مریم نواز کا ناقابل یقین موقف

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز شریف نے پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان کی جانب سے لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عاصم سلیم باجوہ کا استعفیٰ قبول نہ کیے جانے پر کہا ہے کہ اگر (عمران خان) استعفیٰ منظور کر لیتے تو انھیں خود بھی مستعفی ہونا پڑ جاتا۔

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ۔۔۔یاد رہے کہ وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات عاصم سلیم باجوہ نے گذشتہ رات اپنے اس عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین کا عہدہ اپنے پاس رکھیں گے۔تاہم آج جب انھوں نے اپنا استعفیٰ باضابطہ طور پر وزیر اعظم عمران خان کے سامنے پیش کیا تو وزیرِ اعظم نے کہا کہ وہ عاصم باجوہ کی وضاحت سے مطمئن ہیں اس لیے انھیں کام جاری رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔اس پر مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز شریف نے لکھا کہ: ‘احتساب کا بیانیہ اپنی موت آپ مر گیا۔ استعفیٰ منظور کر لیتے تو خود بھی مستعفی ہونا پڑ جاتا۔ این آر او کیوں اور کیسے دیا جاتا ہے، کس کو دیا جاتا ہے، ایک دوسرے کو دیا جاتا ہے، قوم کو سمجھانے کا شکریہ۔ جواب تو پھر بھی دینا پڑے گا! اب لو گے احتساب کا نام؟’وزیرِاعظم پاکستان کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عاصم سلیم باجوہ نے جمعرات کی شام ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں اپنا عہدہ چھوڑنے کا اعلان کیا تھا تاہم انھوں نے کہا تھا کہ وہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) اتھارٹی کے سربراہ کے طور پر کام کرتے رہیں گے۔عاصم باجوہ نے یہ اقدام اپنے اوپر لگائے جانے والے اُن الزامات کے پس منظر اٹھایا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ انھوں نے اپنی اہلیہ کے کاروبار کی تفصیلات بطور مشیرِ اطلاعات اپنے جاری کیے گئے

اثاثوں میں ظاہر نہیں کیں۔حال ہی میں صحافی احمد نورانی کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ عاصم باجوہ اور ان کے خاندان کے مالی وسائل میں اضافہ عاصم باجوہ کے اہم عہدوں پر فائز ہونے کے ساتھ ساتھ ہوا۔تاہم عاصم باجوہ نے ان تمام الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔ جمعرات کی شام انھوں نے تفصیلی پریس ریلیز میں اپنے پر لگائے گئے الزامات کا تفصیلی جواب دیا ہے۔تاہم اس حوالے سے سوشل میڈیا پر گرما گرم بحث جاری رہی جس میں کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ عاصم باجوہ کی جانب سے صرف استعفیٰ دیا جانا ناکافی ہے حکام کو ان کی مزید تفتیش کرنی چاہیے۔دوسری جانب عاصم باجوہ کے حامیوں کی بھی کمی نہیں ہے جو کہ ان کے جواب کو کافی مان رہے ہیں۔صارف عادل انجم نے سوال اٹھایا ہے کہ جنرل عاصم کی وضاحت کے مطابق ان کے بیٹوں کی کمپنیاں منافع کیوں نہیں دکھا رہیں اور کہیں وہ شیل کمپنیاں تو نہیں ہیں۔صارف سندھو نواز کا کہنا تھا تھا کہ کیا ایک ایسا شخص جس کی ساکھ کے بارے میں سوال اٹھے ہیں، سی پیک اتھارٹی کا سربراہ رہ سکتا ہے؟صارف رانا رمیض رضا کے خیال میں یہ استعفیٰ ایک طاقتور شخص کے خلاف عوامی دباؤ کی ایک مثال اور کامیابی ہے۔عالیہ زہرا کہتی ہیں کہ اگر عاصم باجوہ کرپشن کے الزامات کے حوالے سے مکمل صفائی نہ دے سکے تو اس خیال کو فوقیت ملے گی کہ ملک میں احتساب کی کوششیں جانبدار ہیں۔ریٹائرمنٹ کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے انھیں سی پیک اتھارٹی کا سربراہ مقرر کیا اور اب انھیں معاون خصوصی برائے اطلاعات کا درجہ دیا گیا ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.