مریم نواز کے ملکی سیاست میں بھونچال مچا دینے والے انکشافات

لاہور(ویب ڈیسک)مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے حکومت کے خلاف لانگ مارچ کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ چاہے سب کو گرفتار کر لیا جائے، تحریک اب نہیں رکے گی۔ نواز شریف کی تقریر اور اے پی سی کے فیصلوں پر مکمل عملدرآمد ہوگامریم نواز نے کہا ہے کہ

شہبازشریف کو کسی جرم کی وجہ سے نہیں نوازشریف کا بھائی ہونے کی وجہ سے گرفتار کیا گیا۔اگر ملک میں قانون ہوتا تو آج شہباز شریف نہیں عاصم باجوہ گرفتار ہوتے۔شہبازشریف کے والد 1930میں لکھ پتی تھے۔عاصم باجوہ تو ایک تنخواہ دار ملازم تھے لیکن آج ارب پتی کیسے بن گئے۔نیب پر میں نہیں عدالت نے تنقید کی۔نیب کو وزیراعظم،وزراء اورکے پی حکومت کے منصوبوں کی بدعنوانی نظر نہیں آتی۔جہانگیرترین اور اس کے بیٹے ایف آئی اے میں پیش نہیں ہوتے۔عاصم باجوہ کی بیوی گھریلو خاتون تھی وہ ارب پتی کیسے بن گئی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز مسلم لیگ ن سیکرٹریٹ ماڈل ٹاؤن میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ان کے ہمراہ مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکرٹری جنرل احسن اقبال،رانا ثناء اللہ خان سمیت دیگر رہنما موجود تھے۔مریم نواز نے کہا کہ یہ کس قسم کا احتساب ہے جو دباؤڈال کر کیا جارہا ہے۔میڈیا نے عاصم باجوہ کی جائیدادوں کی خبر نہیں دی لیکن تردید دینے کا حکم دیا گیا۔ کبھی مولانا فضل الرحمن کو بلایا جاتا لیکن عاصم باجوہ کو کیوں نہیں بلایا جاتا۔ن اور ش ہمیشہ ایک رہیں گے۔جنہوں نے کبھی رشتے نہیں دیکھے وہ رشتوں پر انگلیاں اٹھاتے ہیں۔شہبازشریف کی سوچ ہے کہ مفاہمت کی سیاست بہتر ہے۔شہبازشریف پہلے انسان ہیں جو سر تسلیم خم کرتے ہیں۔عمران خان کو خوف ہے کہ شہبازشریف ان کے متبادل ہیں۔مسلط شدہ کو یہی خوف ہوتا ہے۔اس کی اتنی حیثیت ہے کہ گلگت بلتستان کی میٹنگ جی ایچ کیو میں چلتی ہے وہ چھپ کے دوسرے کمرے میں بیٹھا ہوتا ہے۔شہبازشریف پنجاب کے عوام کے متبادل چوائس ہیں۔

ادارے جو عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں ان کو بھی سوچنا چاہیے جنہوں نے ملک ناتجربہ کار شخص کے حوالے کردیا ہے۔عمران خان سے زیادہ کسی نے اداروں کو بدنام نہیں کیا۔مسلم لیگ ن کروڑوں عوام کی ترجمانی کرتی ہے۔اگر عمران خان کو ایسے ہی سپورٹ کیا جاتا رہا تو بات مسلم لیگ ن کے ہاتھوں سے بھی باہر نکل جائے گی۔مریم نواز نے مزید کہا کہ اے پی سی کا ایجنڈا چلے گا،چاہیے شہباز شریف یا مریم نواز کو گرفتار کرلیں۔یہ تحریک اب رکے گی نہیں،تحریک پورے جذبے کے ساتھ چلے گی۔ احسن اقبال نے کہا کہ شہباز شریف کو نیب گردی سے گرفتار کرنا جمہوریت میں ایک اور سیاہ دن ہے،،کئی دنوں سے موقف کو اجاگر کرنے کی کوشش کی پاکستان میں فاشسٹ جماعت کیلئے اپوزیشن کا گلہ گھونٹا جارہاہیمسلم لیگ(ن)کے قائد نواز شریف  نے کہا ہے کہ شہباز شریف کو گرفتار کر کے اس کٹھ پتلی نظام نے  اے پی سی  قرارداد کی توثیق کی ہے،کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے ہمیں جھکایا جا سکتا ہے۔پیر کو شہباز شریف کی گرفتاری پر ردعمل دیتے ہوئے اپنے ٹوئٹر پیغام میں مسلم لیگ(ن)کے قائد  نواز شریف نے کہا کہ آج شہباز شریف کو گرفتار کر کے اس کٹھ پتلی نظام نے  آل پارٹیز کانفرنسکی قرارداد کی توثیق کی ہے۔انہوں نے کہا کہ شہباز شریف نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ وہ قید میں ہوں یا باہر اے پی سی میں  کئے گئے تمام فیصلوں پر عمل درآمد ہو گا۔کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے ہمیں جھکایا جا سکتا ہے۔دوسری طرف  مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف نے اپنے بھائی کی گرفتاری کے بعد ایک اہم آن لائن اجلاس طلب کر لیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مریم نواز کو اہم ذمہ داریاں ملنے کا امکان ہے۔ میاں شہباز شریف کی گرفتاری کے بعد (ن) لیگ کے قائد نواز شریف کے پارٹی کے متعدد رہنماؤں سے رابطے جاری ہیں۔ انہوں نے صورتحال کے پیش نظر اہم آن لائن اجلاس طلب کر لیا ہے اجلاس کے دورانمریم نواز کو احتجاجی تحریک کی قیادت سونپی جانے کا بھی امکان ہے۔ پارٹی کے دیگر معاملات شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال دیکھیں گے۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی گرفتاری کے بعد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم)کا ہنگامی اجلاس  آج  منگل کو اسلام آباد میں طلب کرلیا گیا۔اس حوالے سے مسلم لیگ (ن)کے جنرل سیکرٹری احسن اقبال کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم کااجلاس مسلم لیگ(ن) کے سیکرٹریٹ میں سہہ پہر 3 بجے ہوگا جس میں متحدہ اپوزیشن کے رہنما شریک ہوں گے۔انہوں نے بتایا کہ اجلاس شہباز شریف کی گرفتاری سے پیدا صورتحال، دیگر سیاسی قائدین اور رہنماؤں کے خلاف بھی حکومتی سیاسی انتقامی کارروائیوں پر غور ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ اے پی سی کے فیصلوں پرعمل درآمدکے پلان کو حتمی شکل دینے پر مشاورت ہوگی جب کہ پی ڈی ایم رہنماحکومت کی سیاسی انتقامی کارروائیوں پر لائحہ عمل بنائیں گے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *