مسلم لیگ (ن) کی سینئر خاتون سیاستدان کے انکشافات

لاہور (ویب ڈیسک) یہ واقعہ مجھے نون لیگ کی ایک خاتون رہنما نے سنایا تھا، وہ نواز شریف کی وفاقی کابینہ کا حصہ رہیں، مجھے وہ اِس حوالے سے بہت اچھی لگتی ہیں نون لیگ کے ساتھ اُنہوں نے اپنا تعلق اُس وقت بھی جوڑے رکھا جب 1999میں جنرل مشرف نے نواز شریف کو

بطور وزیراعظم اقتدار سے الگ کیا، نون لیگیوں کے لیے یہ بڑا کڑا وقت تھا،نامور کالم نگار توفیق بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ ایساکڑا وقت نون لیگیوں پر شاید پہلی بار آیا تھا، …. میں ہر اُس شخص کی تعظیم کرتا ہوں جو اِس کڑے وقت میں اپنی پارٹی اورلیڈران کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے رہا اور بے شمار قربانیاں دیں، جاوید ہاشمی، خواجہ سعد رفیق، تہمینہ دولتانہ، احسن اقبال وغیرہ خاص طورپر اُن میں شامل ہیں، اِن بے چاروں کا اصل امتحان اُس وقت شروع ہوا جب ”نواز شریف اینڈکو“ کچھ بیرونی قوتوں کی مداخلت پر کچھ اندرونی قوتوں کی رعایت لے کر جدہ چلی گئی، اُس کے بعد کتنے عرصے تک اُن کی زبانوں پر تالے پڑے رہے، ایک سال بعد اُن کا نحیف سا اِک بیان سامنے آیا ”ہم خوش قسمت ہیں ہمیں مدینے والے نے اپنے پاس بلا لیا“….تب میں نے عرض کیا تھا ”آپ واقعی خوش قسمت ہیں آپ کو مدینے والے نے اپنے پاس بلا لیا، آپ کچھ دیر اور قید میں رہتے، آپ کو ”مکے والے“ نے اپنے پاس بلا لینا تھا“…. اب میں اُس واقعے کی طرف آتا ہوں جس کا ذکر اِس کالم کے ابتداءمیں، میں نے کیا، نون لیگی خاتون رہنما نے اِک روز لاہور میں واقع اپنے گھر میں اپنے چند قریبی قلم کاردوستوں کو کھانے پر بلایا، اُن کی یہ دوستانہ روایت اب بھی جاری ہے، دوستانہ ماحول میں گپ شپ ہورہی تھی، شریف فیملی کو جدہ گئے ابھی چند روز ہی ہوئے تھے، وہ بتانے لگیں”جس رات وہ جدہ گئے اُس سے اگلے روز بیگم کلثوم نواز نے لاہور میں عورتوں کی ایک بہت بڑی احتجاجی ریلی نکالنی تھی، وہ اِس سلسلے میں مجھ سے مکمل رابطے میں تھیں، بیگم صاحبہ کی خواہش تھی یہ ریلی ہرحال میں کامیاب ہونی چاہیے، وہ اِس ضمن میں ہمیں بار بار بہت محنت کرنے کی ہدایات جاری فرمارہی تھیں، ہم محنت کربھی رہے تھے، …. رات کو مجھے اسلام آباد کے ایک باخبر صحافی کی کال آئی، اُس نے مجھ سے کہا ”شریف فیملی آج آدھی رات کو جدہ روانہ ہورہی ہے، اُنہیں جدہ لے جانے کے لیے ایک خصوصی طیارہ بھی بھجوادیا گیا ہے، …. میں نے اُس صحافی سے کہا ”تم پاگل تو نہیں ہوگئے ؟ یہ کیسے ممکن ہے؟ کل لاہور میں عورتوں کی ایک بڑی ریلی ہے جس کی قیادت باجی کلثوم نے کرنی ہے، اُنہوں نے جدہ جانا ہوتا کم ازکم میرے نوٹس میں ضرورہوتا، میں تمہاری بات پر یقین کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں“…. وہ صحافی بولے ”آپ میری بہن ہیں، میں آپ سے شرط لگاتے ہوئے اچھا نہیں لگتا پر میری بات یادرکھیں شریف فیملی کل پاکستان میں نہیں ہوگی“ ….

