مسلسل نظر انداز کیے جانے پر تحریک انصاف کے اسلام آباد کو بھی خطرات لاحق

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔یہ منو بھائی کا قول ہے جس کا ملتان کمزور ہو جائے اس کا اسلام آباد کمزور ہو جاتا ہے۔ یہ بات انہوں نے 1986ء میں میرے شعری مجموعے ”آئینوں کے شہر میں پہلا پتھر“ کی ملتان میں تقریب رونمائی کے موقع پر کی تھی۔

اس کی وجہ تسمیہ یہ تھی ان دنوں سید فخر امام چیئرمین ضلع کونسل ملتان کا انتخاب ہارے تھے اور اس بنا پر انہوں نے وفاقی وزیر بلدیات کے عہدے سے استعفیٰ دیدیا تھا۔ تب منو بھائی نے اس پر کالم بھی لکھا تھا اور کہا تھا اگر سید فخر امام کا ملتان مضبوط ہوتا تو انہیں مستعفی نہ ہونا پڑتا۔ اس اصطلاح کی وضاحت انہوں نے یہ کی تھی جس کی بنیاد مضبوط ہو اس کی عمارت بھی مضبوط ہوتی ہے۔ مجھے منو بھائی کی یہ بات تحریک انصاف کی ملتان کے کنٹونمنٹ بورڈ انتخابات میں عبرتناک شکست کے بعد یاد آئی۔ عام انتخابات میں تحریک انصاف کو گیارہ ایم پی اے اور چھ ایم این اے دینے والا ملتان، کنٹونمنٹ بورڈ کی دس نشستوں میں سے ایک نشست بھی تحریک انصاف کو دینے پر راضی نہیں ہوا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہنا چاہئے تحریک انصاف کا ملتان کمزور ہو گیا ہے۔اتنا کمزور ہو گیا ہے کہ اب لاٹھی کے سہارے بھی چلنے کی سکت نہیں رکھتا۔ تحریک انصاف کو مجموعی طور پر کنٹونمنٹ بورڈ کی ایک نشست دوسرے نمبر پر آنے والی مسلم لیگ (ن) سے زیادہ ملی ہے لیکن پنجاب میں اس کا جو حال ہوا ہے وہ کوئی اچھی خبر نہیں۔ لاہور میں مسلم لیگ (ن) چھا گئی اور ملتان میں آزاد امیدواروں نے تحریک انصاف کو چاروں شانے چت کر دیا۔ ملک کا وزیر خارجہ ملتان سے، وزیر اعظم کا ایک معاون خصوصی اور صوبائی حکومت کا ایک وزیر ایک مشیر مل کر بھی کنٹونمنٹ بورڈ کی ایک سیٹ نہیں نکال سکے حالانکہ ہر حلقے میں امیدوار کھڑے کئے گئے تھے۔

یہ لمحہ فکریہ ہے مگر فی الوقت اقتدارکے سرور میں کسی کو ہوش نہیں کہ پیروں کے نیچے سے زمین کھسک رہی ہے۔ اب یہ تاثر پھیل گیا ہے ان انتخابی نتائج کو دیکھ کر تحریک انصاف کسی صورت پنجاب میں بلدیاتی انتخابات نہیں کرانا چاہے گی، کیونکہ اگر مسلم لیگی امیدواروں کی اکثریت جیت کر بلدیاتی اداروں میں آ گئی تو عام انتخابات میں مشکلات بڑھ جائیں گی۔لاہور کی بات تو چھوڑیں، وہاں سے تو مسلم لیگ (ن) ہمیشہ ہی جیتتی رہی ہے۔ قومی و صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں بھی اس کی نشستیں زیادہ ہوتی ہیں اور بلدیاتی انتخابات میں بھی، اب کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات میں بھی اس نے تقریباً کلین سویپ کیا ہے۔ مگر ملتان میں کیا ہوا ہے؟ ایسی شکست کا تو کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ 2018ء کے انتخابات میں اسی شہر نے پی ٹی آئی کے حق میں فیصلہ دیا تھا شہر کی ساری نشستیں اس کی جھولی میں ڈال دی تھیں، مسلم لیگ (ن) کے بڑے بڑے برج الٹ دیئے تھے، یہ شہر تحریک انصاف کا گڑھ بن کے سامنے آیا تھا مگر یہ کیا صرف تین سال کے عرصے میں اس کی ایسی درگت بنی کہ دس حلقوں میں شکست سے دو چار ہوگئی۔ مسلم لیگ (ن) نے تو پھر بھی ایک نشست جیت کر بلے بلے کروا لی ، تحریک انصاف تو دوسرے تیسرے نمبر پر جا کھڑی ہوئی، اب تحریک انصاف والے شرمندگی مٹانے کے لئے یہ دعوے کر رہے ہیں جیتنے والے آزاد امیدوار بھی اسی کے ہیں اور جلد تحریک انصاف میں شامل ہو جائیں گے۔

