مسلم لیگیوں کی نانی ایک ہوتی ہے :

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ارشاد احمد عارف اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ کل تک پریشرمیں نہ آنے کا دعویٰ تھا مگر آج کی تلخ حقیقت یہ ہے کہ نہ صرف وزیر اعلیٰ جہانگیر ترین گروپ کے گلے شکوے دور کرنے کے لئے بے تاب ہیں بلکہ وفاقی وزراء بھی پیار محبت کے

گیت گا رہے ہیں اور جہانگیر ترین گروپ کی شکایات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی جا رہی ہے بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے؟ دانش مندی کا تقاضا یہ ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت جھوٹی انا کو بالائے طاق رکھ کر اپنی صفیں درست کرے‘ روٹھوں کو گلے لگائے پنجاب کو مسلم لیگ(ن) کے لئے آسان چارہ بنانے کے بجائے ناقص حکمت عملی اور قیادت تبدیل کرے کہ وفاقی حکومت کی تشکیل اور قومی سطح پر کامیابی و ناکامی کا دارو مدار سب سے بڑے صوبے میں کارکردگی اور نیک نامی پر ہے۔ گئے وقتوں میں کہا جاتا تھا کہ جس کا ملتان مضبوط اس کا دہلی بھی مضبوط‘ ان دنوں تخت دہلی تک رسائی براستہ ملتان ممکن ہوتی تھی‘ اب یہی اہمیت لاہور اور پنجاب کی ہے۔ جس کا ادراک شریف خاندان کو ہے ۔آصف علی زرداری کی طرح عمران خان بھی شائد اسے افسانہ سمجھتے ہیں‘ ورنہ تخت لاہور بازیچہ اطفال نہ بنتا۔ میاں شہباز شریف کے متحرک ہونے کے بعد مسلم لیگ ن کی سیاست ازسر نو انگڑائی لے رہی ہے اور چودھری نثار علی خاں کے حلف اٹھانے کے بعد پنجاب کی پالیمانی سیاست میں مزید ہلچل کا امکان ہے۔ جہانگیر ترین گروپ اگر علی ظفر رپورٹ سے مطمئن اور مرکزی و صوبائی حکومت کی طفل تسلیوں سے رام نہ ہوا تو جون کا مہینہ واقعی نئی رتوں کی نوید ثابت ہو گا‘ چودھری برادران کا کردار فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے کہ وہ بھی پنجاب کی حکمرانی پر حق شفعہ رکھتے ہیں اورپنجابی کہاوت کے مطابق مسلم لیگیوں کی نانی ایک ہوتی ہے۔

Comments are closed.