مریم نواز کا سیاسی مستقبل :حیران کن تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔نواز شریف اپنی بیٹی مریم نواز کو مستقبل کی امید قرار دیتے ہیں تو وزراء و مشیر روزانہ یہ گردان کرتے نہیں تھکتے کہ مریم نواز کی سیاست ختم ہو گئی ہے۔ گویا دونوں طرف مریم نواز کا تذکرہ ہی ہو رہا ہے۔

دوسرے لفظوں میں مریم نواز سیاسی اُفق پر چھائی ہوئی ہیں پھر بھی حکومتی ترجمان ان کی سیاست ختم ہونے کے اعلان کر رہے ہیں۔وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز جب تک دن میں دوچار بار مریم نواز کا ذکر نہ کریں انہیں اپنی وزارت خطرے میں محسوس ہوتی ہے، اسی طرح وزیراعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان بھی روزانہ مریم نواز کے نام کی مالا جپتی ہیں۔ اگر مریم نواز کی سیاست ختم ہو گئی ہے تو صبح و شام ان کا ذکر کرنا کیا ان کی سیاست کو زندہ رکھنے کی ایک کوشش نہیں؟ آپ  مریم نواز کو بھول کیوں نہیں جاتے؟ آپ کا بیانیہ مریم نوازکے بغیر مکمل بھی نہ ہو اور آپ یہ دعویٰ بھی کریں کہ ان کی سیاست ختم ہو گئی ہے تو بات کچھ عجیب سی لگتی ہے۔ اب تو ایسا لگتا ہے کہ مریم نواز وزیروں مشیروں کے ہواس پر سوار ہیں، بات کو کھینچ کھانچ کے کسی نہ کسی طرح مریم نواز پر لے آتے ہیں۔ اب نیا تڑکا یہ لگایا جا رہا ہے کہ مسلم لیگ(ن) نے مریم نواز کی سیاست کو مسترد کر دیا ہے۔کیسے مسترد کر دیا ہے؟ کہاں اعلان ہوا ہے؟ کس نے مسترد کیا ہے؟ اس بارے میں کچھ نہیں بتایا جا رہا، بس مسترد کردیا، مسترد کر دیا کی آوازیں لگائی جا رہی ہیں، جیسے ہاکر بریکنگ نیوز کا  ضمیمہ بیچتے ہیں۔مریم نواز کی سب سے بڑی طاقت یہ ہے کہ نوازشریف ان کے پیچھے کھڑے ہیں اب تو وہ کھل کر یہ پیغام دے رہے ہیں

کہ مریم نواز ہی مسلم لیگ (ن) کی قیادت ہیں۔ گزشتہ روز انہوں نے پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے فون پر جو بات کی اس میں بھی مریم نواز کے لئے مکمل حمایت طلب کی اور مولانا فضل الرحمن نے بھی تسلیم کیا کہ مریم نواز اپنے والد کا بیانیہ بڑے اچھے انداز سے آگے بڑھا رہی ہیں۔ یہ مریم نواز کا خوف ہی ہے جو  وزراء ہر وقت ان کا ذکر کرنا اپنا فرضِ منصبی سمجھتے ہیں اور یہ بات بھی حقیقت ہے کہ اسی وجہ سے محمد علی درانی کے ذریعے میاں شہباز شریف سے بیک ڈور رابطوں کا آعاز کیا گیا ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ شہبازشریف سے اگر کوئی فائدہ اٹھانا ہے تو انہیں قید خانے سے باہر نکالنا ہوگا۔ خود انہوں نے بھی یہی کہا ہے کہ قید میں رہ کر وہ کوئی کردار ادا نہیں کر سکتے۔ بالفرض محال حکومت شہبازشریف کو باہر آنے بھی دیتی ہے تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ وہ اپنے بھائی نواز شریف اور بھتیجی مریم نواز کی منشا کے خلاف ایسا کردار ادا کرنے کی حامی بھر لیں گے، جو نوازشریف اور مریم نواز کی سیاست کو ختم کر دے۔پھر یہ سوال بھی اہم ہے کہ شہبازشریف میں کیا اتنی صلاحیت اور ان کے پاس اتنی عوامی مقبولیت ہے کہ وہ ”ووٹ کو عزت دو“ والے بیانیے کو چھوڑ کر متضاد بیانیہ اختیار کریں اور عوام اسے قبول بھی کر لیں۔پہلی بات تو یہی ہے کہ شہباز شریف کبھی اپنے بھائی نواز شریف کے خلاف نہیں جائیں گے۔

