مریم نواز کو بھر پور جواب دے دیا گیا

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار شاہزاد انور فاروقی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔مولانا ابوالکلام آزاد نے کہاتھا کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا،ہم اس کا مطلب یہ سمجھے کہ شاید سیاست میں کوئی مائی باپ بھی نہیں ہوتا۔ ہماری یہ غلط فہمی گزشتہ دنوں محترمہ مریم نواز نے دور کردی

جب انہوں نے کہا کہ باپ والے “باپ” کے کہنے پر ووٹ دیتے ہیں ۔تب ہمیں یاد آیا کہ سیاست میں اس والے “باپ” کا کردار تو ہماری سیاست میں بہت پرانا ہے۔ کبھی ہم اسے”ڈیڈی” پکارتے تھے تو کبھی “اس” کا مشن پورا کرنے کیلئے سترہ اگست کو عہد کرتے تھے۔یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ پرانے زمانے میں باپ اپنی اولاد سے اظہار لاتعلقی کا اعلان کیا کرتے تھے اور اب اولاد اپنے “باپ” سے نظر چراتی پھرتی ہے۔بندہ پوچھے کہ ایسے کام کیوں کیے جائیں جس کے بعد باپ سے نظریں چرانے یا منہ چھپانے کی ضرورت پیش آئے؟صاحبان وقت وقت کی بات ہے گورنر کے ہاتھ سے گورنر ہاؤس کے ویٹرکے سر سے اتار کر پہنائی گئی دستار پر اتراتے پھرتے تھے پھر ان کے مضبوط کلے کے دم پر ہم نے سندھڑی کے آم کی گٹھلیوں تک نگل لئیے۔مگر جب پارک لین کی گاجروں کی وجہ سے پیٹ میں درد ہوا اور دنیا بھر میں پھیلی “کھیر” معاف کیجیے گا دنیا بھر میں پانامہ پیپر کا “رائتہ” پھیلا تو یکایک “باپ” کے روحانی مرتبے سے یقین اٹھ گیا اور کئی سوالات غیر منطقی جنم لینے لگے ” مجھے کیوں نکالا ” کچھ اس وجہ سے بھی غیر منطقی لگتا ہے کہ اسی اور نوے کی دہائی کے نصف تک کبھی یہ سوال زباں پر نہیں آیا کہ “مجھے کیوں سسٹم میں ڈالا”۔بہرحال ایسے سوالات کبھی کوئی نہیں اٹھاتا جس کا فائدہ اس کی اپنی ذات کو نہ ہو،”سلیکٹڈ”کی اصطلاح کے موجد ہونے کے دعویدار بھی تاریخ کے اوراق سے اپنے سیاسی جد امجد کی طرف سے

کسی “باپ” کو قائد اعظم سے بڑے لیڈر اور “ڈیڈی” کے نام دے کر ہی یہاں پہنچے ہیں ۔محترمہ مریم نواز نے اس خطاب میں حاتم طائی کی قبر کو بھی مشق ستم بناتے ہوئے وہ لات رسید کی ہے کہ بیچارہ کئی دنوں تک پسلیاں سہلاتا رہے گا کہ اگر پیپلز پارٹی کو سینیٹ میں قائد حزب اختلاف بنانا تھا تو وہ نواز شریف سے مانگ لیتے۔ مجھے یقین ہے کہ ایسا ہوتا تو سوالی کا منہ موتیوں سے بھر دیا جاتا ،بھلا شہنشاہ اور راجکماریاں اور کیا کرتے تھے؟محترمہ مریم نواز کا سارا زور اس پر تھا کہ ان کے “باپ” کے بجائے دوسرے”باپ” سے ووٹ کیوں مانگے؟ حالانکہ ووٹ ایک باپ سے نہیں مانگے اور دوسرے سے لے لیے کیا فرق پڑتاہے؟ پہلے زمانے میں مائیں سانجھی ہوا کرتیں تھیں یہ نیا زمانہ ہے اب اگر باپ بھی سانجھا نکل آیا ہے تو کیا حرج ہے ؟ رہے بلاول تو کہتے ہیں کہ پی ڈی ایم ہم نے بنائی تو کوئی ان سے پوچھے کہ بنانے سے کیا ہوتا ہے آخر محمد خان جونیجو نے بھی تو کچھ بنایا تھا کیا ہوا؟بس یہ فرق ہے کہ اس بار مسلم لیگ (ن) کے بجائے سیاسی اتحاد سے پاکستان پیپلز پارٹی نے فائدہ اٹھا لیا۔وگرنہ نوابزادہ نصر اللہ خان مرحوم تو باقاعدہ ہاتھ ملتے نظر آتے تھے ایک فرق یہ بھی ہے کہ پہلے بے نظیر بھٹو سے واسطہ تھا اب کی بار زرداری سے پالا پڑا ہے ۔کبھی کبھار گھوڑا بھی تو پہلے پھونک لگا ہی سکتا ہے ضروری تو نہیں کہ گھوڑا ہمیشہ لطیفے میں ہی رہے وہ بھی تو کبھی کبھار لطیفے سے باہر نکل ہی سکتا ہے!اداکار عامر خان نے ایک فلم میں کہا تھا کہ “دوست فیل ہوجائے تو دکھ ہوتا ہے لیکن اگر فرسٹ آجائے تو مزید دکھ ہوتا ہے”یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ میں لانے کے لئے تو مسلم لیگ ن نے تن من دھن داؤ پر لگا دیا لیکن اگر وہی یوسف رضا گیلانی خود سے اپوزیشن لیڈر بن جائے تو تلواریں نیام سے باہر نکل آتی ہیں، ظاہر ہے جو راجواڑہ دیا نہ گیا ہو تو مزاج شاہی برہم ہو ہی جاتے ہیں۔اسلام آباد کی سیٹ سے گیلانی کامیابی کے باعث ایک زرداری جو سب پہ بھاری تھا اب یک لخت بے وزن ہوکر باعث شرمندگی قرار پایا ہے۔میں یہ سب کچھ آپ کو کیوں بتارہا ہوں؟ سب کچھ آپ کی نظروں کے سامنے ہی تو ہوا ہے۔۔مولانا ابوالکلام آزاد نے یہ تو بتا دیا کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا مگر وہ یہ بتانا بھول گئے کہ سیاست میں کوئی اصول اور اخلاقیات بھی نہیں ہوتیں کتنے بھولے تھے ہمارے یہ سیاسی بزرگ ؟ کم از کم یہ تو بتا سکتے تھے کہ”باپ آخر باپ ہوتا ہے”

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *