مشہور انٹرنیشنل جریدے “اکانومسٹ” نے پول کھول دیا

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار عارف نظامی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔مبصرین حیران ہیں کہ حکومت کی اوپن بیلٹ الیکشن کے بارے میں اس حکمت عملی کے پیچھے کیا راز ہے اور وہ کیو نکر’ ’چور، خائن ‘‘سیا ستدانوں کو زیادہ نشستیں دلوانے میں دلچسپی رکھتی ہے ۔ پی ٹی آئی کو اپنے پروگرام

ایجنڈے اور سیاسی عزائم کی تکمیل کے لیے ضروری ہے کہ اسے سینیٹ میں بھی اکثریت حا صل ہو لیکن کسی بھی طریقہ انتخاب کے تحت ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا ۔ لگتا ہے کہ ہارس ٹریڈنگ اور بھاری رقوم کے لین دین کے حوالے سے حکومت کو خطرہ ہے کہ اپوزیشن مال لگا کر ان کے بندے توڑے گی۔ گویا کہ خان صاحب کو اپنے ہی ارکان پر اعتماد نہیں ۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ پاکستان کے جسد سیاست کو صاف وشفاف اور غیر جمہوری قوتوں کی مداخلت سے پاک جمہوریت کو فروغ دے کر صحیح معنوں میں ایک جمہوری ملک بنایا جائے،اس وقت افسوسناک صورتحا ل یہ ہے کہ پاکستان میں جو نظام رائج ہے اسے کوئی جمہوری بھی تسلیم نہیں کرتا ۔ حال ہی میں موقر جریدے اکانومسٹ نے ایک سروے شائع کیا ہے جس میں دنیا کے کئی ممالک کا نقشہ بھی شامل ہے، اس کے مطابق پاکستان کو غیر جمہوری ملک قرارنہیں دیا گیا لیکن اس کا شماران ملکوں میں کیا گیا ہے جہاں جمہوریت کا دور دورہ تو ہے لیکن عملی طورپر جمہوریت کوہائبرڈ سسٹم سے چلایا جا رہا ہے گویا پاکستان میں عملاً فوجی آمریت تو نہیں ہے لیکن جمہوری ادارے آزادی سے کام نہیں کر سکتے ۔یہ پاکستان کے لیے کوئی اچھا سرٹیفکیٹ نہیں ہے۔ یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ہم جمہوری ملک ہیں جہاں وفاقی پارلیمانی نظام ایک آئین کے تحت کام کررہا ہے ،عدالتیں آزاد ہیں ، پارلیمنٹ خو دمختار ہے اور جہاں تک سویلین حکومت کا تعلق ہے وہ تو اپنے فیصلے پوری آزادی سے کرتی ہے، میڈیا کو بلا امتیاز آزادی سے رپو رٹنگ کرنا اور معاملات کا بے لاگ تجزیہ کرنے کی پوری آزادی ہے ۔ کاش یہ سب کچھ ہوتا تو کسی کو ہمارے سیاسی نظام پر انگشت نمائی کرنے کی جرات نہ ہوتی ۔اگر حکمران جماعت واقعی ایک صاف ستھرا جمہوری نظام لانا چاہتی ہے تو اس کے لیے اپوزیشن کے سا تھ بیٹھ کر بلکہ جیسا کہ مسلم لیگ (ن) کے نائب صدر شاہد خاقان عباسی کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ تمام سٹیک ہولڈرز کو اکٹھے بیٹھنا چاہیے غالبا ً ان کی مراد افواج پاکستان سے بھی ہے ۔ ان کی دلیل صائب ہے لیکن پہلے سیاستدان تو ایک صفحے پر آئیں لیکن یہ کام خان صاحب کے بس کا روگ نہیں لگتا۔ وہ تو شفافیت کے نام پر اپوزیشن کی چھٹی کرانا چاہتے ہیں اور جو مذاکرات کی بات کرے اس پر این آر او کی بھیک مانگنے کی تہمت لگادیتے ہیں، مزید برآں وہ ہائبرڈ نظام سے فائدہ اٹھا رہے ہیں وہ کیونکر اس کے خاتمے کے لیے بامقصد مذاکرات کا آغاز کریں گے۔

Comments are closed.