مریم نواز کے اس دعوے کے 2 دن بعد استور کے 2 حلقوں میں الیکشن کا نتیجہ کیا نکلا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) خدا کا شکر لاہور قلندر نے ہارنے کے بعد یہ نہیں کہا کہ دھاندلی ہوگئی، کراچی کنگز جیتا نہیں اسے جتوایا گیا، یہ سب سلیکٹرز کا کیا دھرا، یہ سب خلائی مخلوق کا کارنامہ، یہ جیت جعلی، کراچی کنگز کا مینڈیٹ جعلی، ایمپائر ساتھ ملے ہوئے تھے، ہماری مرتبہ گراؤنڈ کا سائز بڑا،

نامور کالم نگار ارشاد بھٹی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ بال کا سائز چھوٹا کر دیاگیا تھا، جب ہم بیٹنگ کر رہے تھے تو اسٹیڈیم کی لائٹوں میں سے کچھ بلب’ وٹا‘مار کر توڑ دیئے گئے تاکہ ہمیں کم روشنی میں بال نظر آنے میں مشکل ہو ، ہم کراچی کنگز کی جیت کو نہیں مانتے ،ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ سب ہاری ٹیموں کا اجلاس بلا کر پاکستان ڈیفیٹڈ ٹیمز موومنٹ (پی ڈی ایم ) بنا کر باقاعدہ تحریک چلائیں، ہمارا مطالبہ فائنل میچ دوبارہ کروایا جائے اور تب تک کروایا جاتا رہے جب تک ہم جیت نہیں جاتے۔جو ملکی حالات چل رہے ، کوئی بعید نہیں ،کسی دن کوئی ہارا ہوا کپتان اس قسم کی پریس کانفرنس کر ہی دے، ہماری زندگیوں میں کوئی الیکشن نہیں جسے سب نے شفاف ،منصفانہ مانا ہو، ہارنے والے نے ہار تسلیم کر کے جیتنے والے کو مبارکباد دی ہو ،جیسے ہی کوئی ہارا، رونے دھونے لگ گیا، ہائے مارا گیا، لٹیا گیا، دھاندلی ہوگئی، مینڈیٹ چوری ہوگیا، گلگت بلتستان انتخابات ہی دیکھ لیں ، مسترد شدہ جھوٹے روندو روتے پھر رہے ، کسی کے پاس دھاندلی کا ثبوت نہیں ، گلگت بلتستان کے چیف الیکشن کمشنر باربار کہہ رہے کسی کو کوئی مسئلہ ہے تو میرے پاس آئے ،مگر اُدھر کوئی نہیں جارہا کیونکہ وہاں گئے تو دھاندلی کے ثبوت دینا پڑیں گے ، گواہ لانا پڑیں گے ، بے ایمانی ،ووٹ چوری ،دھاندلی ثابت کرنا پڑے گی، لہٰذا سب کے سب اپنی لڑائیاں میڈیا پر لڑ رہے، کیونکہ سب کو معلوم یہاں باجماعت

باآواز بلند مسلسل جھوٹ بولا جائے تو دوچار دنوں میں جھوٹ سچ ہو جائے۔کسے معلوم نہیں کہ گلگت بلتستان میں ہمیشہ وہی جماعت جیتتی ہے جس کی اسلام آباد میں حکومت ہو، 2009-10میں زرداری حکومت تھی ،پی پی کو 33میں سے 20نشستیں ملیں تب مسلم لیگ کی 2 سیٹیں تھیں ،2015میں نواز شریف وزیراعظم تھے ،انتخابات ہوئے ،مسلم لیگ 2سیٹوں سے 22سیٹوں پر جاپہنچی اور پیپلز پارٹی 20سیٹوں سے سکڑ کر ایک سیٹ پر آگئی، اس بار حکومت تحریک انصاف کی تھی، لہٰذا حسب توقع اور حسب روایت سب سے زیادہ نشستیں پی ٹی آئی کی رہیں ،اس میں اچنبھے کی کیا بات، یہاں یہ بتاتا چلوں ،گلگت بلتستان کی 24 نشستوں پر الیکشن ہو، 6خواتین ممبران اور 3ٹیکنو کریٹ ممبر نامزد کیئے جائیں ،اس طرح کل ممبر 33 ، یہاں یہ بھی بتادوں کہ گلگت بلتستان کے ٹوٹل ووٹر 7لاکھ 45ہزا ر361، اس میں ایک لاکھ 27ہزار نئے ووٹرز مطلب وہ ووٹرز جنہوں نے اس مرتبہ پہلی بار ووٹ ڈالا۔جہاں اس الیکشن میں بہت بدزبانیاں ہوئیں وہاں کچھ بیانات بڑے مزے کے بھی ، جیسے استور میں تقریر کرتے ہوئے مریم نو از بولیں ’’مجھے ابھی حافظ حفیظ الرحمن نے بتایا ہے کہ استور میں نواز شریف سے اتنی محبت کی جائے کہ جب بچہ پیدا ہو تو اس کا نام نواز شریف رکھا جائے ‘‘لیکن جب استور کا نتیجہ آیا تو دونوں نشستیں پی ٹی آئی نے جیت لیں ،میں سوچ رہا تھا کہ اگر بچوں کے ووٹ ہوتے یقیناً نواز شریف جیت جاتے کیونکہ جہاں پید اہونے والا ہر بچہ نوازشریف ہو وہاں بچوں کے ووٹ ہوں تو کون ہے جو نوازشریف کو ہرا سکے،

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *