مشہور بین الاقوامی ادارے کے ماہرین کا خصوصی تبصرہ

لندن (ویب ڈیسک) تالبان حکومت کے طرز عمل سے یہ بات واضح نظر آتی ہے کہ وہ شریعت کے برخلاف کسی اصول کو تسلیم نہیں کریں گے۔ اس بات کا اظہار لندن انسٹیٹیوٹ آف سائوتھ ایشیا کے زیراہتمام افغانستان کے مستقبل کے موضوع پر منعقدہ ویب نار میں مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر

آف پاکستان اینڈ افغانستان ڈاکٹر مارون وین بیون Dr. Marvin Weinbarmنے ایک سوال کا جواب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ تالبان اب بدل چکے ہیں اور انہیں عالمی رائے عامہ کا احساس ہے لیکن ان کا سب سے بڑا امتحان ان کا ’’دور حکمرانی‘‘ ہوگا۔ افغانستان میں ریسرچر اور انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والے اسماعیل پکتی وال نے کہا کہ فیملی فرینڈز کے مطابق افغانستان میں پہلے بدامنی کے سبب روزانہ دو سو کے قریب لوگ زندگی سے محروم ہوتے تھے لیکن اب یہ تعداد صفر ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے شمالی حصوں میں تالبان کو مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا لیکن تالبان کے پاس اتحادی افواج کے قبضے میں آنے والےہتھیاروں کے سامنے وہ نہ ٹھہر سکے اور طویل لڑائی کے سبب اب لوگ اس سے اکتا چکے ہیں۔ میجر جنرل ریٹائرڈ اعجاز خان نے کہا کہ افغانستان کے پڑوسی ممالک کی یہ ذمہ داری ہے کہ افغانستان میں امن کیلئے لکچدار رویہ اختیار کریں۔ایک پرامن افغانستان سب کے مفاد میں ہے اور کسی بھی ملک کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ افغانیوں کو ڈکٹیٹ کرے کہ کس کے ساتھ تعلقات رکھیں اور کس کے ساتھ نہ رکھیں۔

Comments are closed.