مشہور تھا کہ انکے تین ہم شکل اور بھی ہیں ، پھر کیا واقعات پیش آئے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار عمر جاوید روزنامہ پاکستان میں اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔جان نکسن صدام حسین کی گرفتاری سے بہت پہلے صدام اور اسکے اقتدار پر تحقیق کر رہے تھے۔نکسن نے جارج ٹاؤن یونی ورسٹی میں صدام حسین کی شخصیت اور اقتدار پر ہی اپنا تھیسس لکھا تھا۔

نکسن 1998میں سی آئی اے میں شامل کئے گئے۔اور انھیں عراقی قیادت یعنی صدام حسین پر مکمل تحقیق کرنے کا کام سونپا گیا۔جس وقت صدام حسین کو گرفتار کیا گیا اس وقت بھی وہ صدام حسین اور عراقی امور پر ہی انٹیلی جنس کی بنیا دوں پر کام کر رہے تھے۔صدام کو گر فتار کرنے کے ساتھ نکسن کو صدام حسین کے پاس بھیجا گیا تاکہ صدام حسین کو شنا خت کر کے اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ گر فتار ہونے والا شخص حقیقت میں صدام حسین ہی ہے کیونکہ مغربی میڈیا میں کئی سالوں تک یہ جھوٹا پراپیگنڈہ کیا گیا کہ صدام حسین نے 2سے3افراد کو پلا سٹک سرجری اور کاسمیٹک کی مدد سے ہوبہو اپنی ڈمی کے طور پر تیار کیا ہوا ہے۔جان نکسن نے صدام حسین کے دائیں ہاتھ کے پیچھے ان کے قبا ئل کا ٹیٹو(مخصوص نشان)اور1959میں لگنے والی گولی کے نشان کے ذریعے یہ ثابت کر دیا کہ گر فتار کیا جانے والا شخص صدام حسین ہی ہے۔ نکسن نے جب صدام حسین سے اپنی تفتیش کا آغاز کیا تو اس کو ایسے محسوس ہوا کہ صدام حسین کے بارے میں ان کی سوچ مکمل طور پر درست نہیں تھی۔نکسن کیلئے صدام حسین کا یہ دعویٰ بڑا حیر ان کن تھا کہ جب مارچ 2003میں امریکہ نے عراق پر حملہ کیا تو اس سے بہت پہلے صدام حسین اپنی روزمرہ کی ذمے داریوں سے الگ ہوکر ایک نا ول لکھنے میں مصروف تھے۔صدام نے اقتدار کی بہت سی ذمہ داریاں اپنے ساتھیوں خاص طور پر نائب عراقی صدر طحہ یا سین رمضان کے حوالے کر دی تھیں

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *