مسلم لیگ (ن) ان ہاؤس تبدیلی کی مخالف کیوں

لاہور ( ویب ڈیسک) وفاق اور پنجاب میں ان ہائوس تبدیلی کے معاملے پر مسلم لیگ ن نے اپنے موقف کو واضح کردیا ہے۔ مسلم لیگ ن کا مرکز اور صوبے میں ان ہائوس تبدیلی کے بعد عام انتخابات کا اعلان ہی حتمی فیصلہ ہوگا۔ اس حوالے سے مسلم لیگ ن کی بیرون ملک اور

ملک کے اندر بیٹھی لیڈر شپ نے اتفاق کر لیا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن یہ فیصلہ کر چکی ہے کہ ان ہائوس تبدیلی کے بعد اقتدار میں آکر ملک کے اندر مسائل کو فوری کم نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت کے غلط اقدامات سے عوام کو مہنگائی اور دیگر معاشی مسائل کا خمیازہ بھگتنا پڑرہا ہے۔ ہم عام انتخابات میں حکومت کی ان کوتاہیوں کو عوام کے سامنے رکھیں گے اور عام انتخابات کے بعد اقتدار میں آکر ان مسائل پر قابو پائیں گے۔ اس حوالے سے ن لیگ کے ذرائع کا دعوی ہے کہ اہم ترین شخصیات کا ن لیگ کی قیادت سے رابطہ ہے جس میں وہ ان ہائوس تبدیلی کا اشارہ دے رہے ہیں۔ اس لئے ن لیگ کی قیادت یہ سمجھتی ہے کہ ملک میں مہنگائی، بیروزگاری اور معاشی صورت حال، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے جیسے بدترین مسائل کے ہوتے ہوئے ان ہائوس تبدیلی کے ذریعے اقتدار میں آنا کسی بھی صورت فائدہ مند نہیں ہوگا۔ کوئی سیاسی جماعت اقتدار میں آتی ہے تو عوام کو فوری ریلیف دینا ہوگا جو فی الفور آسان نہیں ہوگا کیونکہ اس طرح حکومت کے غلط اقدامات کا بوجھ بھی اٹھانا ہوگا اور عوام کا غصہ بھی ہمیں برداشت کرنا ہوگا۔ اس لئے ہمارا یہی مطالبہ ہے عام انتخابات کا اعلان کیا جائے تاکہ ہم عوام کے سامنے اس حکومت کی نااہلی رکھ سکیں۔ آئندہ انتخابات میں اپوزیشن کے اقتدار میں آنے کے امکانات سب سے زیادہ ہیں۔ اس لئے وہ صرف انتخابات میں کامیاب ہوکر اقتدار میں آنا چاہتے ہے۔