مریم و مولانا کو اپنی اپنی فکر لاحق

اسلام آباد(ویب ڈیسک)پیپلز پارٹی کی طرف سے عمران خان کی حکومت کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعہ  ہٹانے  کی تجویز پر اصرار  نے  اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کی  دو بڑی جماعتوں ، مسلم لیگ(ن) اور جمیعت علماء اسلام کو   سخت نالاں کر دیا ہے۔  اس تجویز پر فوری اور سنجیدہ  غور کے بجائے،

سردست اتحاد  کی صفوں  کو برقرار رکھنے پر توجہ مرکز کی جا رہی ہے۔ ویسے بھی  وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے  پی ڈی ایم کا  شیرازہ  بکھرنے کی   پیشگوئی کر دی ہے۔ یہ بات تو قطعی قابل فہم ہے کہ ایک انقلابی نوعیت کی حکومت مخالف تحریک  کی وجہ سے   پیپلز پارٹی سندھ میں حکومت  کبھی قربانی نہیں دے گی۔ اس سے یہ قربانی مانگنا، غیر منطقی  بھی  ہے لیکن جو بات مسلم لیگ(ن)  جمیعت علماء اسلام(ف) اور  محمود خان اچکزئی سمیت اتحاد کے دیگر قائدین کیلئے  واقعی ناقابل فہم ہے وہ یہ کہ آصف علی زرداری کس برتے پر  وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد لانے کی  بات کر رہے ہیں؟ کیا وہ چئیرمین سینیٹ کے خلاف وپزیشن کی تحریک عدم اعتماد کا حشر بھول چکے ہیں؟ سوال  پیدا ہوتا ہے کہ  آصف علی زرداری کو کسی نے ضمانت دی ہے کہ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو   گی یا  گھمائے  پھرائے بغیر    بات کی جائے تو کیا سوال بنتا ہے کہ  کیا مقتدرہ، کو اس تجویز کی حمائت حاصل ہے۔؟مذکورہ دونوں جماعتیں  آصف علی زرداری سے یہ سوال  پوچھنا چاہتی ہیں۔ دیکھنا ہے کہ آصف علی زرداری  اتحادی جماعتوں کو کس طرح اپنی تجویز کی افادیت  پر قائل کر سکتے ہیں۔ گزشتہ برس جب مولانا فضل ارحمٰن نے اسلام آباد کی طرف متاثر کن لانگ مارچ کیا اور  دھرنا دیا تو اس وقت وہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) دونوں کو  اپنی تحریک میں بھرپور شرکت کیلئے آمادہ کرنے کی کوششیں کرتے رہے۔ اس وقت مولانا سے ھبی ان دونوں جماعتوں کا سوال یہ تھا کہ ان کے ضامن کون ہیں؟ کامیابی کی کیا ضمانت ہے؟ مولانا ، دونوں پارٹیوں کی شراکت پر اصرار کرتے رہے لیکن ضامنوں  کی بات گول کرتے رہے۔ پھر دھرنا ختم ہوا۔ حکومت قائم رہی اور مولانا ضامنوں سے ناراض ہو گئے۔ اب آصف علی زرداری کو اسی صورتحال کا سامنا  ہے۔ دیکھتے ہیں کہ وہ اتحادیوں کو اعتماد میں لیتے ہیں یا ضامنوں کا ذکر گول کر دیں گے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.