صحافی کا فون بند ہوتے ہی میں نے باجی کلثوم کو کال کی، میں نے جان بوجھ کر اُنہیں نہیں بتایا صحافی نے یہ اطلاع مجھے دی ہے“۔میں نے اُن سے اگلے روز کی ریلی بارے پوچھا اُنہوں نے پورے اعتماد سے ریلی کے بارے میں مجھے مزید ہدایات دیں، اُن کے لب ولہجے سے کسی طرح بھی یہ احساس نہیں ہورہا تھا وہ آج رات رخصت ہونے والے ہیں “….اُن سے بات کرنے کے بعد میں نے اُس صحافی کو فون کیا، اُس سے کہا ”تمہاری خبر درست نہیں ہے، میری ابھی باجی کلثوم سے بات ہوئی ہے، شریف فیملی کہیں نہیں جارہی، باجی کلثوم کل لاہور میں عورتوں کی ریلی کی قیادت کریں گی“، بلکہ میں نے اُس صحافی کو اِس ریلی میں بطور خاص شرکت کی دعوت دی تو ایک قہقہہ لگاکر اُس نے فون بند کردیا، …. اگلے روز میں جب سوکر اُٹھی، معمول کے مطابق بیڈٹی لی، پھر بیڈ کے قریب پڑے اُس روز کے اخبارات اُٹھا کر دیکھے اِک دم مجھ پر سکتہ طاری ہوگیا، پتہ چلا شریف فیملی رات کو اپنے سازوسامان وباورچیوں سمیت جدہ جاچکی ہے، میرے کانوں میں باجی کلثوم کی آوازیں شورمچانے لگیں، اُن کی وہ ہدایات گونجنے لگیں جو وہ مجھے لاہورکی ریلی کو کامیاب بنانے کے لیے دیئے جارہی تھیں، میں یکدم دل گرفتہ ہوگئی، مجھے لگا میں کوئی ڈراﺅناخواب دیکھ رہی ہوں، میں نے گھبراہٹ کے اِس عالم میں ٹی وی آن کیا، ہرجگہ شریف فیملی کی رخصتی کی خبریں چل رہی تھیں، میں نے سوچا سارے چلے گئے ہوں گے باجی کلثوم نہیں گئی ہوں گی،

اُنہوں نے تو آج لاہور میں جنرل مشرف کے خلاف عورتوں کی ریلی کی قیادت کرنی ہے، میں نے باجی کلثوم کے موبائل پر اِس یقین کے ساتھ کال کی وہ پہلی بیل پر میرا فون اٹینڈ کریں گی، اُن کا موبائل آف تھا، میرا موڈ مزید آف ہوگیا ۔ میں نے اُن کی سیکرٹری کو کال کی، اُس کا نمبر بھی آف تھا، اُس کے بعد میں نے اپنی پارٹی کے کچھ اہم رہنماﺅں کو کال کی، میرے پاگل پن کی انتہا تھی، میں اُن کی کوئی بات سنے بغیر مسلسل بولتی جارہی تھی۔ میں اُن سے کہہ رہی تھی ”ہمارے میڈیا کو کیا ہوگیا ہے؟ مسلسل جھوٹی خبریں چلائے جارہا ہے کہ شریف فیملی جدہ چلی گئی ہے، اخبارات میں بھی ایسی ہی ”بکواسیات“ چھپی ہوئی ہیں، فوجی حکمران اِس حدتک گر گئے ہیں کہ میڈیا کے ذریعے ایسی غلط افواہیں پھیلا رہے ہیں؟“۔میں بولے جارہی تھی، جواباًپُراسرارسی خاموشی تھی، وہ بھی شاید اُس کیفیت سے گزررہے تھے جس سے میں گزررہی تھی، …. وہ دن کیسے گزرا میں ہی جانتی ہوں،مارے شرم کے میں اُس باخبر صحافی کو فون بھی نہیں کررہی تھی جس سے رات کو میں لڑ رہی تھی تم غلط کہہ رہے ہو، وہ غلط نہیں تھا، ہم غلط تھے، کچھ دیر بعد اُس کا خود ہی مجھے فون آگیا، وہ بہت اچھی فطرت کا مالک ہے، اُس نے جو خبر رات کو مجھے دی تھی اُس بارے کوئی بات ہی نہیں کی، وہ اصل میں مجھے شرمندہ نہیں کرنا چاہتا تھا۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *