خان کی سیاسی پہچان اور سیاسی تشخص کیا ہے۔ ان کی سیاسی پہچان منتخب وزیر اعظم اور منتخب حکومت کے خلاف سازش کرنا، 126 دن کا دھرنا دینا، منتخب حکومت کے مینڈیٹ کو چھیننا ہے۔ ان کا مزید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کہ اگر تحریک انصاف کی حکومت یہ سمجھتی ہیں کہ ان کی دور حکومت میں بدترین نالائقی، بد انتظامی اوربدعنوانی کے بعد وہ سیاسی طور پر امر ہونا چاہتے ہیں تو ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔انھوں نے وزیر اعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ‘آپ کو تاریخی بد انتظامی،بدعنوانی اور نالائقی کا جواب دینا پڑے گا۔ آپ کو ملک کو بلند ترین قرضے کے بوجھ تلے لانے کا جواب دینا پڑے گا۔ آپ اگر بدترین کارکردگی کو چھپانا چاہتے ہیں تو ایسا نہیں ہونے دیا جائے گا۔’اگر عمران خان کی حکومت کے خلاف کوئی غیر آئینی اقدام ہوتا ہے تو کیا مسلم لیگ ان کا ساتھ دے گی کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ وہ خود غیر آئینی ہیں اور ان کی کوئی آئینی حیثیت نہیں ہے۔

Comments are closed.