مشہور پاکستانی کامیڈین خالد عباس ڈار کی کامیابیوں کا سفر اور کچھ حیران کن حقائق

لاہور (ویب ڈیسک) خالد عباس ڈارہماری قومی دنیائے فن کا ایک بڑا نام ہے وہ کئی دہائیوں سے اپنے شعبہ میں ایک ستارے کی طرح نہیں،بلکہ چاند ستارے کی طرح چمک رہے ہیں وہ اپنے فن میں یکتا ہیں۔ انہوں نے اپنی دنیا خود بنائی ہے اپنا مقام خود تراشا ہے

ان کے فن کا موازنہ کسی دوسری فنکار شخصیت سے کیا ہی نہیں جا سکتا ہے ویسے تو وہ “Entertainer” یعنی ہنسنے ہنسانے والوں میں شمار کئے جاتے ہیں اس شعبے میں ”ممی کری“ (نقالی) ”ون میں شو“ کرنے والے ہیں خود ہی سب کچھ کرتے ہیں۔نامور مضمون نگار مصطفیٰ کمال پاشا اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ کوئی سکرپٹ نہیں ہوتا،کوئی ریہرسل نہیں ہوتی ہے بس ایک شخص ناظرین و حاظرین کے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے اور پھر بس۔ یہ جا وہ جا ہو جاتی ہے ڈار صاحب اس ملک میں نقالی کے موجد اور جدا مجد یں خالد عباس ڈار کا کمال یہ ہے کہ وہ عمر عزیز کی سات دہائیاں گزارنے کے باوجود، ذہنی و جسمانی طور پر ہی نہیں،بلکہ فکری و عملی طور پر بھی، اب تک قائم دائم ہیں کشمیری ہونے کے ناتے وہ پیدائشی خوبصورت تو ہیں ہی، لیکن فطری طور پر فنکار ہونے کے ناتے، عظمت کی بلندیوں پر براجمان ہیں۔ ماہ و سال نے اس میں بوسیدگی نہیں بلکہ نکھار پیدا کیا ہے ان کے فن کا سفر 1962ء میں سکول کی بزم ادب سے شروع ہوا پھر گورنمنٹ کالج لاہور نے انکی فنکاری میں ندرت پیدا کی 1967ء میں انہیں ”نقالی“میں رول آف آنر ملا۔ گورنمنٹ کالج کی 156 سالہ تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا کہ نقالی کو ایک فن تسلیم کر کے خالد عباس ڈار کو ”بہترین نقال“ قرار دیا گیا۔ رفعتوں اور عظمتوں کا یہ سفر پھر رکا نہیں 1998ء میں صدارتی ایوارڈ تمغہ حسن کارکردگی،2007ء میں صدارتی ایوارڈ ستارہ امتیاز اور 2013ء میں

صدارتی ایوارڈ ہلال امتیاز حاصل کر کے انہوں نے دنیائے فن کی تاریخ میں ایک ریکارڈ قائم کر دکھایا۔ آج خالد عباس ڈار اپنے فن کے بام عروج پر بیٹھے ہیں۔”نقالی“ میں ان کا کوئی ہمسر نہیں ہے انہوں نے اس فن کی لمبائیوں،چوڑائیوں اور گہرائیوں کا خود تعین کیا ہے اس کے قواعد و ضوابط بھی خود ہی مرتب کئے ہیں وجہ یہ ہے کہ یہ فن ”عطائیوں“اور ”کسبیوں“ کے تصرف میں تھا خالد عباس ڈار اسی طرح اولین شخص ہیں جس نے اسے عزت بخشی۔ قابل قبول بنایا، جیسے لتا منگیشکر اور محمد رفیع نے گلو کاری کو بائیوں اور خان صاحبوں کے چنگل سے نکالا اور نئی عظمتوں سے ہمکنار کیا۔ گلوکاری ان سے پہلے ”میراثیوں“ کی سلطنت تھی محمد رفیع و لتا نے اس فن کو ایسے عطائیوں سے چھٹکارا دلایا بالکل اسی طرح ”نقالی“ بھانڈوں اور ڈوموں کے تصرف میں تھی خالد عباس ڈار پہلے نوجوان ہیں، جس نے اس فن کو ایک نئی پہچان دی ایک نئی ڈائریکڑ شن دی ایک نئی منزل دکھائی اور اسے گلی محلے اور شادی بیاہ سے نکال کر علم و فن، اشرافیہ اور ایوان بالا تک لے گئے۔ خالد عباس ڈار نے سات دہائیوں تک اس فن کی آبیاری کی اور اسے نئی رفعتوں اور عظمتوں سے روشناس اور ہمکنار کیا اور اب خود ہی، یک و تنہا اس تخت شاہی کے وارث ہیں آپ اپنے مزاج کے آدمی ہیں صاحب اقتدار کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے۔ حاضری نہیں لگواتے۔ اپنی مرضی سے کہیں جاتے ہیں گزشتہ دِنوں وزیر ثقافت خیال احمد کاسترو نے

پنجاب کلچر پالیسی 2021 ء کے حوالے سے دانشوروں و فنکاروں کو مشاورت کے لئے دعوت دی تو خالد عباس ڈار بھی تشریف لے گئے اور وہاں الحمرا کلچرل کمپلیکس میں با بائے قوم محمد علی جناح ؒ اور مصور پاکستان علامہ اقبالؒ کے ایستادہ مجسموں کو انکے حقیقی مقام تک لیجانے کے لئے ڈٹ گئے۔انہیں وزیر ثقافت خیال احمد کاسترو نے مجوزہ پنجاب کلچر پالیسی 2021ء پر رائے زنی کے لئے دعوت دی تھی، وہاں بڑے بڑے جید فنکار و دانشور بلائے گئے تھے ڈار صاحب نے کلچر پالیسی پر اظہار رائے کی بجائے وزیر موصوف کی توجہ قوم کے محسنوں کے مجسموں کی طرف دلائی اور ایک اہم اور انوکھی بات کہہ ڈالی کہ ہمارے یہ محسن ”سیاہ رنگ“ کے نہیں ہو سکتے ہیں یاد رہے یہ مجسمے عطاء الحق قاسمی نے بطور چیئر مین لاہور آرٹس کونسل 2013ء میں اور کیپٹن عطاء محمد خان، ایگزیکٹو ڈائریکٹر لاہور آرٹس کونسل / ذوالفقار علی زلفی، ڈائریکڑ آرٹس اینڈ کلچر (لاہور آرٹس کونسل نے 2018ء میں نصب کرائے تھے ان کی مثبت و ملی سوچ اور کاوشوں کو سلام۔ ڈار صاحب کا کہنا ہے کہ ان مجسموں کا سیاہ رنگ میں ہونا، توہین ہے انہیں دیکھ کر، یعنی محسنین کے مجسموں کو دیکھ کر سیاہ نہیں سفید اور کھلے پن کا احساس ہونا چاہئے۔ ان کی بات کی تائید کی گئی، اور وزیر ثقافت نے، اطلاعات کے مطابق، ان مجسموں کو ان شخصیات کے شایان شان رنگ دینے کے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔ سلام جناب خالد عباس ڈار صاحب۔ اطلاعات ہیں کہ اس حوالے سے کام تیزی سے شروع کر دیا گیا ہے۔