مشہور صحافی نے بہترین مثال دے کر مہنگائی کے خلاف احتجاج ریکارڈ کروا دیا

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار عمر خان جوزوی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔ہمیں توآج تک یہ کہاجارہاتھاکہ دنیائے کرکٹ میں نام کمانے،شہرت پانے اور92کاعالمی کپ جیتنے کی وجہ سے انہیں بہت کچھ مل گیاتھا۔اس کے پاس نہ دولت کی کوئی کمی تھی اورنہ ہی شہرت کی۔یہ چاہتے توامریکہ،برطانیہ،

آسٹریلیایاباہرکے کسی اورملک میں ڈیرے ڈال کرآرام،سکون اورعیاشی کی زندگی گزارسکتے تھے پر یہ بوریابسترگول کرکے اس ملک میں صرف اس لئے آئے کہ یہاں کے غریب عوام کے لئے کچھ کرسکیں۔ لیکن یہ کیا۔۔؟ صرف ایک منٹ کے لئے اللہ کوحاضرناظرجان کربتائیں کہ سچ میں کیاغریبوں کیلئے کچھ کرنایہ ہوتاہے۔؟ یہ عظیم کپتان جوآرام،سکون اورعیاشی کی زندگی چھوڑکرصرف اورصرف غریب عوام کی خاطراس ملک میں آئے تھے۔پچھلے تین سال سے اس عظیم کپتان کی سربراہی، قیادت، نگرانی اورکپتانی میں اس ملک کے اندرجوکچھ ہورہاہے کیایہ صرف غریب عوام کے لئے ہے۔۔؟ایک منٹ دل پرہاتھ رکھ کرسوچیں توسہی کہ کپتان کی حکمرانی میں ملک سے آٹاغائب ہوناکیایہ غریب عوام کے لئے تھا۔؟کیاغریبوں کے روزمرہ استعمال کی اشیاء کایک دم غریبوں کی پہنچ سے دورہونایہ غریب عوام کے لئے ہے۔؟کیاچینی کی قیمت کااچانک پچاس پچپن سے سومیں چھلانگ لگاناغریب عوام کے لئے ہے۔؟کیاگھی کی فی کلوقیمت کا140سے 320تک پہنچناغریب عوام کے لئے ہے۔؟کیابجلی اورگیس بلوں کاآگ وبم برسانایہ غریب عوام کے لئے ہے۔؟کیاروپے کے مقابلے میں ڈالرکاروزیہ ناچناغریب عوام کے لئے ہے۔؟کیاسونے کی قیمت کاغریب کے وس اوربس سے باہرہونایہ بھی غریب عوام کے لئے ہے۔؟جب سے اس عظیم کپتان نے اس ملک کانظام سنبھالاہے تب سے اس نے ایسی کوئی چیزپرانی قیمت پرنہیں چھوڑی جس کاذرہ بھی غریب عوام کے ساتھ کوئی تعلق یاواسطہ ہے۔کپتان کی تین سالہ حکمرانی پرنظردوڑائیں توبیگانے کیا۔؟اپنے بھی سرپکڑکردنگ رہ جاتے ہیں کہ اس ملک میں آخریہ ہو کیا رہاہے۔؟اس حکومت کی تین سالہ کارکردگی کودیکھ کرتحریک انصاف کے عام کارکن کیا۔؟حکومت کااپنا کوئی وزیراورمشیربھی یقین اورگارنٹی کے ساتھ یہ نہیں کہہ سکتا

کہ مسٹرعمران خان واقعی غریب عوام کے لئے حکومت واقتدارمیں آئے ہیں۔کپتان اگرعوام کے لئے اقتدارمیں آتے توکیاوہ اس طرح عوام کاہی جیناحرام کردیتے۔؟آپ یقین کریں جب سے اس ملک میں عمران خان کی حکومت آئی ہے تب سے یہاں غریبوں نے ایک منٹ کے لئے بھی سکھ اورچین کاکوئی سانس نہ لیاہوگا۔چین وسکون کیا۔؟اب توغریبوں کے شب وروزچینی کتنی مہنگی ہوگئی۔؟گھی کاآج کیاریٹ ہے۔؟بجلی اورگیس کے بل کتنے آئیں گے۔؟مارکیٹ میں آٹاہے کہ نہیں۔؟ اس قسم کے سوالات کہتے اورپوچھتے ہوئے گزرجاتے ہیں۔جن چوروںلوٹوں اورلٹیروں کے خلاف یہ ”صاحب“ میدان میں آئے تھے وہ چور،وہ ڈاکو،وہ لوٹے اورلٹیرے توآج بھی ان کے بغل اوردامن میں سایہ عافیت پاکر عیاشی کی زندگی گزاررہے ہیں لیکن جن غریبوں کواس کپتان نے بدعنوانی ،لوٹ ماراورمہنگائی سے پاک نئے پاکستان اورریاست مدینہ کے سپنے وخواب دکھائے تھے آج وہ بدقسمت تڑپ تڑپ کراس ملک میں زندگی گزار رہے ہیں۔ مہنگائی، غربت، بیروزگاری، بھوک اورافلاس کس بلاکے نام ہیں۔؟ یہ کوئی ایک وقت کی روٹی کے لئے رلنے، تڑپنے، چیخنے اورچلانے والے غریب سے پوچھیں۔ بنی گالہ میں تین سوکنال اراضی پربنے محل میں خراٹے مارنے والے کپتان کوکیاپتہ بھوک اور افلاس کیا ہوتی ہے۔؟اس عظیم کپتان اورتاریخی وزیراعظم کوتوشائدیہ بھی علم نہ ہوکہ اس ملک میں مہنگائی،غربت اوربیروزگاری نام کی بھی کوئی بلائیں ہیں۔جن کااپناپیٹ بھراہواہوان کوبھلاپھراوروں کی بھوک کہاں نظرآتی ہے۔؟کپتان بھی شائدنہیں یقینا یہ سمجھ رہے ہیں کہ اس ملک کے 22کروڑعوام بھی کہیں ان کی طرح تین اورچارسوکنال پربنے محلات میں خراٹے لے کرزندگی انجوائے کررہے ہیں۔پر۔ انہیں کوئی بتائے توسہی کہ خان صاحب یہ ملک ہے کرکٹ کاکوئی گراؤنڈنہیں کہ

