مسلم لیگ (ن) غائب ، مسلم لیگ (م) اور (ش) کے درمیان ان دنوں کیسی شدید مخالفت چل رہی ہے ؟ اشرف شریف کا خصوصی تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار اشرف شریف اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔کئی ماہ پہلے جب میں نے مسلم لیگ ش اور مسلم لیگ م بننے کی خبر کالم میں دی تو مریم نواز اور ان کے ہمنوائوں نے بیانات کا طوفان اٹھا دیا۔میں نے خبر کا کریڈٹ لینے کے لئے زیادہ اصرار نہ کیا‘

مجھے یہ پسند نہیں کہ خود کو جھگڑالو بنا کر پیش کروں۔میں نے بتایا تھا کہ مسلم لیگ م میں کون ہے اور مسلم لیگ ش کا حصہ کون لوگ ہیں۔یہ بھی ذکر کیا تھا کہ شین پر میم غلبہ پانے کی کوشش میں ہے۔ مسلم لیگ ن وفاق میں حکمران ہے۔ بلاول بھٹو نے لندن میں جا کر میاں نواز شریف سے شراکت اقتدار کا فارمولا طے کیا۔رجیم چینج کے نتیجے میں اقتدار لینے کا فیصلہ میاں نواز شریف نے کیا۔میاں نواز شریف نے طے کیا کہ مرکز میں شہباز شریف وزیر اعظم ہوں گے اور پنجاب میں حمزہ وزیر اعلیٰ۔اسی لئے حمزہ کو وزیر اعلیٰ بنانے کے لئے جو سیاسی و غیر سیاسی سرگرمیاں وقوع پذیر ہوئیں مریم نواز ان میں نمایاں اور متحرک نظر آئیں۔ مہنگائی‘ ڈالر کی قدر‘ انتقامی سیاست‘ شہباز گل کی گرفتاری اور ان پر تشدد سمیت کئی معاملات ہیں جہاں مسلم لیگ ن تحلیل ہوتی نظر آئی۔مسلم لیگ ش اور مسلم لیگ م الگ الگ موقف پیش کر رہی ہیں۔جیسا کہ مسلم لیگ ش کا کہنا ہے کہ ملک شدید بحران کی زد میں ہے۔اس بحران سے نکلنے کے لئے ضروری ہے کہ دولت مند طبقے کی بجائے عام افراد کو عالمی اداروں کی طرف سے آنے والا دبائو منتقل کر دیا جائے۔ 50اور 60یونٹ بجلی استعمال کرنے والوں کو آٹھ آٹھ ہزار روپے کا بل مسلم لیگ شہباز کی حکومت نے جاری کیا۔مسلم لیگ م بجلی کے بھاری بلوں پر افسردہ ہونے کا بہروپ بھرتی ہے۔کہا جاتا ہے کہ غریب لوگوں کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے

لیکن یہ سب عمران حکومت کا کیا دھرا ہے جسے درست کرنے کے لئے مسلم لیگ نے مجبوری میں حکومت قبول کی۔وزیر خزانہ ٹیکس بڑھاتے اور اشیاء کے نرخوں میں اضافہ کا اعلان کرتے ہیں۔ظاہر ہے ہر اعلان وزیر اعظم شہباز شریف کی اجازت کے بعد کیا جاتا ہے لیکن مریم نواز مفتاح بھائی سے اپیل کرتی ہیں کہ غریبوں پر بوجھ نہ بڑھائیں۔حیرت کی بات یہ کہ مفتاح بھائی وقتی طور پر اپیل کو مان لیتے ہیں۔چند روز بعد بوجھ پہلے سے بڑھا دیتے ہیں۔ مفتاح اسماعیل نے جب بھی تیل کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کیا لندن میں بیٹھے بڑے میاں صاحب نے دل پر تازہ پتھر رکھ کر فیصلہ قبول کیا۔میاں صاحب امرا کی بستی میں رہتے ہیں‘ جانے ان کے خدمت گار نان کلچے لانے کے ساتھ کہاں کہاں سے پتھر ڈھونڈ کر لاتے ہیں۔ہر فیصلے کے وقت میاں نواز شریف یہ پتھر اپنے سینے پر رکھ لیتے ہیں۔ ہم مانتے ہیں کہ نہ ہم نے لندن والے فلیٹ دیکھے‘ نہ پتھر دیکھے‘ یہ محترمہ مریم نواز اور ان کی ساتھی خواتین ہیں جن کے ذریعے ہمیں درجن بھر سے زیادہ بار معلوم ہوا کہ میاں صاحب نے فلاں فیصلہ دل پر پتھر رکھ کر قبول کیا۔ حالیہ دنوں شہباز گل کی گرفتاری ہوئی۔مسئلہ یہ پیدا ہوا کہ اس گرفتاری کی ذمہ داری کون قبول کرے۔رانا ثناء اللہ کا چہرہ سامنے ہے۔ساری تنقید انہی پر کی جا رہی ہے۔خیر اس گرفتاری اور مبینہ تشدد کے متعلق تاریخ اپنا ریکارڈ بنا رہی ہے۔مسلم لیگ ش کی حکومت کا وزیر داخلہ تمام معاملات کی ذمہ داری لے رہا ہے۔

سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کہہ رہے ہیں کہ وہ کسی گرفتار سیاسی شخصیت پر تشدد کے خلاف ہیں اور رانا ثناء اللہ سے اپیل کرتے ہیں کہ شہباز گل پر بدترین تشدد کا معاملہ دیکھیں۔حالیہ ایام میں حساس ادارے پر تنقید کی روائت پر بھی دو طرح کا موقف سامنے آیا۔خواجہ آصف نے کہا کہ پرویز مشرف چونکہ سیاست کر رہے تھے اس لئے خواجہ صاحب نے اس وقت ادارے اور اس کے سربراہ کے متعلق اس طرح کی گفتگو کی۔مسلم لیگ کے جاوید لطیف‘ خواجہ سعد رفیق اور دوسرے رہنما بھی شہباز گل کے معاملے پر بیانات جاری کر رہے ہیں۔دلچسپ بات یہ کہ مسلم لیگ ش کی حکومتی ساکھ مسلم لیگ م کے وفاداروں کے بیانات کی وجہ سے مستحکم نہیں ہو پا رہی جبکہ مسلم لیگ (م) نے اپنی اخلاقی برتری کی جتنی کوششیں کیں وہ ریت پر گرے پانی کی طرح گم ہو گئیں۔ شہباز گل کی گرفتاری کے بعد عمران خان کا لہجہ صاف ہوتا جا رہا ہے‘ وہ طاقتور حلقوں کو بار بار پیغام دے رہے ہیں‘ عوام کی اکثریت عمران خاں کے ساتھ ہونے یا نہ ہونے پر ہر فریق سو دلائل دے سکتا ہے لیکن اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ عمران کی کال پر سب سے زیادہ لوگ سڑکوں پر آ جاتے ہیں۔قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کے ہیں۔عوام جمہوری تصورات کی تبدیلی ملاحظہ کر رہے ہیں۔چہروں پر جما مصنوعی جمہوری رنگ و روپ پگھل رہا ہے۔سیاسی جماعت بھلے کوئی ہو جمہوریت سے وابستگی ضروری ہے۔جمہوری آدمی کبھی ایسے حالات پیدا نہیں کرتا جس کا فائدہ غیر جمہوری قوتوں کو پہنچے۔جمہوری آدمی آئین اور قانون کے سامنے اپنی رائے کو سرنڈر کر دیتا ہے‘ جمہوری آدمی اپنی غلطیوں سے سیکھتا ہے، جمہوری آدمی پارلیمنٹ کی بالادستی پر یقین رکھتا ہے ،صرف یہی چار پانچ معیار رکھ کر اس عہد کے سیاسی رہنمائوں کو کسوٹی پر پرکھیں۔مجھے یقین ہے آپ جلد جان جائیں گے کہ نہ کوئی سیاستدان ہے اور نہ کسی کی فکر جمہوری ہے۔سب ایک دوسرے کو کمزور ہوتے دیکھ کر بوٹیاں نوچنے کو تیار رہتے ہیں،کوشش کر رہے ہیں کہ سیاسی مخالف کسی طرح نااہل ہو جائے،قید ہو جائے یا راستے سے مستقل ہٹ جائے ۔ اب کوئی مسلم لیگ ن ہو‘ ش ہو یا م ہو‘ اقتدار کی اپنی اپنی دوڑ ہے۔