مسلمانوں کا جو حال ہے کیا بتاؤں ۔۔۔۔۔۔؟؟؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ہارون الرشید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہمارے عہد کے عارف نے کہا تھا: ایک آدمی جو خالص اور مخلص ہو، جس کی ترجیحات درست ہوں اور اللہ کے سوا جوکسی پر بھروسہ نہ کرے۔ یہ 1938ء تھا، اقبالؔ نے تہمد کے پلّو سے آنکھیں پونچھ لیں اور یہ کہا:

افسوس، کوئی مخلص مسلمان نہیں ملتا۔ ان کی آواز بیٹھ گئی تھی اور کم کم ہی وہ گفتگو کیا کرتے۔ مایوسی سے البتہ کوسوں دور، ایقان کا چراغ ان کے قلب میں ہمیشہ فروزاں رہا۔انہیں یقین تھا کہ مسلم برّصغیر کا یومِ نجات آپہنچا : کریں گے اہلِ نظر تازہ بستیاں آباد مری نگاہ نہیں سوئے کوفہ و بغداد پھر ہم نے اس رہنما کو دیکھ لیا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.