جہاں سب ”عیاشی“ کرنے والے کھلاڑی ہوں گے۔یہاں غریب ہیں،مسکین بھی،محتاج بھی،حقیربھی اورفقیربھی۔اس ملک میں توایسے ایسے لوگ بھی رہتے ہیں جن کے پاس ایک وقت کے کھانے کے لئے بھی کچھ نہیں ہوتا۔اس ملک میں ہرجگہ نہ بنی گالہ ہے،نہ رائیونڈشریف اورنہ ہی بلاول شریف۔اس ملک میں جھونپڑیاں بھی ہیں،خیمے بھی ہیں اورتمبوبھی۔ان جھونپڑیوں،ان خیموں اورتمبوؤں میں جانور نہیں۔ خان صاحب۔ انسان بالکل آپ جیسے سمارٹ، نوازشریف جیسے شریف اوربلاول جیسے سادہ انسان رہتے ہیں۔پھران انسانوں کے سلمان،سلیمان،مریم اورآصفہ جیسے معصوم بچے بھی ہوتے ہیں۔ ہم مانتے ہیں کہ ان انسانوں کے یہ بچے سلمان،سلیمان اورمریم کی طرح اپنے ماں باپ سے کروڑوں کی گھڑیاں،لاکھوں کے جوتے اورہزاروں کے برگرتونہیں مانگتے لیکن آپ کے شہزادوں کی طرح ان کے ساتھ بھی پیٹ ہیں۔جب بھوک اورافلاس ان معصوموں کوتنگ کرتی ہے توپھریہ ان غریب اوربدقسمت ماؤں، بہنوں، بیٹیوں، بھائیوں اور بزرگوں سے جن کے ناتواں کندھوں پرآپ نے مہنگائی،غربت اوربیروزگاری کے پہاڑلاددیئے ہیں سے روٹی فقط روٹی مانگتے ہیں۔مماروٹی دیں نا۔ پاپا روٹی دیں نا۔لیکن تاریخ کے عظیم وزیراعظم اوربے مثال حکمران آپ یقین کریں کہ ان میں سے ہزاروں اورلاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں مائیں، بہنیں، بھائی،بیٹیاں اوربزرگ ایسے ہیں جن کے پاس ان معصوموں کودینے کے لئے وقت پرروٹی کاایک نوالہ بھی نہیں ہوتا۔خان صاحب بڑا تلخ، کڑوا اور دردناک ہوتاہے وہ لمحہ۔ جب غریب کابچہ روٹی کی خواہش ظاہرکرے اورغریب ماں باپ کے پاس اس کو دینے کے لئے روٹی کاایک نوالہ بھی نہ ہو۔اے ریاست مدینہ کے ”امیرالمومنین“ صرف ایک منٹ کے لئے فرض کریں کہ آپ کاسلمان یاسلیمان بھوک سے بلک بلک کرآپ سے روٹی مانگ رہاہواورآپ کے دراورگھرمیں روٹی کاایک نوالہ بھی نہ ہوتب آپ کے دل پرکیاگزرے گی۔؟اس ریاست جس کے آپ امیرالمومنین ہیں آج اس ریاست میں ایک دواورسوہزارنہیں بلکہ ہزاروں اورلاکھوں جھونپڑیوں، خیموں اورتمبوؤں میں یہی حالت ہے۔چھوٹے چھوٹے بچے بھوک اورافلاس سے بلک بلک کرتڑپ رہے ہیں مگران کے والدین کے پاس ان کودینے کے لئے کچھ نہیں۔اے وقت کے حکمران۔ہم مانتے ہیں کہ سابق حکمرانوں نے بھی ان غریبوں پرظلم کئے۔ سابق ادوارمیں بھی مہنگائی،غربت اور بیروزگاری بڑھی۔ لیکن اس قدرظلم کبھی نہیں ہوا۔ ہمارے کپتان آپ نے فقط تین سال میں ان غریبوں کے ساتھ جوکچھ کیاہے۔اللہ گواہ ہے کہ پہلے والے ستر سال میں بھی ان کے ساتھ ایسا نہیں کرسکے ہیں۔جتنی مہنگائی،غربت،بیروزگاری اور ظلم آج اس ملک کے اندرہے تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔پہلے چوروں کی حکمرانی میں یہ غریب مہنگائی،غربت اوربیروزگاری کے ہاتھوں کبھی کبھی جان دیا کرتے تھے لیکن آپ کی اس تاریخی حکمرانی میں اب یہ غریب روزجان دیتے ہیں اور روز جیتے ہیں۔ آپ نے اپنی تمام ترتوانائیاں، اقدامات اور کمالات مہنگائی، غربت اور بیروزگاری کو بڑھانے کے لئے اس طرح صرف کردی ہیں کہ اب غریبوں کے پاس تڑپ تڑپ کردنیا سے رخصت ہونے کے سوااورکوئی چارہ نہیں۔ کیا اب بھی غریب گھبرائیں نا۔؟