کیا اب تحریک انصاف کے پاس یہی راستہ رہ گیا ہے، انتخابات میں شکست کھانے کے بعد آزاد امیدواروں پر دھاوا بولو ، انہیں ساتھ ملاؤ اور اپنی ساکھ بچاؤ، کیا ان کی ہارس ٹریڈنگ ہو گی یا وہ اللہ واسطے تحریک انصاف میں شامل ہو جائیں گے۔حقیقت یہ ہے جب سے تحریک انصاف حکومت میں آئی ہے ملتان کو نظر انداز کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ آج پی ٹی آئی کا ادنیٰ سے اعلیٰ ورکر اس کی ساری ذمہ داری مخدوم شاہ محمود قریشی پر ڈالتا ہے، جنہوں نے عملاً ملتان کی تحریک انصاف پر قبضہ کر رکھا ہے۔ انہی کے چہیتے ہر جگہ عہدے پاتے ہیں اور انہی کی وجہ سے تحریک انصاف کے حقیقی کارکنوں میں بد دلی پائی جاتی ہے۔ 2018ء کے انتخابات میں جس جذبے کے ساتھ تحریک انصاف میدان میں اُتری تھی، آج وہ بالکل مفقود نظر آتا ہے۔ کنٹونمنٹ بورڈ انتخابات میں شکست کے بعد سوشل میڈیا پر پارٹی کے نظریاتی اور دیرینہ کارکنوں نے کھل کر الزام لگایا یہ سب کارکنوں کو نظر انداز کرنے کا نتیجہ ہے۔ ارکان اسمبلی کارکنوں کو ملتے نہیں اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی صرف اپنے اور اپنے بیٹے زین قریشی کے حلقوں میں پارٹی کے عہدے بانٹتے ہیں انہیں خوف ہے اگلے انتخابات میں سلمان نعیم کے ہاتھوں ان کے یہ حلقے بھی چھن جائیں گے۔ پارٹی کو گھر کی باندی بنا کے رکھنے سے اس کے اندر جو انتشار اور مایوسی پیدا ہوئی ہے، اس کا خمیازہ کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات میں عبرتناک شکست ہے اس دوران شاہ محمود قریشی کئی بار ملتان آئے

مگر انہوں نے ایک بار بھی کنٹونمنٹ بورڈ کے اپنے امیدواروں سے ملاقات نہیں کی حتیٰ کہ کارکنوں کو یہ پیغام بھی نہیں دیا کہ وہ انتخابات کے لئے متحرک ہوں، ویسے وہ ملتان پی ٹی آئی کے مدارالمہام بنتے ہیں اور چاہتے ہیں اس کا پتہ بھی ان کے بغیر نہ ہلے۔صرف مقامی عہدیداروں کا انتشار ہی نہیں بلکہ ملک کی مجموعی صورت حال نے بھی ملتان میں تحریک انصاف کو شکست سے دو چار کیا۔ ہم تو ان کالموں میں یہ بات بڑے تواتر سے لکھ رہے ہیں معاشی حالات نے عوام کے کس بل نکال دیئے ہیں، ان کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ بھوک اور مہنگائی نے مل کر عام آدمی کے لئے حالات بدتر کر دیئے ہیں حکومت کے بارے میں لوگوں کی رائے بالکل بدل گئی ہے۔ انہیں نئے پاکستان کے نعرے سے چڑ ہونے لگی ہے حالت یہ ہو چکی ہے پی ٹی آئی کے ارکانِ اسمبلی عوام کا سامنا کرتے ہوئے کتراتے ہیں۔ میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کئی ایک کو تو اس بات کا خوف ہے کہیں عوام انہیں پتھر نہ ماریں مجھے ایسی خواتین سے ملنے کا موقع ملا جنہوں نے کنٹونمنٹ بورڈ کے امیدواروں کی ڈور ٹو ڈور انتخابی مہم چلائی، پی ٹی آئی کی ان خواتین کا کہنا تھا انہیں خواتین ووٹرز کی طرف سے بہت جلی کٹی سننے کو ملیں۔ سب کا یہی سوال تھا عمران خان کو کس لئے ووٹ دیں، اس نے تو ہمارے گھروں کے چولہے ٹھنڈے کر دیئے ہیں۔حالانکہ یہی خواتین تھیں جو 2018ء میں عمران خان کی دیوانی بنی ہوئی تھیں، عمران خان کے مخالفین کو من من کی گالیاں دیتی تھیں کہ وہ ملک کو لوٹ کر کھا گئے۔ آج وہی خواتین اور وہی عمران خان ہے مگر منظر یکسر تبدیل ہو چکا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے ملتان کنٹونمنٹ بورڈ میں تحریک انصاف کے وہ امیدوار بھی ہارے ہیں جو پچھلے انتخابات میں بڑے مارجن سے جیتے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے لوگوں نے واضح طور پر اپنا فیصلہ تبدیل کیا ہے۔ ایک تبدیلی کی بات تحریک انصاف والے کرتے ہیں اور ایک تبدیلی یہ آئی ہے پنجاب نے جو فیصلہ 2018ء میں دیا تھا لگتا ہے اب وہ اسے واپس لے رہا ہے۔ کیا تحریک انصاف ان نتائج سے کوئی سبق حاصل کرے گی؟ یا این آر او نہیں دیں گے کا راگ الاپتی رہے گی۔؟

Comments are closed.