انہوں نے اگر کوئی کردار ادا کرنا بھی ہے تو اس شرط پر کریں گے کہ نوازشریف کو ریلیف دیا جائے۔ ظاہر ہے یہ کام حکومت بھی آسانی سے نہیں کر سکتی، کیونکہ اس طرح اس کا سارا بیانیہ زمین بوس ہو جائے گا۔اگر کوئی یہ امید لگائے بیٹھا ہے کہ شہباز شریف کو آگے لا کر شریف خاندان میں دراڑ ڈالی جائے تو یہ خواب شرمندۂ تعبیر اس لئے نہیں ہو سکتا کہ خود شہبازشریف بھی جانتے ہیں کہ مسلم لیگ(ن) میں نوازشریف ایک روح بن کر موجود ہیں، انہیں نکال کر اس کو ختم تو کیا جا سکتا ہے، زندہ نہیں کیا جا سکتا۔حکومت اگر سارا زور اس نکتے پر لگاتی رہی کہ مریم نوازشریف کی سیاست ختم کرنی ہے تو اس مہم جوئی میں کامیابی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ جب تک نوازشریف کی سیاست ختم نہیں ہوتی مریم نواز کو سیاست سے آؤٹ نہیں کیا جا سکتا۔ وزیر و مشیرعمران خان کو خوش کرنے کے لئے جتنے بھی ایسے بیانات دیتے رہیں، زمینی حقائق یہ ہیں کہ مریم نواز اب ایک واضح حقیقت بن چکی ہیں ان کی باتیں حکومت کو تنگ بھی کر رہی ہیں اور چبھتی بھی ہیں، چبھتی اتنی زیادہ ہیں کہ تمام وزیر و مشیر مل کر بھی ان کی کاٹ کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ پی ڈی ایم میں ایک مریم نواز ہی وہ لیڈر ہیں جو اس سخت بیانیے کو آگے بڑھا رہی ہیں، جو نواز شریف نے دیا ہے اور جس کی وجہ سے ملک میں تناؤ بڑھا ہے۔

اس تناظر میں اگر کوئی یہ سوچتا ہے کہ شہبازشریف کے ذریعے مفاہمت کا ایک نیا بیانیہ سامنے لا کر نواز شریف اور مریم نوازکو غیر متعلق کیاجا سکتا ہے تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے۔شہباز شریف اتنے سادہ نہیں کہ کوئی ایسی حماقت کریں،جو انہیں اقتدار کے لئے پارٹی اور خاندان کے غداروں میں لاکھڑا کرے۔ ہاں وہ ایک کردار ضرور ادا کر سکتے ہیں،ایسا ماحول پیدا کرنے کا کردار جس سے اس وقت جو ڈیڈ لاک اور شدید تناؤ ہے،اسے ختم کرنے کی راہ نکالی جا سکے۔ظاہر ہے اس کے لئے حکومت کو دو کام کرنے ہوں گے۔ شہباز شریف کی رہائی اور ایسا اختیار کہ وہ ماحول کو ٹھنڈا کرنے کے لئے کس حد تک جا سکتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں حکومت کو اپنی موجودہ پوزیشن سے پیچھے ہٹنا ہو گا۔ شہباز شریف سے رابطہ ہی حکومت کے اس موقف میں دراڑ ڈال دے گا کہ وہ کسی کو این آر او نہیں دے گی۔ابھی چند ہفتے پہلے وزیراعظم عمران خان نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ شہباز شریف تو بچ ہی نہیں سکتے،کیونکہ ان کے خلاف اتنے ثبوت مل گئے ہیں کہ وہ اب کبھی قید سے باہر نہیں آئیں گے۔اس وقت پورے منظر نامے پر ایسی کوئی شخصیت نہیں جو پی ڈی ایم اور حکومت کے درمیان اس ڈیڈلاک کو توڑ سکے، جو پورے نظام کے لئے خطرہ بنا ہوا ہے، لے دے کے صرف شہبازشریف ہی بچتے ہیں جو کوئی درمیانی راہ نکال سکتے ہیں، اگر حکومت ان سے رجوع کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے

تو سمجھو اس نے اپنی پہلی شکست تسلیم کر لی۔وزیراعظم عمران خان اور ان کے وزیروں، مشیروں کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ اب یہ باتیں کرنے کا وقت گزر چکا ہے کہ نوازشریف اور مریم نواز نے ملک لوٹا ہے اور اس مال کو بچانے کے لئے یہ ہاتھ پاؤں چلا رہے ہیں یہ سب کہانیاں، یہ سب باتیں عوام سینکڑوں بار سن چکے ہیں،اس کے باوجود اگر وہ نوازشریف کی بات سنتے ہیں،مریم نواز کی تقریروں پر سر دھنتے ہیں تو اس معاملے کو اب کسی دوسرے طریقے سے دیکھنا ہو گا۔ پاکستان میں ایسی کوئی مثال ہی نہیں کہ کسی کی سیاست ختم ہو گئی ہو۔ ایک زمانے میں آصف علی زرداری کو مسٹر ٹین پرسنٹ کہہ کر یہ سمجھ لیا گیا تھا کہ ان کی سیاست ختم ہو گئی۔ وہ نہ صرف ملک کے صدر بنے، بلکہ آج بھی پیپلزپارٹی پر ان کی گرفت موجود ہے۔ نوازشریف کی سیاست ختم ہو گئی ہوتی تو آج مسلم لیگ (ن) کے ارکانِ اسمبلی پکے ہوئے بیروں کی طرح حکمران جماعت کی جھولی میں آگرتے، مگر ایک رکن اسمبلی بھی باغی نہیں ہوا،جس کسی نے کوشش کی اس کے سرپر لوٹے سج گئے۔ شہبازشریف اور حمزہ شہباز تو قید میں ہیں، پھر مسلم لیگ(ن) کیوں متحد ہے؟ظاہر ہے اس کے پیچھے نوازشریف کا ہاتھ ہے اور سامنے مریم نواز کھڑی ہیں۔ وزیر و مشیر اگر صبح و شام مریم نواز  کا ذکر کرنا بند کر دیں تو شاید ان کا اثر تھوڑا کم ہو جائے، مگر اب تو ایسا لگتا ہے کہ وہ ہر وقت یہ خواب دیکھتے ہیں کہ کب مریم نواز کی سیاست ختم ہو اور وہ بھنگڑے ڈال کر اس کا اعلان کریں۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *