مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف اہم ترین معاملہ پر متفق ہو گئیں ،

کراچی (ویب ڈیسک) تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن نے صدارتی نظام کی مخالفت کردی ، نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود اور ن لیگ کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے صدارتی نظام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی صدارتی نظام نہیں

مانتی کون صدارتی نظام لارہا ہے،صدارتی نظام کی باتیں کر کے پاکستان سے دشمنی کی جارہی ہے۔پروگرام میں سینیٹ میں پیپلز پارٹی کی لیڈر شیری رحمٰن سے بھی گفتگو کی گئی۔شیری رحمٰن نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن اگر ناراض ہوتے تو اے پی سی کا مشترکہ اعلامیہ نہ پڑھتے۔ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ نواز شریف کو ہشاش بشاش اور صحت مند دیکھ کر بہت خوشی ہوئی، ن لیگ نے بلاوجہ اپنے لیڈر کی صحت کے بار ے میں افواہیں چھوڑی ہوئی تھیں،اپوزیشن پارلیمنٹ میں 200ووٹ اکٹھے نہیں کرسکتی لانگ مارچ کیا کرے گی، اپوزیشن کے پاس لانگ مارچ کیلئے عوام کی طاقت نہیں ہے، مولانا فضل الرحمٰن مدرسے کے بچے لے کر گھومتے ہیں، فیٹف بل پر بلیک میلنگ کے باوجود اپوزیشن کو این آر او لینے میں مایوسی ہوئی۔ شفقت محمود کا کہنا تھا کہ مارچ میں سینیٹ الیکشن میں تحریک انصاف کو اکثریت مل جائے گی، اپوزیشن لانگ مارچ ضرور کرے لیکن بچوں کی تعلیم کا حرج نہیں ہونا چاہئے۔لانگ مارچ کا وقت آئے گا تو اجازت دیں نہ دیں سوچیں گے، نواز شریف مجرم اور مفرور ہیں عدالت نے ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں کیا انہیں میڈیا پر آنے کی اجازت ہونی چاہئے، پرویز مشرف ن لیگ کے زمانے میں باہر گیا یہ ہم سے کیا پوچھتے ہیں۔ شفقت محمود نے کہا کہ اے پی سی میں عدلیہ اور فوج پر بطور ادارہ اٹیک کیا گیا ہے، نواز شریف شاید بھول گئے کہ ان کی ابتداء جنرل جیلانی اور جنرل ضیاء الحق سے ہوئی تھی، اتوار کو ٹی وی پر جو دکھایا گیا کیا اس کے بعد بھی میڈیا کی آزادی پر سوال اٹھایا جاسکتا ہے۔جس فوج نے پاکستان کو مضبوط بنایا ہے یہ اسی پر اٹیک کررہے ہیں، نواز شریف ہمیشہ سے مطلق العنان آمربننا چاہتے ہیں نواز شریف نے جنرل بیگ، جنرل آصف نواز، جنرل کاکڑ، جنرل جہانگیر کرامت، جنرل مشرف سے لڑائی کی اور جنرل راحیل شریف کے ساتھ ان کے اختلافات ہوئے ۔

Sharing is caring!

Comments are closed.