مشہور ماہر امور مشرق وسطیٰ کی تہلکہ خیز پیشگوئی

کراچی(ویب ڈیسک)ماہر مشرق وسطیٰ امور کامران بخاری نے کہا ہے کہ تالبان پہلے شکاری تھے اب شکار بن گئے ہیں افغان تالبان امریکا کے بغیرآئسز سے نہیں لڑسکتے، ، سینئر صحافی و تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا کہ خدشہ ہے کہ چین اور امریکا کی پراکسی وار افغانستان اور پاکستان میں نہ ہوجائے،

سینئر صحافی و تجزیہ کار طاہر خان نے کہا کہ داعش طالبان کیلئے کوئی بڑا خطرہ ثابت نہیں ہوں گے، وہ نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کررہے تھے، پروگرام کے آغاز میں میزبان شاہ زیب خانزادہ نے تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت خطے میں بدامنی کا سب سے بڑا خطرہ اسلامک اسٹیٹ خراسان کی شکل میں موجود ہے، اس نے حالیہ حملوں سے افغان تالبان کی پریشانیوں میں اضافہ کرنے کے ساتھ امریکی تھنک ٹینکس کو بھی سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ بدامنی کا خاتمہ کئے بغیر افغانستان سے انخلا درست فیصلہ تھا یا نہیں،سوال اٹھ رہا ہے کہ آئسز کا یہ چیپٹر گزشتہ سات سال میں افغان تالبان، افغان حکومت اور امریکا کی ناک کے نیچے کیسے متحرک ہوا، 2014ء میں جب آئسز عراق اورشام میں عروج پر تھی تو اس وقت افغانستان کے صوبے ننگرہار میں آئسز کو پہلی دفعہ منظم کیا گیا، پچھلے سات سال میں آئسز کا افغانستان چیپٹر کئی بدامنی کے واقعات میں ملوث رہا ہے، اسٹیٹ خراسان نے افغانستان سے لڑاکے بھرتی کئے، تالبان اور قاعدہ کے وہ اہلکار جو اپنی جماعت کو اتنا سخت گیر نہیں سمجھتے تھے یا کسی اور پلیٹ فارم کی تلاش میں تھے وہ اس میں شامل ہوتے رہے، یہ سب کچھ کیسے نظرانداز کیا گیا کیونکہ 2015ء میں افغانستان کے وہ علاقے جو کبھی تالبان یا قاعدہ کے کنٹرول میں تھے وہ آئسز کے کنٹرول میں آنا شروع ہوگئے تھے، الجزیرہ نے 2015ء میں ہی اس پورے معاملہ پر ایک تفصیلی رپورٹ بنائی تھی جس میں دکھایا گیا تھا کہ کیسے تالبان کے سابق لڑاکے آئسز میں شامل ہو کر افغانستان میں منظم ہورہے تھے اورافغانستان میں ابوبکربغدادی اکی حکمرانی میں خلافت کا دعویٰ کررہے تھے، رپورٹ میں دکھایا گیا تھا کہ آئسز میں مردوں کے ساتھ خواتین لڑاکے بھی شامل ہیں، اسٹیٹ خراسان سے نہ صرف امریکا کو خطرہ ہے بلکہ تالبان جن پر مغربی ممالک شرپسندی کا الزام لگاتے ہیں ان کو بھی خطرہ ہے، تالبان صرف افغانستان میں اسلامی حکومت قائم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں جبکہ آئسز پوری دنیا پر خلافت اور بزور طاقت حکومت بنانے کے سخت نظریے پر قائم ہے

Comments are closed.